اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-02

ُرُوْا مَوْتَاکُمْ بِالْخَیْرِ محترم سید منظور احمد صاحب عرف علی احمد یکے از تابعین اصحاب احمدؑ اڈیشہ سید شاہد احمد سابق سیکرٹری اصلاح و ارشاد جماعت احمدیہ بھوبنیشور ، حال مقیم کٹک

سال 1973ء کے ماہِ جنوری کے ابتدائی سردی کے ایام تھے۔ راقم الحروف مع اپنے ایک دوست کے بھوبنیشور ریلوے اسٹیشن پر جلسہ سالانہ قادیان سے واپس آنے والے احباب کرام کے استقبال کا منتظر تھا۔ ٹرین رکی مختلف احباب ٹرین سے اترتے ہیں انکے سامان وغیرہ اتارنے میںان کے اقارب مصروف عمل ہیں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چھیاسٹھ سالہ بزرگ تن تنہا ایک چست و چوکس نوجوان کی طرح اترتا ہےاور اپناسامان لئے ایک طرف کو چل دیتا ہے۔ جب ہم آگے بڑھ کر اس جواں ہمت بزرگ کی جانب برائے سہارا لپکے تو انہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ ہماری خدمات قبول کرتے ہوئے ہمیں دعا دی پھر اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہوئے۔جانتے ہیں یہ بزرگ کون تھے؟یہ وہی بزرگ تھے جنہیں جماعت احمدیہ نیو کیپٹل بھوبنیشور کے پہلے صدر جماعت ہونے کی سعادت حاصل رہی۔ جنہوں نے اس جماعت کو پروان چڑھایا ۔ جس نے اپنے بعد آنے والے خادمان سلسلہ پیدا کئے۔ جن کی انتھک کوشش، محنت و دعا کی قبولیت سےسلسلہ کے بہت سارے فدائی و شیدائی نے جنم لیا۔وہ ایک معمولی سرکاری ملازمت کرنے والے محترم سید منظور احمد صاحب مرحوم عرف ’’علی احمد‘‘ تھے جن کی دعا، محنت اور لگن سے جماعت احمدیہ بھوبنیشور سن بلوغت کو پہنچی۔
محترم سید صاحب کی پیدائش قصبہ سونگڑہ ضلع کٹک صوبہ اُڈیشہ کے محلہ رسول پور نامی گائوں میں 30اکتوبر 1906ءکوہوئی ۔آپ کے والد محترم کا نام حضرت الحاج سید حاجی احمد علیؓ (عرف حاجی احمد)تھا جو سیدناحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر حاصل کی پھر محلہ گوہالی پور کے مقامی مدرسہ اور اپنے ماموں حضرت سید نیاز حسین صاحبؓ(صحابی حضرت مسیح موعودؑ)سےدینی تعلیم حاصل کی۔آپ کی ابتدائی تعلیم میں محترم سید غلام محمد صاحب مرحوم (1886-1971)اور محترم سید محمد محسن صاحب مرحوم (1968-1889)عطر فروش کا کردار رہا ہے۔میٹرک میں 1930ء میں کامیابی حاصل کی۔ بعد از فراغت تعلیم و شادی آپ کی پہلی ملازمت 27جنوری 1939ء کو سرکاری Treasaryمیں ہوئی۔ ازاں بعد 1952ء میں مکمل طور پر صوبہ اڈیشہ کے مرکزی secretariateکے محکمہ Finance Deptمیں تاریٹائرمنٹ ملازم رہے۔ ان ایام میں ہی آپ نے مقامی احباب کو یکجا کرکے ’’جماعت احمدیہ بھوبنیشور‘‘ کی بنیاد ڈالی اور تا حیات سوائے چند سالوں کے بھوبنیشور کے صدر جماعت رہے ۔
صوبائی سیکریٹیریٹ میں ملازمت کے دوران آپ نے بیشمار خدمت خلق اور خدمات سلسلہ کے کام انجام دیئے جن میں احمدی ، غیر احمدی اور غیر مسلم افراد کو ملازمت دلوانے اور رفاحی کاموں میں تعاون رہا۔ مزاج میں شفقت اور ہمدردی کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آپ ہی کی تربیت نے جماعت احمدیہ بھوبنیشور میں محترم سید عبید السلام صاحب مرحوم سابق صدر ،محترم سید محمد سرور صاحب مرحوم سابق ممبر صدر انجمن احمدیہ قادیان، محترم عبد القادرخان صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ بھوبنیشورویکے از مترجم قرآن بزبان اڈیہ، محترم سید عبد القیوم صاحب مرحوم سابق سکریٹری مال ، محترم سید بشیر احمد صاحب مرحوم ، محترم غلام احمد عبید صاحب مرحوم سابق سکریٹری امور عامہ ، محترم ڈاکٹر محمد انور الحق صاحب سابق صدر امیر و یکے از مترجم ترجمہ قرآن بزبان اڈیہ ، محترم سید تنویر احمد صاحب صدر مجلس وقف جدید قادیان، محترم سید نصیر احمد مرحوم سابق آڈیٹر قادیان، مکرم سید دائود احمد صاحب کارکن دفتر محاسب جیسے خادمان سلسلہ پیدا کئے۔
آج مسجد احمدیہ بھوبنیشور کی شاندار عمارت جو ’’ مسجد حمد‘‘ کے نام سے موسوم ہے ، یہ صرف اور صرف آپ کی انتھک کوشش ، متضرانہ دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے۔ مسجد کے پلاٹ کے حصول کے سلسلے میں آپ نے ہی حکومت کے وزراء اور بالا افسران سے متواتر رابطہ کیا اور اس سلسلہ میں مسلسل دوڑ دھوپ کرتے رہے۔ ازاں بعد مکرم پرونشل امیر صاحب اڈیشہ کے تعاون سے افسران و وزراء سے خط و کتابت کا سلسلہ جاری رکھا اور 23سال تک مسلسل کوشش کرتے رہے۔
محترم سید صاحب کی خود نوشتہ ڈائری و دیگر ریکارڈ وغیرہ کے مطابق مسجد احمدیہ بھوبنیشور کیلئے جناب سردار ہر چرن سنگھ برار صاحب سابق گورنر اڈیشہ کی منظوری سے 20جولائی 1977ء کوپلاٹ کی اجازت مل گئی۔جس کی رجسٹری 22جولائی 1977ء کو ہوئی پھر 5-اگست 1977ء کو دخل لیا گیا۔ مورخہ 29 -اکتوبر 1979ءکو بعد نماز جمعہ دعائوں کے ساتھ سنگ بنیاد رکھی گئی۔ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی نظر شفقت سے ’’ صد سالہ جوبلی منصوبہ‘‘کی سکیم کے تحت مسجد کی تکمیل ہوئی نیز سیدنا حضور رحمہ اللہ نے ہی مسجد کا نام ’’مسجد حمد‘‘ تجویز فرمایا۔ ازاں بعد مورخہ 18نومبر 1983ء کو محترم حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم ناظر اعلیٰ قادیان نے با ضابطہ افتتاح فرمایا۔ افسوس اس مبارک موقع پر محترم سیدمنظور احمد صاحب مرحوم موجود نہ تھے اوراپنے مولیٰ حقیقی کے حضور حاضر ہو چکے تھے۔ اللّٰھُمَّ اغْـفِرْ لَہٗ وَارْحَـمْہُ ۔
آپ کی طبیعت میں سادگی انکساری تھی۔ اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ چھوٹا قد، سفید رنگ، موٹی آنکھیں، اونچی ناک۔ سادگی کا یہ مرقع صرف نمازوں کے اوقات نظر آیا کرتا تھا۔ نماز بڑی وقار کے ساتھ ادا کرتے۔ تشہد رکوع و سجود میں بالکل بے جان معلوم ہوتے۔ جیسے جسم و جان کو خدائے واحد کے حضور سپرد کردیا ہو اور درحقیقت یہی وہ کیفیت نماز ہے جس پر اہل اسلام کو قائم کرنے کیلئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ سید منظور احمد صاحب مرحوم موصی تھے۔ آپ کا وصیت نمبر 7798ہے اور بہشتی مقبرہ قادیان میں زیر حوالہ نمبر 1375یادگاری کتبہ نصب ہے۔
آپ کےنیک نمونہ اور حسن خلق سے اعلیٰ حکام اسقدر مانوس ہو گئے تھےکہ آپ سلسلہ کے کسی بھی کام سے افسران سے رابطہ کے تو ان کا تعاون آپ کو حاصل رہتا۔ ناچیز راقم الحروف نے بھی کئی بار صوبائی سیکریٹریٹ میں ایسا واقعہ دیکھا ہے کہ آپ بے جھجک اعلیٰ سے اعلیٰ سرکاری افسران کے کمرے میں داخل ہوکر جماعتی کام کروا لیتے ۔ بسااوقات یہ بات بھی مشاہدہ میں آئی ہے کہ کسی بھی بالا افسران سے راستے میں آپ کا سامنا ہوتاتو افسران اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر آپ کو ادب و احترام سے سلام کرتے ۔ آپ ہی کے زمانہ صدارت میں محترم غلام احمد عبید صاحب مرحوم کی خصوصی معاونت سے محترم حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم و مغفور کو صوبائی حکومت نے اپنا مہمان خصوصی (State Guest)بنایا اور یہ اعزاز آپ کو تا وفات حاصل رہا۔
محترم سید صاحب کو احباب جماعت کی فلاح و بہبودی کا بہت خیال تھا ۔ افراد جماعت کی تربیت کے لئے انہیںبار بار اجلاسات میںبلاتے نیز تبلیغی وفود میں شامل کیا کرتے۔آپ نے بے شمار سرکاری افسران وزراء گورنر صاحبان و غیر مسلم معززین و علماء کرام کو بالمشافہ ملکر احمدیت کا پیغام پہنچایا۔ جب بھی اپنےوطن سونگڑہ آتے اپنے مخالف رشتہ داروں کو تبلیغ کرتے تا انہیں بھی احمدیت کی نعمت حاصل ہوسکے۔
خلفاء احمدیت و خاندان مسیح موعود علیہ السلام سے عشق تھا۔ با بار مرکز احمدیت قادیان جایا کرتے نیز سید نا حضرت المصلح موعودرضی اللہ عنہ کی زیارت کی خاطر1960ء میں ربوہ تشریف لے گئے۔اپنے اکلوتے بیٹے کی تعلیم و تربیت کیلئے اسےتعلیم الاسلام کالج ربوہ میں داخلہ کروایا ۔سید نا حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ؒ سابق پرنسپل تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے سپرد اپنے بیٹے کو کر آئے۔
آپ کی ساری زندگی خدمت دین، خدمت انسانیت اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لیے وقف تھی۔ اپنی 76 سالہ زندگی کے دور میں اپنے سارے کام اپنے ہاتھوںسے کرنا پسند فریا ۔اپنی روزی خودکماتے رہے۔ وفات سے قبل صرف اور صرف چندلمحہ مرض کی تکلیف محسوس کی ہسپتال پہنچتے ہی اپنی جان جان آفریں کے سپردکر دی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ آپ کی وفات مورخہ16اکتوبر 1982ء کو ہوئی ۔ازاں بعد اپنے آبائی قبرستان محلہ رسول پور،سونگڑہ میں تدفین عمل میں آئی۔
صوبہ اڈیشہ کی سب سے زیادہ کثیر الاشاعت اخبار’’ سماج‘‘نے درج ذیل الفاظ میںآپکو خراج تحسین پیش کیا۔
’’صدر جماعت احمد یہ بھونیشور کی وفات ‘‘
کٹک20 اکتوبر، عالمگیر جماعت احمدیہ کی شاخ بھوبنیشور کے صدر سید منظور احمد صاحب کی گزشتہ کل16اکتوبر 1982ءکی رات جنرل ہسپتال بھوبنیشور میں وفات ہو گئی ہے۔ وہ معمولی علالت کی بنا پرہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔ انکا جسد اطہر کو’’ یونٹ 4‘‘ میں مسجدمیںلاکر بغرض زیارت رکھا گیا تھا۔ ازاں بعد 17 اکتوبرکی شام صالح پور کے قریب محلہ رسول پور میں انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔وہ ایک نیک اور مذہبی شخصیت تھے۔ ملی خدمات کے علاوہ ہندو مسلم اتحاد کے تعلق میں انہوں نے مختلف اوقات میں بہت کام کیا۔
اخبار’’ سماج‘‘ کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر رادھا ناتھ رتھ صاحب نے اپنے تعزیتی پیغام میں افراد جماعت نیزانکے خاندان سے ہمدردی کا اظہار فرمایا اور دعادی کہ خدا تعالیٰ مرحوم کی روح کو سکون عطا کرے۔
(روزنامہ اخبارسماج مجریہ 21 اکتوبر 1982ءصفحہ2)
اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو بیٹیاں اور ایک بیٹا عطا کیا تھا۔ بڑی صاحبزادی محترمہ حبیبہ خاتون صاحبہ مرحومہ س(1931-1979) علاقہ پدنپدا( نیالی) کے ایک مستجاب الدعوات مخلص دوست محترم مولوی چوہدری خلیل الدین احمد خان فاضل مرحوم سے بیاہی تھیں۔ دوسری لڑکی سیدہ منصورہ خاتون صاحبہ مرحومہ (1951-1996) کی شادی کیرنگ میں ہوئی ۔ نیز لڑکےاخویم سید منصور احمد صاحب مرحوم کی وفات 2021میں ہوئی۔
مرحوم نے اپنے پیچھے کُل سات پوتے پوتیاں و نواسے یادگار چھوڑے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محترم سید صاحب مرحوم سے مغفرت کا سلوک فرمائے و اعلیٰ علیین میں جگہ دے نیز ہمیں بھی انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب ہو۔ آمین۔