اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-06

محترم مولوی محمد ایوب ساجد صاحب واقفِ زندگی کا ذکر ِ خیر

افسوس! محترم مولوی محمد ایوب ساجد صاحب مبلغ سلسلہ 06 ؍ مئی 2026ء کو قادیان دارالامان میں وفات پاگئے۔ آپ کوریل (کشمیر) کے رہنے والے تھے اور چودہ سال کی عمر میں زندگی وقف کرکے قادیان تشریف لائے تھے۔ آپ کے والد صاحب کا نام مکرم عبدالخالق صاحب تھا جو کہ گاؤں کے نمبردار تھے اور ایک مخلص اور فدائی احمدی تھے اور دو مرتبہ اپنے گاؤں سے پیدل چل کر پیر پنجال کی دُشوار گزار پہاڑیاں طے کرتے ہوئے قادیان تشریف لائے تھے۔

آپ جولائی 1952ء میںپیدا ہوئے۔ جون 1967ء میں مدرسہ احمدیہ قادیان میں داخلہ لیا اور 1974ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ آپ کی پہلی تقرری سلواہ (ضلع پُونچھ) میں ہوئی تھی جس کے بعد آپ کو 42 سال میدان تبلیغ میں خدمت کی توفیق ملی۔

بعد ازاں قادیان میں آپ بطور ایڈیشنل ناظم وقف جدید بیرون، نائب ناظر نشرواشاعت، مینیجر اخبار بدر، قاضی سلسلہ اور ممبر قضا بورڈ کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔ اخبار بدر میں بھی آپ کو مضامین لکھنے کا موقع ملا۔

آپ ایک نیک، مُتقی، صوم و صلوٰۃ کے پابند اور ملنسار خادم سلسلہ تھے۔ آپ کی شادی مکرم قریشی یونس احمد صاحب اسلم درویش کی بیٹی مکرمہ امتہ الرشید نرگس صاحبہ سے ہوئی تھی۔ امتہ الرشید صاحبہ کی چند سال قبل وفات ہوگئی تھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا تھا۔ آپ کی چاروں بیٹیاں شادی شدہ ہیں جبکہ بیٹا مکرم سلطان محمد احسن صاحب آجکل امریکہ میں زیر تعلیم ہیں۔

آپ کا گھر وادی کشمیر کے ہر احمدی مہمان کیلئے مہمان خانہ تھا۔ اکثر مہمانوں سے بھرا رہتا تھا اور جلسے کے موقع پر مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے بعض دفعہ سونے کیلئے آپ کو باہر جانا پڑا۔

آپ موصی تھے۔ بہشتی مقبرہ قادیان میں 09 ؍مئی کو تدفین عمل میں آئی جس میں کشمیر کے علاوہ دُور و نزدیک کے اقارب اور مبلغین و معلمین سلسلہ شامل ہوئے۔ آپ کے ایک نواسہ مکرم حمید محمود خان صاحب امسال جامعہ احمدیہ یوکے سے تعلیم مکمل کرچکے ہیں اور میدان عمل میں قدم رکھ رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے اور اعلیٰ علین میں اپنے قرب میں جگہ نصیب کرے۔ آمین۔

(خاکسارمحمد طیّب مربی سلسلہ نظارت نشرواشاعت قادیان)