خاکسار کی والدہ محترمہ امۃ الرحیم صاحبہ اہلیہ محترم میر مظہر الحق صاحب آف شموگہ مکرم ڈاکٹر مولوی محمد امام صاحب مولوی فاضل کی بیٹی اور محترم ایس ایم جعفر صادق صاحب سابق صدر جماعت احمدیہ شموگہ، کرناٹک کی سب سےبڑی بہو تھیں اور مکرم الحاج میر کلیم اللہ صاحب کرناٹک کی نواسی تھیں۔آپکی پیدائش23؍مارچ 1955 ءبمقام بنگلور ہوئی۔ آپ بچپن سے ہی بہت نیک، صالحہ، صوم و صلوٰۃ کی پابند تھیں۔ آپ نے میٹرک کی پڑھائی بنگلور سے کی۔ نانا جان کی وفات کے بعد نانی جان والدہ محترمہ اور بچوں کے ساتھ شموگہ آگئیں اوریہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آپکی شادی مورخہ29؍اپریل 1979ءکو مکرم میر مظہر الحق صاحب ابن مکرم ایس ایم جعفر صادق صاحب مرحوم آف شموگہ کے ساتھ ہوئی۔ آپکے سسر محترم کے 10بیٹے اور 3بیٹیاں تھیں۔ بہت بڑا خاندان تھا ۔ طویل عرصہ جائنٹ فیملی میں زندگی گزاری ۔ کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔ بڑی بہو ہونے کی وجہ سے دیور جو چھوٹی عمر کے تھے ان کا ماں کی طرح خیال رکھا۔ والدہ صاحبہ کی وفات پر خاکسار کے سبھی چچائوں نے بہت افسوس کا اظہار کیا کہ آج ہماری ماں ہم سےبچھڑ گئی۔ آپ کی رہائش خاندانی مکان جماعت احمدیہ شموگہ کی مسجد کے ساتھ منسلک ہے۔اُس وقت مرکزی نمائندگان جو مسجد میں قیام کرتے ان کے خوردونوش کا باقاعدگی اور بشاشتِ قلب کے ساتھ انتظام کیا کرتی تھیں۔ وصیت کے بابرکت نظام میں شامل تھیں۔
والدہ صاحبہ کو شروع سے ہی ضلعی و صوبائی سطح پر مختلف جماعتی عہدوں پر خدمت کی توفیق ملی ۔ سال 2019ء میں ضلعی صدر لجنہ اماء اللہ ضلع شموگہ و چتردرگہ کے طور پر منتخب ہوئیں اور تاوقت مرگ خدمت سر انجام دیتی رہیں۔ آپ کے دور صدارت میں ضلع شموگہ و چتردرگہ کی مضافاتی جماعتوں راین ہلی و چکہ گنڈن ہلی میں لجنہ اماءاللہ کا قیام عمل میں آیا۔ غریب پرور، جماعتی خدمات کو پوری ذمہ داری سے ادا کرنے والی، خلافت سے بے لوث محبت رکھنے والی، عہدیداران کی عزت کرنے اور کروانے والی خاتون تھیں۔ مضافات کی جماعتوں میں لجنہ کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں مسلسل معلمین کرام سے رابطے میں رہتی تھیں۔ وفات سے چند دن قبل 4؍اگست 2024ءبروز اتوار لجنہ اماء اللہ شموگہ کی جانب سے منعقد یومِ تبلیغ کے جلسہ میں جس میں غیر از جماعت معززین کو بھی مدعو کیا گیا تھا آپ نے انگریزی میں تقریر کی۔ آپکی تقریر سن کر سب بہت متاثر ہوئے اور خوشی کا اظہار کیا۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عملی نمونہ خاکسار نے آپ میں دیکھا ہے۔ خاکسار کی والدہ کو قرآن شریف کی تلاوت سے بے لوث محبت تھی۔ قرآن شریف کو بہت پڑھا کرتی تھیں ۔ بہت سارے بچوں کو انہوں نے قرآن شریف پڑھایا ہے۔ قرآن شریف کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اسکا ترجمہ اور تفسیر پر بھی بہت توجّہ دیتی تھیں۔ نظارت تعلیم القرآن کی طرف سے جاری کردہ قرآن کریم کے ترجمہ کا کورس ’’مراسلاتی کورس ‘‘ میں بھی شامل تھیں۔ رمضان المبارک میں چار سے پانچ مرتبہ قرآن کریم کا دور مکمل کرتیں دو مرتبہ ترجمہ کے ساتھ پڑھتیں۔ اپنے بچوں ، پوتوں اور پوتیوں کو قرآن کریم پڑھاتیں، حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب پڑھ کر سناتیں۔ اخبار بدر اور اخبار الفضل کا مطالعہ باقاعدگی سے کیا کرتی تھیں۔ باوجود ذیابطیس کے رمضان المبارک کے مکمل روزے رکھتیں اور اعتکاف بھی کیا کرتیں۔ اعتکاف میں بہت کم سوتیں۔ زیادہ وقت عبادت میں گزارتیں۔ خاکسار وقف نو کے بابرکت نظام میں شامل ہے۔ والدہ صاحبہ مجھے بتاتیں کہ تمہاری پیدائش سے قبل گھریلو حالات بہت خراب تھے۔ قرض بہت ہوگیا تھا۔ کئی مشکلات کا سامنا تھا لیکن جب تمہیں وقف کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل فرمایا جملہ پریشانیوں کا ازالہ ہوگیا ۔ مجھے ہمیشہ توجہ دلاتیں کہ میں جماعت کا بچہ ہوں اور میں نے جماعت کی خدمت کرنی ہے۔ خاکسار جب جامعہ میں داخل ہوا تو بڑے فخر سے کہتیں کہ میرا بیٹا مبلغ بن رہا ہے جماعت کی خدمت کریگا اور میرے دوسرے بھائیوں کو کہتیں کہ اسی کی برکت سے تمہارے رزق میں برکت پڑتی ہے۔قادیان سے خاص لگاؤ تھا۔ ہمیشہ سالانہ اجتماع ، جلسہ سالانہ میں شامل ہوتیں اور کہتیں کہ سال میں ایک مرتبہ قادیان ضرور جانا چاہئے۔ امسال بھی سالانہ اجتماع میں شامل ہونے کا پروگرام تھا ۔ اجتماعات کے دنوں میں جہاں جماعتی انتظام ہوتا وہیں رہتیںاور کہتیں کہ جماعتی انتظام کے ساتھ رہیں گے تو تمام تر کاروائیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر قادیان آکر ہم اپنے آرام کی تلاش میں رہیں گے تو قادیان آنے کے مقصد کو پا نہیں سکتے۔ قادیان جانے کے لئے کوئی بیماری کا عذر پیش کرتا تو کہتیں کہ قادیان کیلئے نکلو ساری بیماری دور ہوجائیگی۔
والدہ صاحبہ 8؍ اگست، شام تک جماعتی کاموں میں مصروف تھیں۔ جملہ رپورٹس وغیرہ تیار کرکے دفتر لجنہ اماء اللہ بھارت کو email کیا ۔رات کو شدید سردی اور بخار ہوا ۔ دوسرے دن ہسپتال لے گئے لیکن طبیعت بگڑ تی گئی اور مورخہ11 اگست 2024 بروز اتوارصبح5بجے بعمر70سال حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اپنے مولائے حقیقی سے جاملیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ والدہ کی تدفین مورخہ12 اگست 2024 صبح 8 بجے احمدیہ قبرستان شموگہ میں ہوئی۔آپ نے اپنے پیچھے شوہر محترم میر مظہر الحق صاحب نیز تین بیٹے( جن میں سے خاکسار وقف زندگی ہے )اور ایک بیٹی نیز انکی فیملیز پسماندگان کے طور پرچھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ میری والدہ کے درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔