اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-04

اُذْکُرُوْا مَوْتَاکُمْ بِالْخَیْرِ مکرم جی نیاز احمد قریشی صاحب آف بنگلور محمد کلیم خان مبلغ انچارج مڈیکری کرناٹک

مکرم جی نیاز احمد صاحب بنگلور کے قریشی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔آپ کی اہلیہ کے افراد خاندان کچھ تو احمدی ہیں اور باقی اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ آپ کو اپنے بڑے برادر نسبتی محترم محمد عظمت اللہ صاحب قریشی مرحوم کے ذریعہ جماعت احمدیہ کا پیغام وقتاً فوقتاً پہنچتا رہتا تھا۔اسی دوران جلسہ سالانہ قادیان کے انعقاد کی تاریخ اخبار بدر میں شائع ہوئی ۔ جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کی غرض سے خاندان کے بہت سارے افراد نے ارادہ کیا ۔ مکرم جی نیاز احمد صاحب قریشی بھی اس قافلہ میں شامل رہے ۔ دوران سفر تبلیغی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا قادیان دار الامان کے مقامات مقدسہ اور وہاں کے روحانی ماحول سے بہت متاثر ہوئے اور جلسہ سالانہ قادیان 1998 میں حضرت مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم و مغفور کے سامنے بیعت فارم پر کرکے جماعت احمدیہ مسلمہ میں شمولیت کی توفیق پائی الحمد للہ۔
جماعت احمدیہ مسلمہ میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد جماعت کی مسجد میں باوجود دور ہونے کے باقاعدہ نماز میں آنے لگے اورہر جماعتی پروگرام میں شامل ہونے
لگے۔ چونکہ آپ کا کاروبار بکروں کا تھا اور گوشت کی دکان بھی تھی۔ اور آپ کے غیر احمدی دوست احباب اور رشتہ دار بھی گوشت اور بکروں کا کاروبار کیا کرتے ہیں ۔جب ان کو مکرم جی نیاز احمد صاحب قریشی کے جماعت احمدیہ میں داخل ہونے کا علم ہوا توپوریSociety اور منڈی میں مخالفت کا طوفان اُمڈ آیا۔ پہلے ہی ان کے برادر نسبتی صاحبان کا برادری سےبائیکاٹ تھا۔ منڈی میں کوئی ان سے نہ بات کرتا تھا اور نہ ہی خرید و فروخت کرتا تھا۔ مخالفت اتنی زیادہ ہو گئی کہ بنگلور کے شواجی نگر جہاں اکثر آبادی مسلمانوں کی ہے،مخالفت کی وجہ سے اپنا ذاتی مکان فروخت کر کے دوسرے محلہ جہاں رشتہ دار آباد تھے ان کے قریب مکان خرید لیا اور وہیں مقیم ہو گئے ۔
مخالفت تیز سے تیز تر ہوتی گئی ۔ علماء کے بہکانے پر محلہ کے مخصوص مقامات پر اشتہارات چسپاں کر دیے گئے کہ
’’قادیانیوں کو قتل کرنا باعث ثواب ہے‘‘
پولیس کاروائی کی گئی تب جاکر مخالفت کچھ کم ہوئی۔
اسی اثناء میں مکرم جی نیاز احمد صاحب مرحوم اور شیواجی نگر کے دواحمدی احباب مکرم محمد عظمت اللہ صاحب قریشی
مرحوم جو کہ اس وقت جماعت کے سکریٹری تبلیغ ہوا کرتے تھے اور مکرم محمد عبیداللہ صاحب قریشی کو جمیعت القریش نے اپنے Hallassociationمیں بات چیت کرنے کی غرض سے بلایا جہاں ان کیAssociation کے جنرل سیکرٹری سے کچھ بات چیت ہوئی اورمزید جماعتی گفتگو کرنے کے لئے جنرل سیکرٹری صاحب نے آئندہ بلانے کے لیے کہا ۔ جب ان کے دیے ہوئے وقت کے مطابق ہمارا جماعتی وفد جس میں ان تین افراد کے علاوہ خاکسار اور محترم مولانا سلطان احمد صاحب ظفر جو کہ اس وقت مبلغ انچارج حیدرآباد تھے۔ اور مکرم محمد سلیم اللہ صاحب مرحوم جو کہ اس وقت سکریٹری امو عامہ کے عہدے پر فائز تھے۔ان کے آفس شام کے وقت پہنچے تو وہ اور ان کے علماء نے ہم سے کسی قسم کی گفتگو کرنے سے منع کر دیا ۔ جس کامکرم جی نیاز احمد صاحب پر ایک اچھا اثر ہوا کہ اگر یہ حق پرہوتے تو گفتگو سے کیوں منع کرتے ہر حال میں گفتگو کرتے۔
مکرم جی نیاز احمد صاحب پڑھے لکھے تو نہیں تھے مگر ذہین اور ایمان و یقین میں پکے تھے ۔ دوکان پر جب بھی موقع ملتا تبلیغ میں لگ جایا کرتے تھے ۔چندہ مکمل ادا ہونے کے باوجود کچھ نہ کچھ مرکزی نمایندہ کے آنے پر چندہ دیا کرتے تھے ۔
ایک بار بکروں کی منڈی میں مخالفت پھر سے شروع ہوگئی اور تمام لوگوں نے آپ سے سلام کلام بند کر دیا تو آپ نے ذاتی طور پر ایک اشتہار کسی سے لکھوا کر منڈی میں صبح سویرے ہی چسپاں کر دیا ۔جب مخالفین نے اس اشتہار کو پڑھا تو ان کے ہوش اڑ گئے اور پھر خاموشی کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔اس اشتہار میں مکرم جی نیاز احمد صاحب مرحوم نے لکھا کہ آپ لوگوں نے مجھ سے سلام کلام بند کر دیا ہے ۔ اگر آپ لوگوں میں کوئی سچائی ہے تو آؤ ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات کر لو۔ اور اے جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے والو اگر تم سچے ہو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر قرآن مجید کی رو سے زندہ ثابت کرکے دکھا دو تو میں تم کو وہیں پچاس ہزار روپے اپنی طرف سے نقد انعام دوں گا اور اپنے عقیدہ کو ترک کرکے آپ لوگوں میں شامل ہو جاؤں گا ۔
احمدیہ مسجد بنگلور سے حلقہ شیواجی نگر تقریباً دس کلو میٹر کے فاصلے پر ہےجہاں احمدی افراد کے قریب قریب مکانات ہیں ان کی سہولت کے لئے مکرم جی نیاز احمد صاحب نے اپنے مکان کے ایک حصہ کو خالی کر دیا اور وہاں باقاعدہ نماز باجماعت کا اہتمام کیا جاتا رہا ۔
آپ کی پہلی بیوی جو کہ غیر احمدی تھیں ان سے ایک بیٹا ہے۔ آپ کو ہمیشہ یہی فکر رہتی کہ کسی طرح ان کا بیٹا بھی جماعت میں شامل ہو جائے۔ اس کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور قادیان دار الامان بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر لیکرگئے ۔مگر وہ جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار نہ کر سکا ۔
آپ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔ وفات سے دو تین دن قبل جماعتی اجلاس میں شریک ہوئے ۔13 فروری 2025 کی صبح خود ہی گھر کے قریب ایک ڈاکٹر کے پاس چلے گئے وہ انجکشن تیار کر ہی رہا تھا کہ کرسی سے نیچے لڑھک گئے اور وہیں آپ کی وفات ہو گئی ۔انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ بوقت وفات آپ کی عمر 76 سال تھی۔ دوسرے دن بنگلور کے احمدیہ قبرستان میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور بعدہ تدفین عمل میں لائی گئی ۔ کثیر تعداد میں افراد جماعت نے شمولیت کی ۔
آپ بے انتہا مہمان نواز، مرکزی نمائندگان کا احترام کرنے والے تھے۔مقامی مبلغ صاحب کے ساتھ نہ صرف ذاتی رابطہ ہوا کرتا تھا بلکہ اپنے محلے میں تعلیم و تربیت کی خاطر آنے کے لیے کہا کرتے تھے اور اپنے گھر میں اجلاس کا انتظام کیا کرتے اور ہر ممکن آپ اور آپ کی اہلیہ محترمہ مہمان نوازی کرتے ۔
آپ کی اہلیہ محترمہ ناظرہ بیگم صاحبہ ایک نیک اور متقی خاتون ہیں ۔جماعتی کاموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ توفیق دی کہ اپنے شوہر کو ہر ممکن جماعتی معلومات فراہم کرتی رہیں ۔
آپ کی تین بیٹیاں ہیں: محترمہ نسیمہ انور صاحبہ اہلیہ مکرم محمد انور اللہ صاحب بنگلور ، محترمہ عائشہ مقصود صاحبہ اہلیہ مکرم مقصود احمد صاحب بنگلور اورمحترمہ تسنیم مظہر صاحبہ اہلیہ مظہر احمد قمر صاحب بنگلور ۔اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ تینوں بیٹیاں صاحب اولاد اور مخلص احمدی ہیں۔ الحمد للہ ۔مکرم جی نیاز احمد صاحب مرحوم خلافت کی ہر آواز پر لبیک کہنے والے اور خلافت کی ہر تحریک پر حصہ لینے والے تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے اور اپنے قرب خاص میں مقام عطا فرمائے ۔آپ کی اہلیہ محترمہ اور بچیوں کو آپ کی نیکوں کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر