اُذْکُرُوْا مَوْتَاکُمْ بِالْخَیْرِ
مکرم عبدالسلام صاحب لون سابق صدر جماعت و نائب امیررشی نگر
خورشید احمد گنائی امیر ضلع شوپیان کشمیر
بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جان فدا کر
مرحوم الحاج عبدالسلام صاحب لون کی پیدا ئش 10؍مئی 1943ء کو ریشی نگر میں ہوئی تھی۔ آپ حضرت محمد رمضان پڈر صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پڑپوتی کے بیٹے تھے۔ابتدائی تعلیم مقامی پرائمری اسکول میں ہوئی تھی۔مڈل اور ہائی اسکول کاپرن سے تکمیل کو پہنچی تھی۔ میڑک اچھے نمبروں سے پاس کیا اور محکمہ تعلیم میں سال 1965ء میں بحیثیت اُستاد متعین ہوئے۔محکمہ ہذا میں کافی لگن ،محنت اور ایمان داری سے کام کیا۔ افسران بالا کی نگاہ میں احترام وعزت سے دیکھے جاتے تھے۔ بحیثیت انچارج ہیڈماسٹر 31؍ مئی 2001ء میں ریٹائر ہوئے۔ دوران ملازمت M.A Bed کیا۔ آپ بلند حوصلہ، بالغ نظری، دور اندیش اور صاحب الرائے انسان تھے۔ ساڑھے نو سال تک بحیثیت صدر جماعت احمدیہ ریشی نگر احسن رنگ میں خدمت کی توفیق پائی۔
خاکسار کا نہایت احسن رنگ میں حوصلہ بڑھایا بے لوث اور معتمدترین ساتھی کا رول نبھایا۔ مکرم الحاج عبدالسلام صاحب لون کو بحیثیت سیکرٹری مال، سیکرٹری وقف جدید، تحریک جدید، سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری امور عامہ اور مرحوم عبدالرحمٰن ایتو صاحب کے وقت میں نائب امیر جماعت کی خدمت بجالانے کی سعادت ملی۔ آپ نےتقریباً 60 سال مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی۔ کبھی پست ہمتی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ خاص کر ساڑھے نو سال کا عرصہ جس میں کہ بحیثیت صدر جماعت ریشی نگر خدمت کی ہمہ تن جماعت کے لئے اپنے آپ کو وقف رکھا۔ آپ نے کبھی بھی کسی کے ساتھ مخالفانہ رویہ نہیں اپنایا۔ مربیان اور معلمین کرام کے ساتھ ہمیشہ شفقت اور پیار سے پیش آتے تھے۔ مرکزی نمائندگان کی بےحد عزت کرتے تھے۔ اُن کے آرام و آسائش کا خاص خیال رکھتے تھے بے حد مہمان نواز تھے صاف گو اور نرم دل تھے۔ مرحوم 1991میں قادیان تشریف لے گئے اور جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے دیدار سے مشرف ہوئے۔اسی طرح حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے2005 ءکے دورہ مسعود قادیان کے وقت بھی قادیان آنے کی سعادت نصیب ہوئی اور حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دیدار سے مشرف ہوئے۔ بچپن سے قادیان جانے کا شوق تھا اور کئی بار سالانہ مجلس مشاورت میں جماعت کی نمائندگی کرتے رہے ۔قادیان سے دلی لگائو تھا۔بحیثیت استاد محکمہ ایجوکیشن میں ان کا ایک نام تھا۔ مکرم مرحوم نے علاقہ شوپیان اور علاقہ کولگام میں ہزاروں طلباء کو دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کیا۔ اپریل 1979ءکے فسادات میں دشمنان احمدیت نے جماعت احمدیہ ریشی نگر کے تمام مکانات نذر آتش کئے۔ مرکز کی طرف سے ایک ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مرحوم مکرم الحاج عبدالسلام صاحب لون نے بحیثیت سیکرٹری کام سر انجام دیا۔ نئی مسجد کی تعمیر کی منظوری اور تعمیر میں کلیدی رول ادا کیا۔
مرحوم نے اپنے پیچھے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی یادگار چھوڑے ہیں جو سب کے سب تعلیم یافتہ اور سرکاری ملازمت کررہے ہیں اور ایک بیٹا میڈیکل سٹور چلارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے عزیز واقارب کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے اور انہیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
جماعت کے نڈر اور بے باک ترجمان، شرافت اور سادگی کا مجسمہ، دیانت اور اخلاص کے پیکر تھے۔ کس کو علم تھا کہ مورخہ 22؍ اگست 2025ء بروز جمعہ نئی تعمیر شدہ مسجد مسرور ریشی نگر میں آپ کی آخری نمازجمعہ ہوگی اور اسی مسجد کے گراونڈ میں مورخہ 23؍ اگست 2025ء کو نمازجنازہ مکرم محمد شفیع گنائی صاحب واعظ امام الصلوۃنے پڑھائی۔
بہرحال خاکسار ایک بہترین رفیق اور ہمدر اُستاد سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوگیا جس پر خاکسار کو بے حد افسوس ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو انکا نعم البدل عطا کرے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے