مکرم پی اے عبدالرحمن صا حب مرحوم کی پیدائش منگلور میں ایک ممتاز اور تعلیم یافتہ غیر احمدی خاندان میں ہوئی ۔آپ کے والد صا حب کا تعلق اہل سنت مسلک سے تھا۔آپ کی پیدائش 26جنوری 1950میں ہوئی ۔ آپ کواللہ تعالیٰ نے1972 میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ۔آپ گورنمنٹ اردو اسکول موڈ بدری سائوتھ کرناٹک میں اردو ٹیچر تھے۔دوران ملازمت اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ بیعت کرنے کے بعد مخالفت شروع ہوگئی جس کی وجہ سے ملازمت چھوڑنی پڑی ۔رشتہ داروں نے بھی مخالفت کی ہر طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سےپورے ایمان و یقین سے احمدیت پر ثابت قدم رہے۔آپ کی رہائش منگلور میں تھی ۔مخالفت بہت زیادہ ہوگئی اور مخالفین نے معاشرے سے بائکاٹ کردیا ۔اس کے بعد مجبوراًــــ1982میں ہجرت کر کے مڈیکری کرناٹک میں مقیم ہونا پڑا۔
آپ کو قرآن کریم بہت حفظ تھا۔خوش الحانی کے ساتھ ساتھ بہترین تلفظ سے قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔بہت سارے بچوں اور بڑوں کو قرآن کریم پڑھنا بھی سکھایا ۔
جماعت کے مختلف عہدوں پر خدمت کرنے کی توفیق ملتی رہی ۔صدر جماعت مڈیکری رہے۔اور بوقت وفات سیکریڑی تعلیم القرآن کے طور پر خدمت کی تو فیق پا رہے تھے۔
آپکو دل کی تکلیف تھی ۔مگر مسلسل نماز باجماعت کی ادائیگی کے لئے باوجود مسجد دُور ہونے کے مسجد میںحاضر ہو جاتے کئی بار تو پیدل ہی آجاتے ۔بہت دفعہ عصر سے لیکرعشاءتک کا وقت مسجد میں گزارتے اور علمی گفتگو میں شامل رہتے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور جماعتی کتب کا گہرامطالعہ تھا۔آپ نےجماعتی کتب کا گہرامطالعہ کرکے احمدیت قبول کی تھی ۔بیعت کرنے کے بعد بھی ہمیشہ اپنے مطالعہ کو جاری رکھا۔
آپ کی شادی 1973میں محترم کے .ایس عمر صا حب مڈیکری کی بیٹی محترمہ ایم. یو.فاطمہ رحمن صا حبہ سے ہوئی ۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا مکرم ایم اے رضوان صا حب اورتین بیٹیوں سے نوازا۔آپ نےاپنی اولاد کی بہترین تربیت کی۔آپ کی بہو محترمہ رومانہ رضوان صا حبہ کو صدر لجنہ اماء اللہ مڈیکری کرناٹک کے طور پر خدمت کا موقع اللہ تعالیٰ نے عطا ء فرمایااور اب ضلعی صدر لجنہ اماء اللہ بنگلور کے طور پر خدمت کی توفیق مل رہی ہے ۔ آپ کے دو پوتے اور ایک پوتی ہے اور10نواسے نواسیاں ہیں ۔ان میں سے چار وقف نو کی با برکت تحریک میں شامل ہیں ۔
آپ اخبار بدر کے ہر شمارہ کا بغور مطا لعہ کرتے اور دوسروں کو بھی سناتے ۔حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطا بات اور خطبات خود سنتے اور اہل خانہ کو سننے کی تاکید کیا کرتے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دل و جان سے اطاعت کرتے اور خلافت کی ہر تحریک پر لبیک کہتے ۔ مورخہ 26اپریل 2023کو شام 7بجے اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہوگئے ۔اناللہ و انا الیہ رجعون ۔آپ بفضلہ تعالیٰ موصی تھے ۔احمدیہ قبرستان مڈیکری کرناٹک میں تدفین عمل میں لائی گئی ۔آپ نے اپنے پیچھے اپنی اہلیہ محترمہ ایم .یو فاطمہ رحمن صا حبہ کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں یادرگار چھوڑے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان سب پسماندگان کو مرحوم کی نیکیاں زندہ رکھنے اور ان پر اپنے آپ کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین۔
بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر