اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-07-30

سیرتِ طیبہ ﷺ کے بارے میں منتخب قرآنی آیات

سیرتِ طیبہ ﷺ کے بارے میں منتخب قرآنی آیات

  1. وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ﴿۵﴾ (سورۃ القلم: 5)

اور یقیناً تو بہت بڑے خُلق پر فائز ہے۔

  1. لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًاؕ ﴿۲۲﴾ (سورۃ الاحزاب:22)

ترجمہ : یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ہر اس شخص کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔

  1. فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَہُمْ ۚ وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ ۪ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ﴿۱۶۰﴾ (سورۃ آل عمران: 160)

ترجمہ : پس اللہ کی خاص رحمت کی وجہ سے تُو ان کے لئے نرم ہو گیا۔ اور اگر تُو تندخو (اور) سخت دل ہوتا تو وہ ضرور تیرے گِرد سے دُور بھاگ جاتے۔ پس ان سے دَرگزر کر اور ان کے لئے بخشش کی دعا کر اور (ہر) اہم معاملہ میں ان سے مشورہ کر۔ پس جب تُو (کوئی) فیصلہ کر لے تو پھر اللہ ہی پر توکل کر۔یقیناً اللہ توکل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔

  1. لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴿۱۲۸﴾ (سورۃ التوبہ: 128)

ترجمہ : یقیناً تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آیا۔ اسے بہت سخت شاق گزرتا ہے جو تم تکلیف اٹھاتے ہو (اور) وہ تم پر (بھلائی چاہتے ہوئے) حریص (رہتا) ہے۔ مومنوں کے لئے بے حد مہربان (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

  1. وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ﴿۱۰۸﴾ (سورۃ الانبياء: 108)

ترجمہ : اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت کے طور پر۔

  1. وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ﴿۲۹﴾ (سورۃ سبا:29)

ترجمہ :اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لئے بشیر اور نذیر بنا کر مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

  1. قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَاۣالَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ ۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ﴿۱۵۹﴾ (سورۃ الأعراف: 159)

ترجمہ : تُو کہہ دے کہ اے انسانو! یقیناً میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کے قبضے میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ پس ایمان لے آؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی اُمّی پر جو اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اُسی کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔

  1. وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ؕ مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ وَلٰکِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا نَّہْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا ؕ وَاِنَّکَ لَتَہْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﴿ۙ۵۳﴾ (سورۃ الشورى: 53)

ترجمہ : اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک زندگی بخش کلام وحی کیا۔ تو جانتا نہ تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے لیکن ہم ہی نے اسے نوربنایا جس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اوریقیناً تُو سیدھے راستہ کی طرف چلاتا ہے۔

  1. اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴿۵۷﴾ (سورۃ الأحزاب: 57)

ترجمہ : یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم بھی اس پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔

  1. وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ؕ وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ جَآءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا ﴿۶۵﴾ (سورۃ النساء: 65)

ترجمہ : اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اور اگر اس وقت جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا وہ تیرے پاس حاضر ہوتے اور اللہ سے بخشش طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لئے بخشش مانگتا تو وہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) بارباررحم کرنے والا پاتے۔

  1. ہُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِؕ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا ﴿۴۴﴾ (سورۃ الأحزاب: 44)

ترجمہ : وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالے اور وہ مومنوں کے حق میں بار بار رحم کرنے والا ہے۔

  1. قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿۳۲﴾ (سورۃ آل عمران: 32)

ترجمہ : تُو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

  1. مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًاؕ﴿۸۱﴾ (سورۃ النساء: 81)

ترجمہ : جو اِس رسول کی پیروی کرے تو اُس نے اللہ کی پیروی کی اور جو پِھر جائے تو ہم نے تجھے ان پر محافظ بنا کر نہیں بھیجا۔

  1. وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ ٭ وَمَا نَہٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۘ﴿۸﴾ (سورۃ الحشر: 8)

ترجمہ : اور رسول جو تمہیں عطا کرے تو اسے لے لو اور جس سے تمہیں روکے اُس سے رُک جاؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقیناً اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

  1. اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ ؕ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْا اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِکُمْ مَّعْرُوْفًا ؕ کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا ﴿۷﴾ (سورۃ الأحزاب: 7)

ترجمہ : نبی مومنوں پر اُن کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہے اور اُس کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ اور جہاں تک رِحمی رشتے والوں کا تعلق ہے تو ان میں سے بعض اللہ کی کتاب میں (مندرج احکام کے مطابق) بعض پر اوّلیت رکھتے ہیں بہ نسبت دوسرے مومنین اور مہاجرین کے۔ سوائے اس کے کہ تم اپنے دوستوں سے (بطور احسان) کوئی نیک سلوک کرو۔ یہ سب باتیں کتاب میں لکھی ہوئی موجود ہیں۔

  1. وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی ؕ﴿۴﴾ اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی ۙ﴿۵﴾ (سورۃ النجم: 4-5)

ترجمہ : اور وہ خواہشِ نفس سے کلام نہیں کرتا۔یہ تو محض ایک وحی ہے جو اُتاری جارہی ہے

  1. یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ وَاَنَّہٗٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ﴿۲۵﴾

ترجمہ :اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہا کرو جب وہ تمہیں بلائے تاکہ وہ تمہیں زندہ کرے اور جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوتا ہے اور یہ بھی (جان لو) کہ تم اسی کی طرف اکٹھے کئے جاؤ گے