محترم بی- ایم- داؤد احمدصاحب آف بنگلور مورخہ 2 ستمبر2023بروز ہفتہ بنگلور میں وفات پاگئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔آپ کے داداحضرت موسیٰ رضاصاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بذریعہ خط بیعت کرنے کی توفیق ملی تھی،آپ بنگلور کے اولین احمدیوں میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ کی اولاد آج تک جماعت اور خلافت سے وابستہ ہے،جوکہ بنگلور ،شموگہ اور حیدرآباد میں آباد ہے۔محترم بی- ایم- داؤد احمدصاحب کے والد، محترم بی- ایم- بشیر احمد صاحب مرحوم نے جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ بنگلور کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے پانچ بیٹوں سے نوازا۔ مکرم بی-ایم-نثار احمدصاحب مرحوم، بی-ایم-خلیل احمدصاحب ، بی-ایم-داؤد احمدصاحب مرحوم، بی-ایم-کریم احمدصاحب اور بی-ایم- بشار ت احمد صاحب۔
مکرم بی-ایم-داؤد احمدصاحب بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔آپ ایم اے ایل ایل بی تھے۔ آپ کے والد صاحب مرحوم نے آپ کو قادیان دارالامان خدمت کے لئے بھجوایا۔ آپ مع فیملی قادیان دارالامان منتقل ہوگئے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے چار سال 1973 تا 1977مشیر قانونی صدر انجمن احمدیہ کے طورپر خدمت بجالانے کا توفیق عطافرمائی۔اس دوران آپ کی اہلیہ محترمہ بشریٰ بیگم صاحبہ کو نصرت گرلز اسکول میں عرصہ تین سال بطور استانی خدمت کی توفیق ملی۔ گھریلو حالات کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے اجازت لے کر واپس بنگلور آنا پڑا۔
آپ کی اہلیہ بشریٰ بیگم صاحبہ محترم محمد صبغۃ اللہ صاحب آف بنگلور کی صاحبزادی ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے دو بچوں سےنوازا بیٹا محمود احمد اور بیٹی صبیحہ سلطانہ۔ آپ کے داماد محترم فرخ سیر صاحب کی وفات بعارضہ کینسر ہوگئی تھی۔ آپ کو اور آپ کی اہلیہ محترمہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت ہی صبر اور حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ کو برداشت کرنے کی توفیق دی۔دونوں نے اپنی غمزدہ بیٹی اور تین نواسوں کی تعلیم وتربیت کا خاص خیال رکھا۔
آپ بہت ہی خوش اخلاق اور فدائی احمدی تھے۔ باوجود بیماری کے مسجد میں آنے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ خلافت سے بہت محبت رکھنے والے اور حضرت خلیفۃ المسیح کے خطبات جمعہ باقاعدہ سناکرتے۔خاکسارکو ایک لمبا عرصہ جماعت احمدیہ بنگلور میں بطور مبلغ انچارج خدمات سلسلہ کی توفیق ملی۔اکثر آپ کے گھر ہمارا آنا جانا تھا۔مہمان نوازی کا خاص وصف آپ میں تھا۔ مرکزی نمائندگان سے بہت ہی احترام سے پیش آتے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی اولاد کو بھی آپ کی نیکیاں زندہ رکھنے کی توفیق عطافرمائے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اوربلند درجات سے نوازے۔ آمین۔
آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا
جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا
…٭…٭…٭…