اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-05-30

ذکر خیر

میرے پیارے والد مکرم سید بشارت احمد صاحب

( سید زبیر احمد نائب ناظر امور عامہ قادیان )

ہمارے بہت ہی پیارے اور شفیق والدمکر م و محترم سید بشارت احمد صاحب مورخہ 7فروری2024 بروزبدھ بعد نماز عشاء اچانک حرکت قلب بند ہوجانیکی وجہ سے بقضائے الٰہی وفات پاگئےانا للہ وانا الیہ راجعون۔
آپ کی پیدائش مورخہ 15؍اکتوبر 1958ء بمقام سونگڑہ صوبہ اُڈیشہ ہوئی۔ محترم سید بدرالدین احمد صاحب مرحوم خادم سلسلہ کے بیٹے اور محترم سید اختر الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتےاور محترم سید سعیدالدین احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پڑپوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کےفضل سے آپ کے پڑدادا اور دادا دونوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ آپ کے پڑدادا حضرت مولوی سید سعیدالدین احمد صاحب رضی اللہ عنہ کو جنوری 1900ء میں بذریعہ خط حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت کرنےکی سعادت نصیب ہوئی ۔ ( الحکم 30 جنوری 1900ء)پھراسی سال یعنی 1900ء میں قادیا ن آکر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے شرف ملاقات اور دستی بیعت کی سعادت حاصل کی۔ آپ سونگھڑہ صوبہ اُڈیشہ کے اولین صحابہ میں سے تھے۔ آپ اپنے علاقہ کے زمیندار اور رئیس تھے۔
مرحوم کے دادا حضرت مولوی سید اختر الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے بھی 1900 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری بیعت کرلی تھی۔ پھر21 اکتوبر 1902ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 103 ایڈیشن 1984ء) بیعت کے بعد قریب ایک سال تک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہے اس وقت آپ کی عمر 24 سال تھی آپ فرماتے تھے کہ ان دنوں خاکسار اور خاکسار کے ماموں مولوی سید احمد حسین صاحب رضی اللہ عنہ صرف دومہمان کٹک سے تھے۔ ہم دونوں کے لئے کئی ماہ تک چاول کے مکلف کھانے آتے رہے۔
(بحوالہ خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمود 30دسمبر 2011ء)
ملفوظات جلد دوئم صفحہ 434 میں ہے کہ :
’’پھرتین صاحبوں نے حضرت اقدس سے بیعت کی جس میں ایک صاحب سید اختر الدین احمد ساکن کٹک بنگال بھی تھے۔ مولوی عبد الکریم صاحب نے احمد حسین صاحب آمدہ از کٹک کی طرف سے ایک کرنسی نوٹ او ر کچھ زیورات حضرت کی خدمت میں پیش کئے۔زیورات ان کی اہلیہ مرحومہ کی طرف سے تھے جن کی وصیت تھی کہ یہ خاص حضرت اقدس کی خدمت میں دینی خدمت کیلئے دیئے جائیں۔ حضرت اقدس نے ان کے اخلاق کی تعریف کی اور فرمایا کہ: خدا ان کو آخرین منہم (الجمعہ : ۴)میں ملاوے۔ـــ‘‘
(ملفوظات جلد دوئم صفحہ 434 )
والدصاحب کے سسر محترم چوہدری محمد اسماعیل ننگلی صاحب مرحوم درویش تھے۔ والد صاحب مرحوم نے قادیان کے دینی ماحول میں تعلیم وتربیت پائی۔ میٹرک کے بعد خدمت سلسلہ کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا اور بعد میں اپنی زندگی وقف کی۔ مزید تعلیم حاصل کرتے ہوئے آپ نے ادیب فاضل اورحکمت کی سندات بھی حاصل کیں۔ لمبا عرصہ مختلف جماعتی ادارہ جات میں خدمات بجالانے کے بعد مورخہ 14 اکتوبر 2018ء کو ریٹائر ہوئے۔ وفات کے وقت بطور صدر محلہ باب الامن قادیان او رنائب آڈیٹر دفتر مجلس انصار اللہ بھارت ونگران تزئین محلہ باب الامن قادیان خدمت بجالانے کی سعادت پارہے تھے۔ والد صاحب بہت پیار کرنے والے خاموش طبیعت سب سے مُسکرا کے ملنے والے،ہمدرد، ملنسار اور دکھ سکھ میں سب کے کام آنے والے، بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ اپنی ساری زندگی نہایت سادگی، ایمانداری اور وفا کے ساتھ گزاری ۔
آپ نے 28 ؍نومبر 1976ء کو خدمات سلسلہ کا آغاز کرتے ہوئے تعلیم الاسلام ہائی اسکول میں 3 ماہ تدریسی خدمات سر انجام دیں پھر نظارت بیت المال آمد، دعوت و تبلیغ میں بطور امپرسٹ کام کیا۔ 1977ء تا 1986ء احمد یہ شفاخانہ میں بطور کمپاؤنڈر کام کیا اسکے بعد 1991ء تک قائم مقام انچارج احمدیہ شفا خانہ خدمات سر انجام دیں۔ بعدہٗ 2012ء تک نظارت امور عامہ و جامعہ احمدیہ میں بطور امپرسٹ کلرک خدمت کی۔بعدازاں نظارت نشر و اشاعت قادیان میں بھی عرصہ 6سال تک خدمت کی توفیق پائی۔آپ کا عرصہ خدمت کم و بیش 42 سال کا ہے۔ اس عرصہ میں آپ نے نہایت اخلاص و اطاعت کا نمونہ پیش کیا اورجب بھی آپ کودفتری کام کے لئے بُلایا جاتا خواہ رخصت پر ہوں یا چھٹی کا دن ہو حاضر ہوتے۔ہر کام خندہ پیشانی سے، نہایت دیانت وامانتداری کیساتھ سلسلہ کا درد رکھتے ہوئےکیا۔
پنج وقتہ نمازی اور دعاگو تھے ۔ کوئی بھی پریشانی پیش آتی توخلیفہ وقت کو دُعا کے لئے لکھتے اور خود بھی دعا میں لگ جاتے اور اللہ تعالیٰ پر مکمل توکل کرتے۔وقت کی پابندی،نماز تہجد کی باقاعدگی سے ادائیگی نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن کریم کا ذوق،خلیفہ وقت سے بے انتہا وبے لوث محبت اور خوش اخلاقی و خوش مزاجی، جماعتی ذمہ داران کی اطاعت آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔پرندوں کے ساتھ بہت لگاؤ تھا۔ باقاعدگی سے پرندوں کا دانہ ڈالتے۔
آپ جلسہ سالانہ قادیان پرحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کا اپنے گھر پر قیام و طعام کا اہتمام بہت شوق اور اخلاص کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ہر طرح سے ان کا خیال رکھتے۔ وفات کے بعد بہت سےمہمانوں نے فون پر تعزیت کی اور بتایا کہ یہ شخص ہمیشہ مسکرانے والا،بہت محبت کرنے والا تھا، کبھی محسوس نہ ہونے دیا کہ ہم اپنے گھر میںنہیں ہیں ۔
مرحوم نے دور درویشی کا ابتدائی غربت کازمانہ بھی دیکھا اور بعد میں خلافت احمد یہ کی برکت کے طفیل آسودگی کا وقت بھی گزارا ۔کسی بھی حال میں صبر اور شکر کا دامن نہیں چھوڑا۔ شکر وقناعت اور استقامت کے ساتھ سادہ زندگی بسر کی۔خلافت کے ساتھ محبت اور وفا کا خاص تعلق تھا۔ 2017ء میں جلسہ سالانہ لندن پر قادیان دارالامان سےبطور نمائندہ شرکت کی توفیق ملی۔ حضور انور کے ساتھ کئی بار شرف ملاقات نصیب ہوا۔
عمرہ کرنیکی شدید خواہش تھی۔اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش بھی پوری فرمائی اور سن 2020ءمیں والدہ صاحبہ کیساتھ عمرہ کرنیکی سعادت نصیب ہوئی الحمد للہ۔
مقامی طور پر مجلس عاملہ کے سیکریٹری امور عامہ، صدر محلہ و نائب صدر محلہ اور جلسہ سالانہ میں ناظم بازار کی حیثیت سے سالہا سال خدمت کی توفیق ملی۔ علاوہ ازیں ذیلی تنظیمات میں بھی قائد ایثارخدمت خلق، وزعیم محلہ باب الامن جیسے مختلف عہدوں پر خدمات بجالانےکے ساتھ ساتھ ماہر امپرسٹ تھے۔مجلس انصار اللہ کی طرف سے بھی طبی کیمپوں میں متعد د بار مجالس میں جا کر خدمت کرنے کا موقع ملا۔ مرکزی و مقامی سالانہ اجتماعات کے علمی و ورز شی مقابلہ جات میں بھی کئی سالوں سے نمایاں پوزیشن حاصل کرتے رہے ۔وفات کے وقت بھی آپ مسرور ٹورنامنٹ (بیڈ منٹن)کا میچ کھیل رہے تھے۔ آپ نے بیڈ منٹن کورٹ خود وقارعمل کے ذریعہ تیار کروایا تھاتا کہ محلہ کے نوجوان اس سےاستفادہ کرتےہوئے اپنی صحت کا خیال رکھ سکیں۔ روازنہ صبح و شام اپنی نگرانی میں بیڈمنٹن کے مقابلے کرواتے۔ نوجوانوں کو مسجد میں آکر نماز پڑھنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔
اللہ تعالی نے آپ کو حکمت میں بھی دسترس عطا کی تھی جس سے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچاتے تھے۔بہت سارے مریض جن کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے اُن کا مفت علاج کرتے تھے۔اور ان کے لئے دعا بھی کرتے تھے۔کئی غیر مسلم مریضوں نے بتایا کہ ان کی دعائوں میں اثر تھا جس سے ہمیں شفاء حاصل ہوتی تھی۔ بازار کے بہت سے دوکانداراور گرد ونواح کے لوگوں  نے آپ کی خوش اخلاقی او رملنساری کا ذکر کیا۔
آپ نے بہت سے ضرورت مندوں کے لئے وظائف جاری کروانے میں ان کی بہت مدد کی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی جملہ خدمات کو قبول فرمائے ۔آمین۔
آپ کی نماز جنازہ مورخہ 9؍فروری 2024ء بروز جمعہ بعد نمازعصر جنازہ گاہ بہشتی مقبرہ قادیان میںمحترم مولانا محمد انعام غوری صاحب ناظر اعلیٰ وامیر جماعت احمدیہ قادیان نے پڑھائی۔ بعد ازاں بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین عمل میں آئی۔ مرحوم کی نماز جنازہ میں کثیر تعدادمیںاپنوں اور غیروں نے شرکت کی اور مرحوم کی مغفرت اور بلندی درجات کےلئے دعا کی۔
آپ نے اپنے پیچھے والدہ صاحبہ کے علاوہ تین بیٹے خاکسار سید زبیر احمد ، مکرم سید مبشر احمد صاحب آف جرمنی اور مکرم سید برکات احمد صاحب آف جرمنی وپوتے پوتیاں یادگار چھوڑے ہیں۔ تمام پسماندگان اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف رنگوں میں سلسلہ احمدیہ کی خدمات بجالانےکی سعادت پارہے ہیں۔
خاکسار کے خط کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا تعزیتی خط موصول ہوا۔پیارے آقا نے ازراہِ شفقت والد صاحب کی مغفرت کیلئے دعا فرمائی اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار فرمایا۔ اللہ تعالیٰ والد صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے۔ پسماندگان کو مرحوم کی نیکیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔
مکرم تنویر احمد ناصر صاحب نے والد صاحب کے اوصاف منظوم کلام میں بیان کئے ہیں خاکسار اُن کا بہت ممنون ہے۔ جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء۔
٭…٭…٭