محترم سید عبد المنعم صاحب مرحوم عرف ابوا لفضل کی ولادت صوبہ اڈیشہ کے قصبہ سونگڑہ کے محلہ گوہالی پور (جیرام پور)کے ایک سادات گھرانے میں 1901ء میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام سید رسول بخش(1864-1951)اور والدہ کا نام عائشہ بی بی (متوفیہ 18فروری 1953)تھا۔محترم سید رسول بخش صاحب مرحوم کو حضرت مولوی سید عبد الرحیم صاحب رضی اللہ عنہ کٹکی (متوفی 12جنوری 1916ء)کے ذریعہ 1900ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری بیعت کرنے کی سعادت حاصل رہی ۔
(الحکم 10فروری 1900ء صفحہ 10نمبر 5جلد 4)
تعلیم : محترم سید عبد المنعم صاحب مرحوم کی ابتدائی تعلیم اپنے محلہ میں ہوئی۔ ازاں بعد اپنے والد کے جائے ملازمت ’’جاجپور‘‘سے میٹرک 1st divisionسے کامیاب ہوئے ۔پھر صوبہ اڈیشہ کے مشہور Revenshaw Collegeکٹک سے ایف اے کی اور کلکتہ سے بی اے کی ڈگری حاصل کی پھر پٹنہ یونیورسٹی سے D.Edکی۔
ضمناً عرض ہے کہ راقم الحروف کی والدہ محترمہ سیدہ مبشرہ خاتون صاحبہ مرحومہ (1964-1907) جو مرحوم کی تایازاد بہن و نسبتی ہمشیرہ تھیں، کا بیان تھا کہ بی اے کی تعلیم کے لئے صوبہ اڈیشہ میں داخلہ نہ ہوسکنے پر آپ کے خسر محترم مولوی سید انعام رسول صاحب کٹکی (1875-1944) سابق امیر جماعت احمدیہ کلکتہ نے کثرت سے دعا کی تو تواتر سےالقاء ہوا کہ ’’Presidency College ‘‘ لہٰذا اس بنا پر مذکورہ کالج میں جو کہ کلکتہ میں تھا بی اے کی تعلیم کے لئے داخلہ مل گیا ۔ الحمد للہ علی ذالک۔
علمی خدمات:
آپ تا حیات صوبہ اڈیشہ کے ’’Odasingh‘‘ کٹک و صالح پور ہائی اسکولوں میں شعبہ تواریخ کے استاد رہے۔ مزید برآں صالح پور ہائی اسکول میں تا وفات ہیڈ ماسٹر کے عہدے پر فائز رہے ۔آپ کو تواریخ کی تعلیم پر زبردست عبور حاصل تھا۔
آپکی علمی و عملی قابلیت دیکھ کر حکام نے آپ کو جج کورٹ کے جوری کا ممبر بھی بنا دیا جس پر آپ نے کافی عرصہ کام کیا۔علاوہ ازیں اُس وقت کی حکومت کی محکمہ تعلیم نے آپکو علم تواریخ کا Executive headبھی مقرر کیا جسے آپ با احسن خوبی انجام دیتے رہے۔ (الفضل 8 فروری 1951ء)
ایک موقع پر آپ نے ایک انگریز گورنر کو اپنی جائے ملازمت یعنی صالح پور مدعو کیا تھا جسے انگریز گورنر نے قبول کیا اور حاضر ہوئے۔ یہ ایک غیر معمولی بات تھی جس سے کہ آپ کی قابلیت اورہردلعزیز ہونے کا پتا چلتا ہے۔
تصنیف:
ایک کامیاب تاریخ دان ہونےکی حیثیت سےآپ نے اپنی ملازمت کے دوران صوبہ اڈیشہ کے ہائی سکولوں کے نصاب کیلئے ’’A Popular History Of India‘‘کے نام سے ایک کتاب بھی تصنیف فرمائی ۔ مذکورہ کتاب کے صفحہ 246 تا 247 میں آپ نے ’’مذہبی مصلح‘‘ کے عنوان سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تذکرہ ’’Ahmad Of Qadian‘‘ کے نام سے کیا۔ مذکورہ کتاب کے تعلق سے آپ کے بڑے بیٹے محترم مولوی سید فضل عمر صاحب کٹکی مرحوم(1922-1999)مبلغ سلسلہ احمدیہ کا بیان تھا کہ مورخہ 17؍ اپریل 1947 کی بات ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے قصر خلافت قادیان میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سے مل کر مذکورہ کتاب پیش کرنے پر بعد ملاحظہ حضور رضی اللہ عنہ نے از راہ شفقت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ (بدر 29مارچ 2001ءصفحہ 8)
خدمات سلسلہ :
محترم سید عبدالمنعم صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمات کی سعادت بھی عطا فرمائی۔آپ کو خلافت احمدیہ سے بے پناہ عقیدت تھی۔ ایک وقت میں ہندوستان کی ایک سیاسی پارٹی نے آپ سے گرویدہ ہوکر آپ کو ماہانہ پانچ صد روپے کی ملازمت کی پیشکش کی تو آپ نے سلسلہ کے وقار کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے ٹھکرا دیااور اپنی ماہانہ آمد مبلغ ساٹھ ستر روپے پر ہی قناعت کی۔
جن دنوں سونگڑہ میں مخالفین احمدیت نے احمدیوں پر طوفان بدتمیزی برپاکی تھی تو آپ نے بڑی جوانمردی سے اس کا قلع قمع کیا و حفاظتی اقدامات کئے۔
1949ء میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے آپ کو ’’امیر جماعت احمدیہ سونگڑہ ‘‘ مقرر فرمایا (بحوالہ چٹھی حضرت ناظر صاحب اعلیٰ 03-522/12-12-1948) پھر آپ کو 1950ء تا 1953ء کیلئے ’’نائب امیر صوبہ اڈیشہ ‘‘ مقرر فرمایا(بدر قادیان 28مئی 1950ء صفحہ نمبر 2) افسوس کہ آپ کی عمر نے وفا نہ کی اور مورخہ 6 دسمبر 1950ء کو مختصر علالت کے بعد اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ وَارْحَمْہُ وَاَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ۔آمین ۔آپ کی تدفین احمدیہ قبرستان کٹک میں ہوئی ۔ مذکورہ قبرستان میں آپ کی پہلی اہلیہ بھی مدفون ہیں جبکہ آپ کی دوسری اہلیہ سونگڑہ کے محلہ کوسمبی کے قبرستان میں مدفون ہیں ۔ مرحوم موصی تھے ۔آپ کا وصیت نمبر 11133ہے اور بہشتی مقبرہ قادیان میں زیر حوالہ 783یادگاری کتبہ نصب ہے۔
بزرگان کا بیان ہے کہ مرحوم غریب پرور ، ہمدرد، عبادت گزار و شفیق انسان تھے ۔ آپ اپنوں اور غیروں میں بھی بہت مقبول رہے۔ آپ نے اپنے بچوں کو احمدیت و خلافت سے بہت اچھی طرح وابستہ رکھا۔اللہ تعالیٰ آپکے درجات بلند فرمائے ۔آمین۔
شادی و اولاد:
محترم سید عبدلمنعم صاحب مرحوم نے دو شادیاںکی تھیں ۔ پہلی زوجہ محترمہ سیدہ مطہرہ خاتون صاحبہ مرحومہ بنت محترم مولوی سید انعام رسول صاحب کٹکی مرحوم( 1944ء تا 1875 ء) امیر جماعت احمدیہ کلکتہ کے بطن سے اخویم محترم سید فضل عمر صاحب کٹکی مرحوم (1922ءتا 1999ء) تھے۔آپ کو بحیثیت مبلغ سلسلہ مقبول خدمات کی توفیق ملی ۔
پہلی بیوی کی وفات کے بعد آپ نے سیدہ محترمہ خاتون صاحبہ مرحومہ بنت محترم حکیم مولوی سید عبد الحلیم صاحب عدم کٹکی مرحوم سے شادی کی جنکے بطن سے مندرجہ ذیل 3 بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئیں۔
(1)محترمہ سیدہ فریدہ خاتون صاحبہ مرحومہ زوجہ محترم سید عبید السلام صاحب مرحوم سابق صدر جماعت احمدیہ بھونیشور و سونگڑہ۔
(2)محترم اخویم سید محمد سرور صاحب مرحوم (1934ءتا 2020ء)ممبر صدر انجمن احمدیہ قادیان و صدر قضاء بورڈ قادیان۔
(3)محترم اخویم سید عبد المصور صاحب مرحوم کٹکی سابق کارکن نظارت امور عامہ قادیان۔
(4)محترمہ سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ بیوہ محترم غلام محمود علی صاحب ٹی ٹی مرحوم بھدرک ۔
(5) محترمہ سیدہ شاہدہ خاتون صاحبہ مرحومہ زوجہ محترم سید مذکر الدین احمد صاحب مرحوم سونگڑہ ۔
(6) اخویم سید حفیظ احمد صاحب مقیم محلہ کوسمبی سونگڑہ۔(ولادت 1945)
اللہ تعالیٰ نے محترم سید عبد المنعم صاحب مرحوم کے تینوں بیٹوں کو کسی نہ کسی رنگ میں خدمات دین کی توفیق عطا فرمائی ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو شرف قبولیت عطا کرے ۔آمین۔
…٭…٭…٭…