نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ مکرم شیخ عبداللطیف صاحب مبلغ سلسلہ مؤرخہ یکم مئی 2025ء بروز جمعرات بعد نماز فجر صبح ٹھیک 4:30 بجے بمقام سورو (ضلع بالاسور، اڈیشہ) بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّالِلہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
مکرم مولوی شیخ عبداللطیف صاحب ابن مکرم شیخ ہدایت اللہ صاحب مرحوم کی پیدائش 1982ءمیں ہوئی۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کےبعد سال 2000ءمیں حصولِ تعلیم کےلیے جامعہ احمدیہ قادیان میں داخل ہوئے۔ سن 2007ء میں جامعہ احمدیہ قادیان سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مرکزکی طرف سے مختلف صوبہ جات میں خدماتِ سلسلہ کی توفیق پائی جن میں صوبہ آندھراپردیش، تلنگانہ ،کرناٹک،یوپی، سکّم اوراڈیشہ شامل ہیں۔آپ کا عرصہ خدمت 18 سال ہے۔اس عرصہ میں موصوف جہاں بھی متعین رہے جماعتی خدمات بڑی محنت،لگن اوروقف کی روح کو سمجھتے ہوئے ہرممکن انجام دینے کی کوشش کی۔
آپ کا دائرہ احباب بہت وسیع تھا۔ جہاں بھی سلسلہ کی طرف سے ڈیوٹی لگائی گئی جماعت کی تعلیم و تربیت پر باقاعدگی کے ساتھ بہت زور دیتے رہے۔ پابندی نماز کاہمیشہ فکر رہتاتھا۔نماز پڑھاتےہوئے رقت طاری ہوجاتی تھی۔ جس جماعت میں بھی رہے ہردل عزیزرہے۔عاجزی ، انکساری اورخودداری کے پیکر تھے۔ قناعت پسند، سلسلہ کی طرف سے ملنے والے مشاہرہ پرباوقار زندگی گزارا کرتےتھے۔مرکزی نمائندگان کی بہت عزت واحترام کرتے، حسب استطاعت ان کی مہمان نوازی کرتے۔ صبر وشکر کے ساتھ خداکی رضا پر راضی رہتےہوئے آپ نے دن گزارے۔
مرحوم نے اپنے پیچھےسوگوار بیوہ محترمہ صبیحہ بابرصاحبہ اور ایک لڑکی عزیزہ مفلحہ لطیف بعمر8سال اورایک لڑکا عزیز عادل احمد بعمر4سال اور معمروالدہ صاحبہ کو چھوڑاہے۔ایک چھوٹا بھائی شیخ عبدالعزیزقائد مجلس خدام الاحمدیہ سورو، اڈیشہ ہے۔ مرحوم خودمربی سلسلہ تھے۔اور الحمدللہ انہوں نے اپنی دونوں بہنوں کی شادی بھی مربیان سلسلہ سے ہی کروائی ہے۔جس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کے اندر مربیان کی کس قدر عزت واحترام تھا۔
موصوف جہاں بھی متعین رہے ہر جگہ نہایت اطاعت وفرمانبرداری اور وقف کے جذبہ کے ساتھ خدماتِ سلسلہ بجالاتے رہے۔ موصوف کوگردوں کی تکلیف تھی۔ dialysisچل رہاتھا۔ اس کے باوجود جب بھی جماعتی خدمت کا موقع ملتا بڑی لگن سے کرتے۔ وفات سے دو دن قبل بھی جماعتی تربیتی جلسہ میں شامل تھے اوروفات سے ایک دن قبل تبلیغی دورہ میں شامل ہوکر لیف لیٹ تقسیم کیاتھا۔ گویا آخری دم تک سلسلہ کی خدمت میں مصروف رہے۔
مکرم موصوف خاکسار کے برادر نسبتی تھے۔ نہایت شریف النفس،سنجیدہ،خاموش طبع اورتقویٰ شعار،خلافت کے شیدائی، صابروشاکر انسان تھے۔ حق گوئی اور بےباکی آپ کی فطرت میں پائی جاتی تھی۔ خودداری کے پیکر تھے۔
موصوف 7؍1کے موصی تھے۔ اُن کی شدید خواہش تھی کہ بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہو۔ مرحوم کی خواہش کو دیکھتے ہوئے اُن کی نعش کو بذریعہ ہوائی جہاز ہنگامی طور پر قادیان پہنچایا گیا۔ اس طرح مؤرخہ 2 مئی کو بعد نماز عشاء جنازہ گاہ میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین عمل میں آئی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔