اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-11

ظالم اور مظلوم ایک نفسیاتی جائزہ (سیّد اعزاز الدین احمد مربی سلسلہ نورالاسلام جماعت احمدیہ ہبلی کرناٹک)

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر بے شمار صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اس کی فلاح و بہبود کے لئے خداتعالیٰ نے ہمیشہ اپنی طرف سے راہنما مبعوث فرمائے جو انسانوں ہی میں سے ہوتے ہیں اور بشری صفات رکھتے ہیں۔ یہ انبیاء و مرسلین قولی اور فعلی دونوں پہلوؤں سے انسانوں کی رہنمائی کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے خالق کی محبت اور رضا حاصل کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اس عظیم الشان نظام ہدایت کو ہمیشہ کے لئے محفوظ بھی فرما دیا ہے۔ حضرت آدمؑ کی تخلیق اور ان سے متعلقہ واقعات کو بطور نمونہ محفوظ کر کے ایک ایسا روحانی نظام قائم فرمایا جس میں ایک طرف فرشتے ہیں جو الٰہی احکام کے مطابق دنیا میں نیکی اور ہدایت کی طرف راہنمائی کرتے ہیں، تو دوسری طرف ابلیس اور اس کی جماعت کو بھی ایک مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ انسان کو بہکانے اور گمراہی میں ڈالنے کی کوششیں کرتے رہیں۔اس کے متعلق امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ جب دنیا میں کوئی امام الزمان آتا ہے تو ہزارہا انوار اس کے ساتھ آتے ہیں اور آسمان میں ایک صورت انبساطی پیدا ہو جاتی ہے اور انتشار روحانیت اور نورانیت ہوکر نیک استعدادیں جاگ اٹھتی ہیں پس جو شخص الہام کی استعداد رکھتا ہے اس کو سلسلہ الہام شروع ہو جاتا ہے اور جو شخص فکر اور غور کے ذریعہ سے دینی تفقہ کی استعداد رکھتا ہے اس کے تدبّر اور سوچنے کی قوت کو زیادہ کیا جاتا ہے اور جس کو عبادات کی طرف رغبت ہو اس کو تعبد اور پرستش میں لذت عطا کی جاتی ہے اور جو شخص غیر قوموں کے ساتھ مباحثات کرتا ہے اس کو استدلال اور اتمام حجت کی طاقت بخشی جاتی ہے۔اور یہ تمام باتیں درحقیقت اسی انتشار روحانیت کا نتیجہ ہوتا ہے جو امام الزمان کے ساتھ آسمان سے اترتی اور ہر ایک مستعد کے دل پر نازل ہوتی ہے۔اور یہ ایک عام قانون اور سنت الٰہی ہے جو ہمیں قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی رہنمائی سے معلوم ہوا ‘‘۔
(ضرورۃ الامام ،روحانی خزائن جلد13،صفحہ 474)
نور اور نار، حق اور باطل کی کشمکش ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ چنانچہ ایک طرف روحانیت کے پھیلاؤ سے وابستہ تعمیری کارنامے ہوتے ہیں، تو دوسری طرف ابنائے ابلیس کی طرف سے تخریبی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ اس مقابلے میں انجام کار الٰہی تقدیر ہی غالب آتی ہے، کیونکہ نور کے مقابلے میں نار کبھی ٹھہر نہیں سکتا، اور حق کے سامنے باطل کبھی جم نہیں سکتا۔
اس دائمی کشمکش کے پیچھے ایک نفسیاتی پہلو بھی موجود ہے۔ ہر وجود اپنی بقا کا خواہاں ہوتا ہے اور اس کے لئے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔ جب وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے وجود کو خطرہ لاحق ہے اور اگر چوک گیا تو فنا ہو جائے گا، تو وہ مزاحمت پر اُتر آتا ہے اور اپنی بقا کی کوشش میں ہاتھ پاؤں مارنے لگتا ہے۔چنانچہ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ جنگل میں تمام جانور سکون سے چرتے پھرتے ہیں، لیکن جب ان کے سامنے شیر آ جاتا ہے تو سب کا چین و سکون ختم ہو جاتا ہے۔ سارے جانور یا تو بھاگنے لگتے ہیں یا پھر مل کر مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، محض اس لئے کہ شیر کے وجود سے اُن کے اپنے وجود کی بقا کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔اسی نفسیات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یہ ایک بڑے ابتلاء کا وقت ہے۔ ہر طرف سے ہم کا فرٹھیرائے گئے ہیں اور سب کے درمیان ہم کراہت کی نگاہ سے دیکھے گئے ہیں ۔ حال کے مخالف علماء کا یہ فتویٰ ہے کہ ہم ان کے قبرستان میں داخل ہونے کے لائق بھی نہیں ہیں اور اندرونی قوم کا یہ حال ہے اور بیرونی قو میں اور مذاہب سب کے سب ہماری جماعت کو خصوصیت کے ساتھ بُرا جانتے ہیں اور ایک قسم کی ذاتی عداوت ہمارے ساتھ رکھتے ہیں جو اسلام کے دیگر فرقوں کے ساتھ اُن کو نہیں ہے۔ پادریوں کے سینے پر ہماری جماعت ایک بھاری پتھر کی طرح ہے اور آریوں کو بھی سخت دشمن ہم ہی معلوم ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو بخوبی معلوم ہو گیا ہے کہ کمر بستہ ہو کر وساوس اور اعتراضات اور کفر کے طریقوں کو دور کرنا صرف اس جماعت کا کام ہے اور دوسرے کا نہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہم میں نفاق نہیں ۔ جو لوگ خاص خدا کے واسطے کام کرتے ہیں اُن کا کام منافقانہ نہیں ہوتا اور وہ ہر ایک کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے ۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم کس طرح اخلاص کے ساتھ کام کرنے والے ہیں ۔ اس واسطے ہم اُنہیں طبعاً بُرے لگتے ہیں ۔ فطرتاً دلوں کا عکس ایک دوسرے پر پڑتا ہے۔ ایک بکری کے بچے کو اگر شیر کے پاس باندھ دیا جاوے تو خواہ اُس بچے نے ساری عمر بھی شیر کو پہلے نہ دیکھا ہو تو پھر بھی فطرتا وہ اُس سے خوف زدہ ہو جائے گا ۔ ہمارے مخالفین کی فطرت یہ گواہی دیتی ہے کہ اگر کسی روز ان کے مذہب کا استیصال ہوگا تو اسی جماعت کے ہاتھوں ہوگا اور در حقیقت سچ یہی ہے ۔ جو بات آسمان سے نازل ہوتی ہے وہ در پردہ نہیں رہتی بلکہ اس کا اثر تمام دنیا پر پڑتا ہے۔ کافر کا دل محسوس کر لیتا ہے کہ کفر توڑنے والا کون ہے ۔ جب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو جس قدر دشمنی آپ کے ساتھ کی گئی ۔ اور آپ کو دکھ اور تکالیف پہنچائی گئیں اس قدر مخالفت مسیلمہ کذاب کی نہیں ہوئی ۔ اس کا سبب یہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام کفر بدعات اور شرک کا استیصال کرتے تھے اور مسیلمہ تو خود ہی کا فر تھا ۔ حق کی بات منجانب اللہ ہوتی ہے۔ اس وقت ہم غریب ہیں اور بے کس ہیں اور خدا کے سوائے اور کوئی ہمارا ساتھی نہیں ۔ ہمیشہ یہ کوشش کی جاتی ہے کہ یہ قوم نابود کر دی جائے ۔ بیرونی لوگ مقدمات بناتے اور اندرونی لوگ ان کے ساتھ سازش میں شریک ہوتے ہیں ۔ سب ایک ہی رنگ میں مخالف ہیں اور سب ہمارا استیصال چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو براہین احمدیہ میں آج ۲۵ برس پہلے سے شائع ہو چکا ہے کہ خدا اس جماعت کو قیامت تک کفار پر غلبہ دے گا ۔ کفار سے مراد اس سلسلہ حقہ کے انکار کرنے والوں سے ہے خواہ وہ اندرونی ہوں، خواہ بیرونی ہوں ۔ ہم مطمئن ہیں کہ خدا تعالیٰ کے وعدے سچّے ہیں اور وہ ایک دن ضرور پورے ہوں گے ان کو کوئی روک نہیں سکتا لیکن دنیا جائے اسباب ہے۔ جیسا کہ جسمانی دنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اپنے مقاصد کے حصول کے واسطے سعی کرتے ہیں، اگر چہ فصل آسمانی بارش سے پکتا ہے کیونکہ قلبہ رانی تخمریزی وغیرہ اسباب کا مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے جس طرح اوائل اسلام میں آنحضرت کی قوت قدسیہ نے ہزاروں با اخلاص اعلیٰ درجہ کے بنائے تھے ایسے مخلصین سے کام بنتا ہے۔‘‘
(ذکر حبیب صفحہ ۱۱۱۔۱۱۰)
چھٹی صدی عیسوی کے قریب مکہ میں ایک صاحبِ بصیرت جوہر شناس، ورقہ بن نوفل ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے آنحضرت ﷺکے مقام و مرتبے اور مستقبل کو پہچان لیا تھا اور فرمایا تھا کہ تمہیں تمہاری قوم نکال دے گی۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ تیرے وجود کو اپنی بقا کے لئے خطرہ سمجھا جائے گا، چنانچہ لوگ تجھ سے مخالفت کریں گے، تجھے اذیت پہنچائیں گے اور تیرے ماننے والوں پر بھی ظلم ڈھائیں گے۔
اور ایسا ہی ہوا آنحضرت ﷺکی شدید مخالفت کی گئی۔ آپ کو جسمانی و روحانی اذیتیں دی گئیں۔ بعض صحابہ کو پہلے ہجرت کرنی پڑی اور پھر اللہ تعالیٰ کے اذن سے خود آنحضرت ﷺکو بھی ہجرت کرنی پڑی۔ جب آپ ﷺ مکہ سے روانہ ہوئے تو مڑ کر مکہ کی جانب دیکھا اور فرمایا کہ اے مکہ! تو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، لیکن تیرے رہنے والوں کے ظلم کی وجہ سے مجھے چھوڑنا پڑ رہا ہے۔
حضرت بلالؓ، جو ایک حبشی غلام تھے، ان پر کئے گئے مظالم بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی وہی تقدیر جو ہمیشہ اپنے محبوبوں کے لئے کام کرتی آئی ہے، اس وقت بھی کارفرما ہوئی۔ اسی الٰہی تقدیر کے تحت آنحضرت ﷺکو مکہ کا فاتح بنا کر واپس لایا گیا، وہ بھی شاہانہ انداز میں۔ اور وہی حضرت بلالؓ، جو کبھی ظلم کا نشانہ تھے، اب اُنہیں وہ جھنڈا عطا ہوا جس کے سائے میں کل کے ظالموں کو پناہ لینی پڑی۔
اسی الٰہی تقدیر کا ظہور آنحضرت ﷺکے نزولِ ثانی کے وقت بھی ہوا۔ جب اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کا وقت آیا، جیسا کہ سورۃ الجمعہ میں وعدہ موجود ہے، تو حضرت امام مہدیؑ کو بھی سخت اذیتیں دی گئیں۔ خدا تعالیٰ نے ان اذیتوں کو محسوس کیا اور ’’داغِ ہجرت‘‘ کی خبر دی (تذکرہ صفحہ ۲۳۷) اور ساتھ یہ بشارت بھی عطا فرمائی کہ’’ اِنِّيْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِيْكَ بَغْتَةً‘‘ (تذکرہ صفحہ ۲۶۱)
پھر آپ علیہ السلام کے متبعین میں سے ایک مظلوم حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓبھی تھے ان کو سنگسار کیا گیا۔اس کی مختصر کیفیت حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے الفاظ میں یوں ہے:
’’جب آپ کو شہادت کے لئے اس مقام کی طرف لے جایا جارہا تھا جہاں آپ کو سنگسار کر کے شہید کیا جانا تھا تو امیر کابل نے کہا کہ یہ کافی نہیں اس کے ناک میں سوراخ کرو اور جس طرح بیل کو ناک میں رسی ڈال کر اور کھینچ کر لے جایا جاتا ہے، اسی طرح قربانی کے بیل کو لے کر جاؤ۔چنانچہ آپ کے ناک میں سوراخ کر کے رسی ڈالی گئی اور ایک بہت بڑا ہجوم تھا جو ہنستا ، شور مچاتا اور
طعن و تشنیع کرتا ہوا آپ کے ساتھ چلا جار ہا تھا اور ان کے درمیان کا بل کی گلیوں سے استقامت کا شہزادہ سر اٹھائے ہوئے گزر رہا تھا اور کوئی خوف اور کوئی بلا اس سر کونگوں نہیں کر سکی۔وہ اس عظمت اور شان کے ساتھ ان گلیوں سے گزرا ہے کہ اس کی یادیں وہ گلیاں قیامت تک نہیں بھلا سکیں گی۔جب صاحبزادہ صاحب شہید کوزمین میں چھاتی تک گاڑ دیا گیا تو بادشاہ وقت نے جو آپ سے ہمدردی رکھتا تھا آپ سے کہا کہ اب بھی آپ مسیح موعود کا انکار کر دیں۔اپنی جان کا خیال کریں ، اپنے اموال اور جائیداد کا خیال کریں اور اپنے بچوں کا خیال کریں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے سراٹھا کر کہا کہ اے بادشاہ! ایمان کے مقابل پر میری جان کیا چیز ہے؟ میرے اموال کیا حیثیت رکھتے ہیں اور میرے بچوں کی کیا قیمت ہے؟ کچھ بھی نہیں اس لئے تم وہی کرو جس کا تم ارادہ کر چکے ہو۔اس پر بادشاہ وقت نے کہا کہ اگر تم انکار نہیں کرنا چاہتے تو مجھے اجازت دو کہ میں تمہاری طرف سے اعلان کر دوں۔انہوں نے فرمایا نہیں ، میں اس کی بھی اجازت نہیں دیتا اور تم نے جو کچھ کرنا ہے جلدی کرو۔چنانچہ بادشاہ نے قاضی وقت سے کہا کہ پہلا پتھر تم مارو۔قاضی نے جواب دیا کہ آپ بادشاہ ہیں اس لئے پہلا پتھر آپ چلائیں۔بادشاہ نے کہا نہیں، شریعت کے بادشاہ تو تم بنے ہوئے ہو، تمہارا حکم چل رہا ہے میرا نہیں ، اس لئے پہلا پتھر بھی تم مارو۔چنانچہ قاضی نے پہلا پتھر مارا اس کے بعد پتھروں کی اس طرح بوچھاڑ ہوئی کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے سر کے اوپر پتھروں کا ایک ڈھیر بن گیا جس میں یہ وجود غائب ہو گیا۔یہ وہ واقعہ ہے جسے بعض غیروں نے بھی دیکھا اور مدتوں اس کی کسک ان کے دل میں رہی چنانچہ ایک انگریز چیف انجینئر نے جو انگلستان سے آیا ہوا تھا اور اس موقع پر موجود تھا، اپنی کتاب میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ اس مرد مجاہد کے چہرے پر کوئی خوف نہیں تھا۔اس نے وفات سے پہلے کہا کہ اے قوم ! تم ایک معصوم انسان کو مار رہے ہو لیکن یاد رکھو کہ خدا تمہیں اس کا خون نہیں بخشے گا اور بلائیں اور مصیبتیں تمہیں گھیر لیں گی۔اس انگریز مصنف کے قول کے مطابق یہ وہ آخری اعلان تھا جو حضرت صاحبزادہ صاحب شہید نے کیا اور اس کے بعد پتھراؤ شروع ہو گیا۔‘‘
(خطبات طاہر جلد2 صفحہ 68)
خدا کے بھیجے ہوئے انبیاء کو اور ان کے متبعین کو ظلم کا نشانہ بنایا گیامگر ان ظالموں کا کوئی مولا نہیں ہے البتہ ان مظلوموں کا مولا ضرور ہے اور خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے:
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَہُمْ (سورۃ محمد : ۱۲)
نیز اللہ فرماتا ہے:
اَلَااِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیبٌ (سورۃ البقرہ:۲۱۵)
دوسری طرف جلالی شان کا اظہار ظالموں کے لئے بھی پہلے سے یہی مقرر رہے کہ
فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّہُمْ بِذَنْۢبِہِمْ فَسَوّٰہَا
(سورۃ الشمس :۱۵)
ان کو اللہ تعالیٰ نے خاک میں ملانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ تو حضرت صاحبزادہ صاحب کے لئے ابدی قانون کے تحت اللہ تعالیٰ کا سلوک ہونا تھا ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے خاص حضرت صاحبزادہ صاحب کے لئے زمانہ کے امام کو بتا دیا کہ ’’ریاست کابل میں قریباً پچاسی ہزار کے آدمی مریں گے ‘‘ ( تذکرہ صفحہ 673)
۱۹۰۳؁سے ۲۰۲۵؁ تک یعنی گزشتہ 122 سالوں سے دنیا بھر میں یہ واحد شہر کابل (بشمول افغانستان) ہے جہاں قتل وہ غارت گری کا سلسلہ چلتا چلا آرہا ہے۔ ۸۵ ہزار آدمی سے کہیں زیادہ مر چکے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی قہری تجلی حضرت صاحبزادہ صاحب شہید کے لئے جاری ہے۔ جہاں تک جمالی شان کی بات ہے اس تعلق سے ایک تاریخی حقیقت کا بیان حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے الفاظ میں یوں ہیں :
’’حضرت صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب رضی اللہ عنہ کے متعلق ابھی چند سال ہوئے ایک بڑی دلچسپ روایت معلوم ہوئی۔ہمارے صوبہ سرحد کے ایک مخلص احمدی دوست ہیں جن کے تعلقات کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔چند سال پہلے افغانستان سے ایک ایسے دوست ان سے ملنے کے لئے آئے یا یہ گئے وہاں ملنے کے لئے مجھے اس وقت صحیح یاد نہیں بہر حال ان کی ملاقات ہوئی۔یہ وہ شخص ہیں جنہوں نے افغانستان کی آزادی کی روح کا Symbol یعنی نشان قائم کیا ہے یعنی یہ وہ آرکیٹیکٹ ( نقشہ بنانے والے ) ہیں کہ جب افغان قوم نے یہ فیصلہ کیا کہ افغان آزادی کی روح کا ایک Symbol یعنی یاد گار قائم کی جائے تو یہ کام اسی آرکیٹیکٹ کے سپرد تھا کہ تم ڈیزائن بھی کرو یہ بھی فیصلہ کرو کہ اس کے لئے سب سے زیادہ موزوں جگہ کون سی ہے۔ہمارے احمدی دوست کہتے ہیں میں جب ان سے ملا تو میں بھی وہ مینار دیکھنے گیا تو پتہ لگا کہ وہ موزوں جگہ پر نہیں ہے۔ایک ایسی جگہ پر ہے جو آرکیٹیکچر یعنی فن تعمیر کے نقطۂ نگاہ سے موزوں نہیں تھی۔ایسی جگہ کمانڈنگ ہونی چاہئے، اونچی ہونی چاہئے ، کھلا منظر ہو تا کہ دور دور سے نظر آئے لیکن وہ مکانوں میں گھری ہوئی ایک چوک کے اندر جگہ تھی مجھے بڑا تعجب ہوا۔میں نے اس بوڑھے سے پوچھا کہ تم تو بڑے قابل آرکیٹیکٹ ہو تم نے اس یادگار کے لئے اس جگہ کا انتخاب کیوں کر لیا۔اس نے جواب یہ دیا کہ اس کا انتخاب اس لئے کیا کہ مجھے یہ کہا گیا تھا کہ افغان روح آزادی کو خراج تحسین ادا کرنا ہے یعنی یہ کہ وہ تمام دنیا کے اثرات سے آزاد ہے اس کو دنیا کا کوئی خوف نہیں ہے اور حق پر قائم رہنا جانتی ہے یہ تھی اس کی روح۔اور میں جب بچہ تھا میں نے یہاں اسی چوک میں ایک ایسا واقعہ دیکھا تھا کہ وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے میرے دل پر ثبت ہو گیا۔میں نے یہ دیکھا کہ ایک بزرگ زنجیروں میں جکڑا ہوا سنگسار کر نے کیلئے لے جایا جارہا تھا۔ہم بھی بچوں میں شامل ہو کر اسکا نظارہ دیکھنے کے لئے گئے۔میں نے اسکے چہرہ پر ایسی عظمت دیکھی، ایسی آزادی دیکھی، ایسی بے خوفی دیکھی اور ایسا اطمینان تھا اور اس کے چہرہ پر طمانیت کی ایسی مسکراہٹ تھی کہ وہ میرے ذہن سے کبھی نہیں اترتی۔پس جب مجھے میری قوم نے کہا کہ افغان روح آزادی کو خراج تحسین ادا کرنا ہے اور اس کے لئے ایک مینار قائم کرنا ہے تو میں نے سوچا کہ اس سے بہتر اور کوئی جگہ نہیں جہاں میں نے اس آزادی کی روح کو دیکھا تھا۔‘‘
(خطبات طاہر جلد 2 صفحہ 28,29)
پھر ظالم اور مظلوم اور ان کی نفسیاتی جائزہ کے لئے ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ جس میں ظالموں پر جمالی شان کا ذکر ہے کچھ اس طرح سے ہے کہ حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں :
’’اسی طرح قادیان کا ہی ایک واقعہ ہے جو حافظ روشن علی صاحب نے سنایا وہ فرماتے تھے کہ میں ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے ایام میں مدرسہ احمدیہ کی طرف سے آ رہا تھا کہ میں نے دیکھا ایک چھوٹی سی ٹولی جس میں چار پانچ آدمی ہیں مہمان خانے کی طرف سے آ رہی ہے اور دوسری طرف ایک بڑی ٹولی جس میں چالیس پچاس آدمی ہیں باہر کی طرف سے آ رہی ہے وہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دیکھ کر ٹھہر گئیں اور پھر انہوں نے آگے بڑھ کر آپس میں لپٹ کر رونا شروع کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر اس نظارے کا عجیب اثر ہوا اور میں نے آگے بڑھ کر ان سے پوچھا کہ تم روتے کیوں ہو؟ اس پر وہ جو زیادہ تھے انہوں نے بتایا کہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو آپ کو تھوڑے نظر آ رہے ہیں یہ ہمارے گاؤں میں سب سے پہلے احمدی ہوئے۔ ہم لوگوں کو ان کا احمدیت میں داخل ہونا اتنا برا معلوم ہوا اتنا برا معلوم ہوا کہ ہم نے ان پر ظلم کرنے شروع کر دیئے اور یہاں تک ظلم کئے کہ یہ اپنی جائیدادیں اور مکان وغیرہ چھوڑ کر دور کسی اور شہر میں جا بسے ۔ کچھ عرصہ کے بعد ہمیں بھی خدا تعالیٰ نے ہدایت دی اور ہم بھی احمدیت میں داخل ہو گئے لیکن نہ ہمیں ان کی خبر تھی کہ یہ کہاں ہیں اور نہ انہوں نے پھر ہمارے متعلق کوئی خبر حاصل کی ۔ آج جلسہ سالانہ پر ہم آئے ہوئے تھے کہ ادھر سے ہم آ نکلے اور اُدھر سے یہ آ نکلے اور ہم نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ ہمیں ان کو دیکھ کر وہ وقت یاد آ گیا جب ہم ان پر ظلم و ستم کیا کرتے تھے اور جب خدا کی آواز پر لبیک کہنے کی وجہ سے ہم نے ان کو ان کے گھروں سے نکال دیا اور انہیں بھی وہ زمانہ یاد آ گیا جب ہم نے انہیں دُکھ دیئے تھے اور ہم دونوں بیتاب ہو کر رونے لگ گئے۔ تو بڑے بڑے دشمن ہدایت پا جاتے ہیں اور بڑے بڑے مخالف راہ راست پرآجاتے ہیں۔‘‘
(خلافت علی منہاج نبوت جلد 3 صفحہ 311-312)
پس یہ حقیقت حال ہے یعنی حالات کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کا سلوک اپنے بندوں کے ساتھ یوں ہوا کرتا ہے۔