اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-09

محترم مولوی عبدالواحد صاحب درویش مرحوم

اُذْکُرُوْا مَوْتَاکُمْ بِالْخَیْرِ
محترم مولوی عبدالواحد صاحب درویش مرحوم
امتہ الشافی رومی صاحبہ اہلیہ مکرم محمد موسیٰ صاحب قادیان

ایک فرشتہ صفت انسان ، شلوار قمیص میں ملبوس، سر پر پگڑی اور کمر جھکی ہوئی ہر وقت وضو کرتے اور نماز کیلئے مسجد جانے کی تیاری میں مصروف نظر آنے والی بزرگ ہستی میرے دادا جان محترم مولوی عبدالواحد صاحب درویش مرحوم تھے ۔ آپ کے والد صاحب کا نام محترم شیخ عبداللہ تھا ۔ آپ موضع گمرولہ پونچھ کے رہنے والے تھے ۔ سکھوں میں سے اسلام قبول کرنے کے بعد قادیان آکر درویشوں میں شامل ہو گئے تھے۔ آپ نے 1929ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ آپ نیک صالح تہجد گزار اور صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے ۔
آپکی شادی ہماری دادی جان مکرمہ کنجی فاطمہ صاحبہ سے 1956 میں ہوئی جو کہ مالابار کی رہنے والی تھیں۔ آپ کی دو بیٹیاں مکرمہ زینب نسرین صاحبہ اور مکرمہ بشری رقیہ صاحبہ ہیں جبکہ میرے والد مکرم عبدالمومن صاحب مالاباری میری دادی جان کے پہلے خاوند کے بیٹے ہیں۔ آپ نے ہمارے والد کے ساتھ سگے بچوں جیسا سلوک کیا۔ ہم بچوں کو کبھی اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ آپ ہمارے سگے دادا نہیں ہیں اور ہم بچوں کے ساتھ بہت محبت کا سلوک روا رکھا۔ دکان میں جب کوئی نئی کھانے کی چیز آتی تو پہلے گھر میں ہم بچوں کے لئے لے کر آتے۔
آپ صبح تہجد سے ہی مسجد مبارک چلے جاتے اور پھر فجر کی نماز کے بعد اپنی کریانے کی دکان جاتے اور صبح کا ناشتہ ہم بچوں میں سے ہی کوئی ان کے لئے لے کر جاتا۔ اور پھر سلسلہ شروع ہو جاتا غرباء کی امداد کا جو ضرورت مند آتا ادھار سودا لے جاتا اور پھر اس سے پیسے کا مطالبہ نہ کیا جاتا۔ کوئی اگر کہتا کہ میرے گھر چولہا نہیں جلا تو آپ بہت تکلیف محسوس کرتے اور اس کی ہر طرح سے مدد کرنے کی کو شش کرتے۔ حضرت الحاج مولوی عبدالرحمٰن صاحب رضی اللہ عنہ کو بھی اطلاع دیتے کہ فلاں ضرورت مند ہے۔
آپ دم بھی کیا کرتے تھے اورلوگوں کو میٹھی پھلیوں اور چینی پر دم کر کے دیتے اور خدا کے فضل سے آپ کے دم سے لوگوں کو شفا ہو جاتی۔ لوگ اپنی گائے، بھینسوں کے لئے بھی دم کرواتے کہ بیمار ہیں اور دودھ نہیں دے رہیں۔ دادا جان دم کر کے جانوروں کو کچھ کھلانے کے لئے دے دیتے۔ ان میں سے زیادہ ترلوگ گاؤں کے ہوتے اور پھر وہ گائے، بھینسوں کے ٹھیک ہونے پر بہت خوشی کا اظہار کرتے اور آپ کو گندم، چاول، ادرک لہسن تحفۃً دے جاتے۔
آپ گاہکوں سے مذاق بھی کرتے اور مزاہیہ شعر کہتے اور سامان فروخت کرنے کے ساتھ بچوں کو چونگا بھی دیتے۔ دکان میں سامنے پیپے جن میں آگے شیشہ لگا ہوتا ترتیب سے میز پر رکھے ہوتے ان پیپوں میں پھلیاں، بھنے چنے، میٹھے بھنے چنے، موٹی سیویاں، ریوڑیاں اور مونگ پھلیاںبھری ہوتیں اور دروازہ پر تلی ہوئی پیلے رنگ کی پھوکنیوں کے پیکٹ لٹک رہے ہوتے۔ داہنے طرف بھی کھانے کی اشیاء پیپوں میں ہوتیں جن میں رس اور بسکٹ وغیرہ ہوتے ان کے نیچے گھڑے میں کھانے کا چونا تیار کیا ہوا ہوتا اور پان کے لئے کتھا بھی بکتا تھا۔ اندر لمبی دکان جہاں تختے پر گندم اور دھان پھیلا ہوتا جسے صاف کرتے رہتے جو بعد میں غریب لوگوں کو دے دیا جاتا۔ ناشتہ اسی تخت پر بیٹھ کر کرتے تھے۔ ناشتے میں ایک دو کپ چائے اور پراٹھا یا سادی روٹی ہوتی۔ دوپہر اور رات کے کھانے میں آدھی روٹی تھوڑا سا سالن اور سالن اگر خشک ہو یا اس میں مرچ ہو تو اس میں تھوڑا سا دودھ ملا لیتے اور کھانے کے معاملہ میں کسی کو کبھی پریشان نہ کرتے اور کھانے کے بعد اپنے برتن خود پانی سے کھنگال کر رکھتے۔ سو کر اٹھتے تو اپنا بستر خود لپیٹ کر رکھتے ۔ پانچوں وقت کی نماز باجماعت مسجد جا کر ادا کیا کرتے۔ اگر نماز کے وقت کوئی گاہک آتا تو کہتے کہ شیطان آیا ہے اور دکان بند کرکے نماز کو چلے جاتے۔ آپ نے بہت سادہ زندگی گزاری۔پانچ وقت باجماعت نمازوں کے لئے مسجد جانا اور غریبوں سے ہمدردی یہی آپ کا دن رات کا وتیرہ تھا۔ آپ کا پیارا وجود ہمارے لئے قابل تقلید نمونہ تھا۔
آپ کی وفات 28 اگست 1989ء کو 86 سال کی عمر میں ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی ۔ اللہ تعالی آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور آپ کی اولاد میں آپ کی نیکیاں جاری فرمائے آمین ۔
٭٭٭ ٭٭٭