اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-28

میرے والد مکرم عبدالوہاب وگے صاحب عاقب احمد وگے مبلغ سلسلہ انسپکٹر نظامت مال وقف جدید قادیان

مورخہ19 اپریل2025ء کو خاکسار کے والد صاحب اس دنیائے فانی سےرخصت ہوکر اپنے مولائے حقیقی سے جاملےانا للہ وانا الیہ راجعون۔والد صاحب کا نام عبد الوہاب وگےتھا۔ آپ ضلع شوپیان کے گاؤں ترنج لنگنڈورہ کے رہنے والے تھے۔آپ کی شادی ایک احمدی گائوں آسنور ضلع کولگام میں ہوئی۔ آسنور کی پوری جماعت احمدی ہے۔ میری والدہ صاحبہ احمدی تھیں جبکہ والد صاحب غیر احمدی تھے۔ یہ شادی وہ ذریعہ تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں احمدیت کا راستہ دکھایا کیونکہ میری والدہ جماعت سے والہانہ محبت کرتی تھیں اورآج بھی کرتی ہیں، اسی محبت کی وجہ سے ہمارا گھر احمدیت کے ساتھ مضبوطی سے جڑا رہا ۔ والدہ صاحبہ چونکہ آسنور کی تھیں اسلئےہمارا آسنور آنا جانا ہوتا رہتا تھا۔ ہمارا آسنور آنا جانا ہمارے گاؤں ترنج لنگنڈورہ والوں کو چبھتا تھا۔
گائوں والے ایک دن ہمارےگھر آئے اور کہنے لگے کہ آپ لوگ توبہ کرو اور آسنور آنا جانا چھوڑ دو ہمارے والد صاحب چونکہ غیر احمدی تھے، اور احمدیت کا ان کو کچھ علم نہیں تھا،اور ہم بھی چھوٹے تھے اس لئے ہماری والدہ ہی گاؤں والوں کے ساتھ بات کرتی تھیں۔ میری والدہ نے اُن سے پوچھا کہ ہمیں آسنور جانے سے کیوں منع کیا جاتا ہے؟ گاؤں والوں نے بتایا کہ وہ مرزائی ہیں ، مسلمان نہیں ہیں۔ وہ آنحضرتﷺ کو نہیں مانتے ہیں۔میری والدہ نے ان کو کہا کہ ایسی بات ہرگز نہیں ہے۔اگر یہ ثابت ہوجائے کہ ہم آنحضرت ﷺ کو نہیں مانتے تو ہم اُسی وقت توبہ کرلیں گےاور جیسا آپ لوگ کہیں گے ویسا ہی کرینگے۔
میری والدہ صاحبہ نے گاؤں سے اپنے بھائی کو بلوایاتاکہ وہ گاؤں والوں کو سمجھائیں اور اُنہیں حقیقت سے آگاہ کریں۔ لیکن بھائی کے آنے سے پہلے اُنہوں نے اگلے ہی دن کسی مولوی کو بلایا اور گائوں کی مسجد میں جماعت کے خلاف اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا اور گائوں والوں کو کہا کہ اگر یہ مانتے نہیں توان کے ساتھ بائیکاٹ کرو اور پورے ضلع میں پوسٹر لگادو۔ بعینہ ایسا ہی گائوں والوں نے کیا اور پوسٹر پر میرے والد صاحب کا نام عبدالوہاب کی جگہ مرزا عبد الوہاب لکھا گیا اور لین دین سے پورے ضلع کو منع کیا گیا۔ خیر اس چیز سے ہمیں کوئی ڈر نہیں لگا بلکہ جماعت کی طرف پہلے سے زیادہ رغبت ہونے لگی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں جماعت کی طرف کھینچنا شروع کردیا۔
والدہ صاحبہ تو پہلے ہی سے احمدی تھیں اور گاؤں والوں کو ان کے اعتراضات کا جواب دیتی تھیں، اب ہمارا رجحان بھی احمدیت کی طرف بڑھنے لگا۔خاکسار نے احمدیت کا مطالعہ کیا۔ قادیان جاکر قادیان دیکھا، احمدیت کو قریب سے دیکھااور بیعت کرکے ایک اچھا مبلغ بننے کا ارادہ کیا۔چنانچہ اللہ کے فضل سے خاکسار 2022ءمیں جامعہ سے فارغ ہوااور شاہد کی ڈگری حاصل کر کےابھی دفتر وقف جدید مال میں بطور انسپکٹر خدمت بجا لارہا ہے ۔الحمد للہ۔
خاکسار کے بعد سوائے والد صاحب کے گھر کے تمام افراد نے بیعت کرلی۔ والد صاحب نے گرچہ کہ خود بیعت نہیں کی لیکن ہمیں بیعت کرنے سے نہیں روکا۔ اس کے بعد جماعت کی طرف سے ہمارے گھر میں ایم . ٹی.اے لگا ،میرے والد صاحب ایم ٹی اے کے پروگرام دیکھ کر حیران ہوتے تھے اور جہاں ان کو کچھ سمجھ نہیں آتا تھا وہاں پوچھتے تھے۔ ایک دن خود ہی کہنے لگے کہ میں نے بھی بیعت کرنی ہے اور اللہ کے فضل سے والد صاحب کو بھی بیعت کرکے جماعت میں شمولیت کی توفیق ملی الحمد للہ علی ذالک۔
والد صاحب کو گاؤں والے پوچھتے تھے کہ آپ کیوں جماعت میں داخل ہوئے تو والد صاحب ایک ہی جواب دیتے تھے کہ تم جس جماعت پر یہ الزام لگاتے ہو کہ وہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے ہیں اُن کا ایک ٹی وی چینل ہے اس میں آنحضرت ﷺ کے نام کے بغیر کوئی پروگرام ہی نہیں ہوتا ہے، اگر یقین نہیں آتا ہے تو ہمارے گھر آجاؤ خود ہی دیکھو۔ ایک دن پاس کے ہی ایک غیر احمدی کو اپنے ساتھ لائے حضور انور کا خطبہ چل رہا تھا خطبہ سن کر وہ شخص متاثر ہوا۔گاؤں والے اب ہمارے ساتھ اچھے سے پیش آتے ہیں۔
میرے والد صاحب انتہائی شریف النفس انسان تھے ۔ نماز کبھی بھی نہیں چھوڑتے تھے ،جمعہ کے دن پیدل چار پانچ کلو میٹر چل کرجماعت صوفن نامن نماز پڑھنے جاتے تھے۔اور ہمیں بھی ہمیشہ نماز کی تلقین کرتے تھے۔ قادیان سے بہت لگاؤ تھا۔ گزشتہ سال جلسے میں آئے تھے تقریبا ًڈیڑھ ماہ یہاں رہ کے گئے۔بہت مہمان نوازتھے ،مہمانوں کے آنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔رشتہ داری کا بہت خیال رکھتے تھے۔ جب ہم احمدی ہوئے تو جو غیر از جماعت رشتہ دار تھے ان کا آنا جانا کم ہوگیا لیکن جب بھی وہ آتے تھے بڑے خوش ہوتےتھے۔ رشتہ داروں سے حسن سلوک کی ہمیں تلقین کرتے۔ اگرکوئی رشتہ دار بیمار ہوتا تھا اس کی عیادت کے لئے فوراً جاتے تھے۔زبان کے پکے تھے ۔ کثیر تعداد میں احمدی انکے جنازے میں شامل ہوئے۔
اللہ تعالیٰ والد صاحب سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اور سبھی گھر والوں کو ان کی خوبیاں اپنانے کی توفیق دے ۔ اللہ تعالی ہمیں زیادہ سے زیادہ سلسلہ کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور جس غرض کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کی بنیاد رکھی ہے اس غرض کو پورا کرنے کے توفیق دے۔ آمین۔