اردو زبان کے تعلق سے ماہ اپریل 2025ء میں ایک معاملہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کے معزز جج صاحبان محترم سدھا نشو ڈھلیا اور محترم کے .ونود چندر نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے تبصرہ فرمایا:
"Language is not religion. Language does not even represent religion. Language belongs to a community, to a region, to people and not to religion. A comprising justice Sudhanshu Dhulia and K.Vinod Chandran said, dismissing plea that objected to display of an Urdu signboard outside Patur civic body office.*** The prejudice against Urdu stems from the misconception that Urdu is alien to India. This opinion, we are afraid, is incorrect as Urdu like Marathi and Hindi is an Indo Aryan language."
(The Hindustan Times 04.04.2025)
زبان نہ تو مذہب ہے اور نہ ہی مذہب کا نمائندہ ہے۔ زبان ایک سماج ایک علاقہ اور ایک قوم کی ہوتی ہے نہ کہ ایک مذہب کی۔ یہ تعصب اسی غلط فہمی کی وجہ سے ہے کہ اردو باہر کی زبان ہے مراٹھی اور ہندی کی طرح نہیں۔ یہ ایک انڈو آرین زبان ہے اور اسی ملک میں اسکا جنم ہوا ہے باہر سے نہیں آئی۔
واقعہ دراصل یوں ہے کہ صوبہ مہاراشٹرا کے ضلع اکولا کے پیٹور کی میونسپل کائونسل کی بلڈنگ پر ایک سائن بورڈ پر اردو میں نام لکھا گیا تھا جس پر ایک کائونسلر مکرمہ ورساتائی صاحبہ نے اعتراض کیا اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا ۔پھر ہائی کورٹ میں بھی اسکی عرضی خارج ہو کر سپریم کورٹ گئی۔ جہاں سے اسے ناکام اور نامراد لوٹنا پڑا ۔ ہندئووں کے متعصب طبقہ کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے ۔ موجودہ ملکی حالات میں جب کہ محبت ، انسانیت ، مذہبی رواداری اور بھائی چارہ کے بجائے کچھ سیاسی اور مذہبی رہنمائوں نے نفرت کا بازار گرم کر رکھا ہے امید ہے کہ وہ اپنی کرتوت سے باز آئیں گے۔
تاہم اس مایوس کن حالت میں روشنی کی ایک شعاع اور اچھائی کی ایک جھلک نظر آئی ہے کیونکہ اس تعلق سے کئی مشہور اخبار کے مدیران ،کئی عالم ،ذہین و فہیم روشن خیال دانشور اور معاشرتی تبصرہ نگار احباب نے اخباروں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا جو پڑھنے اور جاننے کے لائق ہیں اور میں یہاں کچھ انگریزی اخباروں میں شائع شدہ چند اقتباسات درج کر دینا مناسب سمجھتا ہوں جو سراسر اردو کے حق میں ہیں۔
قبل اسکے خاکسار یہ واضح کر دینا چاہتا ہے کہ میری تعلیم اڈیہ ،انگریزی اور سنسکرت زبان میں ہوئی ہے۔ نیز جماعت کا لٹریچر پڑھتے پڑھتے میں نے کچھ اردو زبان کی شیرینی، انداز بیان،نزاکت ، نظم و نثر میں مصفا و ملائم بہائو اور دل چھولینے والی کشش نے مجھے اس زبان کو سیکھنے میں ہمیشہ آمادہ کیا ۔ باقی زبانیں بھی اچھی ہیں لیکن جو مٹھاس اردو زبان میں ہے وہ کسی میں نہیں۔اسکی شعر و شاعری کا کوئی مقابلہ نہیں اگر چہ میں اس زبان کا طفل مکتب ہوں۔ مسلمانوں کے ایک بڑے حصہ نے اردو کو اپنایا ہوا ہے لیکن اس کا تعلق اسلام سے نہیں ہے صرف بر صغیر ہند و پاک میں اردو بولی جاتی ہےکیونکہ اس کی پیدائش بھی یہیں پر ہوئی ہے باقی تقریبا ً 50سے زاید ممالک میں جہاں پر مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے اردو نہیں بولی جاتی یہاں تک کہ ہندوستان کے کیرلہ، تامل ناڈو، کشمیر اور بنگال صوبہ جات میں بھی جہاں مسلمانوں کی بھاری اکثریت ہے اُردو نہیں بولی جاتی۔ بنگلہ دیش نے بھی اردو کے خلاف جاکر پاکستان سے علیحدگی اختیار کی۔میری طرح اور بھی غیر مسلم احباب ہیں جو اردو سیکھنے اور پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔کچھ مشہور و معروف ہندو سکھ ادیب بھی ہیں جنہوں نے اردو زبان کو پروان چڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ جناب مدیر صاحبہ The Tribuneنے Urdu is our ownکے زیر عنوان لکھا۔
After the mosque it's Urdu that seems to have become an eyesore for the hate brigade in India. Describing Urdu as the finest specimen of the "Ganga Jamuni tehzeeb", the court asserted that viewing it as a language of Muslims was a pitiable digression" from reality as well as unity in the diversity. The apex court rightly pointed out that the word Hindi itself came from the Persian 'Hindavi'. That won't be music to the ears of Hindutva zealots.
(The Tribune 17.04.2025)
انگریزی اخبار The Tribuneکے 17.04.25کے اداریہ میں مکرمہ جیوتی ملہوترہ صاحبہ نے لکھا ہے کہ اردوہماری اپنی ہے ہندوستان میں نفرت پھیلانے والی فوج کے دستہ کیلئے مسجد کے بعد لگتا ہے اردو آنکھوں کا خار بنی ہوئی ہے ۔ عدالت نے اردو کو گنگا جمنی تہذیب کا بہترین نمونہ بتایا ہے اور اسے مسلمان کی زبان کہنا بڑے افسوس کی بات ہے۔ لفظ ہندی، فارسی، ہندوی سے آیا ہے اور یہ بات کٹر پنتھی ہندئوں کو اچھی نہیں لگے گی۔
اگر چہ کچھ مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے اردو کو ختم کرنے کی کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اب بھی اترپردیش میں ایک کثیر تعد اد اردو بولنے والے لوگوں کی ہے۔ شمالی ہندوستان کے اکثر صوبہ جات میں ابھی بھی اردو بولنے والے بہت لوگ مل جائیں گے لیکن جنوبی ہندوستان میں بھی مہاراشٹرا، آندھرا پردیش ،تلنگانہ ، کر ناٹک اور اڈیشہ میں بھی ایک اہم طبقہ اردو بولنے والا ہے۔ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق مہاراشٹر امیں75.4 لاکھ اور کرناٹک میں66.18 لاکھ (یعنی10.83 فیصد آبادی ) اردو بولتی ہے۔ اردو کے لفظی معنی ترک زبان میں لشکر کے ہوتے ہیں۔ چودھویں صدی میں فارسی بولنے والے فوجی جب ہندوستان کے برج، اودھی اور کھڑی بولی بولنے والے لوگوں سے بات چیت کرتے رہے، تو اس طرح سے ایک کھچڑی زبان یا یوں کہئے کہ لشکری زبان اردو کی صورت میں پیدا ہوئی جو دراصل ترکی، فارسی، عربی، کھڑی بولی، بھوجپوری،اودھی، برج وغیرہ کے سنگم سے پیدا ہوئی۔ قرآن شریف کا ترجمہ اردو میں اٹھارویں صدی میں کیا گیا جبکہ اس سے قبل تلسی داس جی کی تحریرات میں اردو کے الفاظ پائے جاتے ہیں ہماری روز مرہ کی زندگی میں عدالت ،کچہری اور دیگر اداروں میں روزانہ کی بول چال میں اردو الفاظ کا استعمال بلاجھجک ہوتا ہے بڑے بڑے شاعر نہ صرف اردو شاعری کرتے رہے بلکہ اس زبان کے بڑے مداح بھی ہیں۔ ایک مشہور و معروف شاعر جناب سمپورن سنگھ کالر اعرف گلزار صاحب نے ایک فلم میں جو گانا لکھا تھا اس میں ایک شعر یہ تھا:
’’وہ یار ہے جو خوشبو کی طرح
وہ جس کی زبان اردو کی طرح ‘‘
آنند بخشی، فراق گورکھپوری ، شیلیندر وغیر ہ بہت اچھے ہندو شعراء اردو میں کمال کی شاعری کرتے رہے جس کو کیاہندو، کیا مسلمان، کیا سکھ وغیرہ سب اہل زبان پسند کرتے ہیں۔
اسی طرح18 اپریل 2025ء کے ٹریبیون میں Letters to the Editor کے کالم میں محترمہ سادھنا صاحبہ نے لکھا ہے کہ بہت سارے ہندو مصنفین جیسے منشی پریم چند، کرشن چند، ترلوک چند محروم و غیرہ کا اردو مضمون نویسی میں ایک اہم حصہ رہا ہے’’ اپنی اردو محبت کی زبان تھی مگر سیاست نے اسے مذہب سے جوڑ دیا ہے۔“
چونکہ ہندوستان کے شمالی اور درمیانی علاقہ میں مسلمان زیادہ تر اردو بولتے ہیں اس لئے متعصب ہندو سیاست دانوں کو اردو سے نفرت ہو گئی۔ ساحر لدھیانوی نے اردو زبان کو ہندوستان میں ختم کرنے کی مہم کو دیکھتے ہوئے بڑے افسوس، دکھ اور حسرت کے ساتھ ’’جشن غالب ‘‘کے موقعہ پر جو لکھا تھا اُس کے چند اشعار درج ذیل ہیں۔
جن شہروں میں گونجی تھی غالب کی ندا برسوں
ان شہروں میں اردو بے نام و نشاں ٹھہری
آزادئ کامل کا اعلان ہوا جس دن
معتوب زبان ٹھہری غدار زبان ٹھہری
جس عہد سیاست نے یہ زندہ زباں کچلی
اس عہد سیاست کو مرحوموں کا غم کیوں ہے
غالب جسے کہتے ہیں اردو کا ہی شاعر تھا
اردو پہ ستم ڈھاکر غالب پہ کرم کیوں ہے
معروف معاشرتی تبصرہ نگار محترمہ اِرا پانڈے صاحبہ نے27اپریل 2025ء کے ٹریبیون اخبار میں اس تعلق سے اپنا اظہار خیال جس طرح کیا ہے اس کا چیدہ چیدہ درج ذیل حصہ قارئین کے لئے پیش ہے۔
I have been reading with great interest what several eminent writers and public intellectuals have to say about a determind campaign led by right wing Hindu gangs (that is what they appear to be, for they have nothing but hatred for Muslims and their tongue as a weapon in their arsenal) against Urdu. They seem determined to drag out one of the sweetest and most civil languages of this country and flog it to death. For someone who has grown up in Uttar Pradesh and admired the gentle tones of public speech and the terms of address that Urdu brought into everyday street speak, I am aghast at the crudeness with which this language is being attacked.
Urdu celebrates syncretic ethos of this country in ghazals, qawwalis and dohas and is understood many more than the kind of Sanskritised Hindi that is being tried to be placed in its stead.
میں کئی سارے ممتاز مصنفین مشہور عوامی شخصیات اور دانشوران جو کٹر پنتھی ہندوٹولی کی اردو کے خلاف مضبوط مہم (ایسا ہی لگتا ہے کہ ان کے اسلحہ خانہ میں سوائے مسلمانوں کے اور ان کی زبان کے خلاف نفرت بطور اوزار کے اور کچھ بھی نہیں ہے) کے بارے میں جو کہتے ہیں ان سب کو بڑی دلچسپی کے ساتھ پڑھتی رہتی ہوں۔ یہ لوگ مصمم ارادہ کے ساتھ اس ملک کی ایک میٹھی اور بہت ہی شائستہ بولی کو کھینچ کر موت کے گھاٹ اتار دینا چاہتے ہیں۔ میرے جیسا ایک فردجو اتر پردیش میں پلی بڑھی ہےاور عوامی تقریر کے نرم لہجے اور اردو زبان کی روزمرہ کی گلیوں میں آنے والے اصطلاحات کی تعریف کرتی ہے، میں اس بے رحمی سے پریشان ہوں جس کے ساتھ اس زبان پر حملہ کیا جا رہا ہے۔
اردو نے غزل، قوالی اور دوہا کی صورت میں اس ملک کے نفس کو ابھارا ہے اور یاد گار بنایا ہے اور Sanskritised Hindi سے جس کو اس کی جگہ تھو پا جارہا ہے اردو کو کئی گنا لوگ سمجھتے ہیں۔
جناب آلوک رائے صاحب انگریزی پروفیسردہلی یونیورسٹی19 اپریل 2025ء کے ٹریبیون میں زیر عنوان
"War on Urdu is war on our composite culture"لکھتے ہیںـ:
Of course Urdu, is a product of centuries of cultural and linguistic mixing among diverse peoples on and around the fertile plains of north India.
And Urdu is but one gem produced in this process and Varshatai would be hard put to find any Urdu outside the subcontinent except among expatriate communities who long for its fluent eloquence, its sinuous charm.
اردو پر حملہ ہماری ملی جلی تہذیب پر حملہ ہے جی ہاں بے شک شمالی ہندوستان کے زرخیز ہموار علاقے کے مختلف لوگوں کی زبان اور تہذیب کی صدیوں کی ملاوٹ کی اردو پیداوار ہے۔ ایک گوہر جو اس طریقہ عمل میں پیدا ہوئی ہے اور Varshatai کو بر صغیر ہندوستان کے باہر اردو نظر آنا مشکل ہے سوائے شہر بدر رعایا میں جو اس کی فصاحت و بلاغت اور لہر دار کشش کو ترستے ہیں۔
محترم وی. کے. آنند صاحب 18اپریل 2025ء کے ٹریبیون میں Letters to the Editor کے کالم کے حصہ میں لکھتے ہیں :
Undoubtedly, the Urdu language is part and parcel of Indian history, culture and literature. Many impressive words in local dialects have been borrowed from Urdu. Urdu elicit compassion and affection. Recitation of shayari is incomplete without endearing words like aarzoo, deedar, ehsas, gulshan, and naaz.
بلا شبہ اردو زبان ہندوستان کی تاریخ، تہذیب اور ادب کا اٹوٹ حصہ ہے بہت سارے مؤثر الفاظ ہماری مقامی زبانوں میں اردو سے لئے گئے ہیں اردو ہمد ردی اور محبت ظاہر کرتی ہے۔ آرزو، دیدار، احساس، گلشن اور ناز جیسے خوبصورت امتیاز ی الفاظ کے بغیر سخن شاعری نامکمل رہتا ہے۔ پر شاد بھارتی کی سابقہ صدر محترمہ مرنال پانڈے صاحبہ22اپریل 2025ء کے انڈین ایکسپریس کی اشاعت میں لکھتی ہیں کہ :
Interestingly, with literacy level low in the Hindi belt and more Persian script writers being available courtesy of the Mughal court by the 1820s. Calcutta, and not Delhi or Awadh, rose to be a major centre for publishing books it both Urdu and Hindi. Two popular newspapers came up under the ownership of not Muslims, but Bengali Hindus: Raja Ram Mohan Roy' s Persian weekly Mirat-ul-Akhbar, and Harihar Dutta' s (originally a publisher of Bengali books) Urdu newspaper, Jam-e-Jahan Numa. Once cost effective and portable litho publishing reached Bihar, Agra and Awadh, Urdu publishing began to flourish there as well.
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندی علاقہ میں ادب کا معیار کم، اور مغل عدالتوں کے طفیل فارسی میں دستی تحریر کرنے والے زیادہ لوگوں کے دستیاب ہونے کی وجہ سے دہلی یا اودھ کی بجائے کلکتہ ہندی اور اردو کی کتب شائع کرنے کا ایک بڑا مر کزبن گیا۔مکرم راجہ رام موہن رائے کا فارسی ہفتہ وار اخبارمرأت الاخبار اور ہری ہر دتہ کا اردو اخبار جام جہاں نما دونوں عوام کےہردلعزیز اخبار بنگالی ہندو نہ کہ مسلمانوں کے زیر ملکیت جاری ہوئے۔ جب یہ کم لاگت سود مند ہلکی شئے پتھر کا چھاپا اخبار بہار، آگرہ اور اودھ پہنچنے لگا تو وہاں پر بھی اردو میں طباعت و اشاعت پھلنے پھیلنے لگی۔
آزادی کے ان 78 سالوں میں اردو زبان تیزی سے سمٹتی جارہی ہے۔ اب اکثر اسکول وکالجوں میں جہاں اردو اور فارسی پڑھائی جاتی تھی، پڑھائی نہیں جارہی ہے کیونکہ سرکار کی طرف سے اردو کو پڑھانے کے بجائے کچلنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اب ہندو سکھ تو در کنار مسلمانوں کے بچے بھی اردو نہیں پڑھتے ہیں۔ جن گھروں میں اردو بولی جاتی ہے ان کےبچے تھوڑی بہت اردو تو بول لیتے ہیں مگر لکھ پڑھ نہیں سکتے۔ جماعتی اخبارات یار سائل اور دیگر لٹریچر جو اردو میں ہیں ان کو خرید کر پڑھنے والے احمدی بھی کم ہوتے جارہے ہیں کیونکہ وہ اردو پڑھ نہیں سکتے جبکہ جماعت کی زیادہ تر کتب اور دیگر لٹریچر نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیفات اردو میں ہیں۔ کچھ کے تو دیگر زبانوں میں ترجمے بھی ہو چکے ہیں لیکن سب کے نہیں ہوئے۔نیز اصل عبارت کے پڑھنے کا مزہ اور اثر الگ ہی ہوتا ہے۔
لہٰذا جماعت کی بھی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اردو کو فروغ دے۔ صرف قادیان میں کافی حد تک اس طرف توجہ دی جارہی ہے اور وہ کافی نہیں ہے۔ جو معلم یہاں سے فارغ ہو کر جاتے ہیں ان کی اردو اتنی کمزور ہے کہ حیرانی ہوتی ہے۔ وہ آگے جا کر کیا اردو پڑھائیں گے۔ ہر چھوٹی بڑی جماعت میں اردو پڑھانے اور سکھانے کی باقاعدہ ایک مہم جاری ہونی چاہئے ورنہ جماعت تو آئندہ 100 سالوں میں ان شاء اللہ بیشتر جگہوں پر پھیل جائے گی لیکن اردو پڑھنے لکھنے والے احمدیوں کی تعداد کم ہوتی جائے گی، کیونکہ ہندوستان جہاں اردو کی پیدائش ہوئی ہے اور جہاں جماعت کی بنیاد پڑی ہے وہاں اردو کو ختم کرنے کی مہم بہت تیزی سے چل رہی ہے اور جب یہاں اردو برائے نام رہ جائے تو باقی دنیا میں جہاں اردو نہیں بولی جاتی ہے اور نہ وہاں اس کا نام و نشان ہے، وہاں کس طرح پھیلے گی وہ تو صرف بڑی بڑی یونیورسٹی میں تحقیق کے مقالہ کےطور پررہ جائے گی۔
(ڈاکٹر طارق احمد ایس.ایم.او .نور ہسپتال قادیان)