اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-12-26

مسجد فضل لندن - سنگ بنیاد تعمیر و افتتاح

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 6جنوری 1920 بروز سوموار احباب جماعت کے نام ایک پیغام تحریر فرمایا جس میں آپؓنے لندن میں ایک مسجد کی تعمیر کرنے کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے لئے تیس ہزار روپیہ جمع کرنے کی تحریک فرمائی۔ صرف قادیان کی جماعت نے بارہ ہزار روپے چندے میں دئیے۔ چنانچہ یہ دیکھتے ہوئے کہ اس طرح تو گورداسپور، امرتسر اورلاہور سے ہی تیس ہزار روپے اکٹھے ہوجائیں گے اور باقی جماعت اس کار خیر سے محروم ہوجائے گی، آپؓنے تیس ہزار کی بجائے ایک لاکھ روپے جمع کرنے کی تجویز کا اعلان فرمایا۔اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس نے حضور رضی اللہ عنہ کو 1924 میں یورپ بالخصوص لندن کے سفر کی توفیق عطا فرمائی، اور یہ ازل سے مقدر تھا کہ مسیح کا خلیفہ مسیح کا جانشین بنکر یورپ اور شام کا سفر کرے تاکہ بہت ساری پیشگوئیاں اس کے وجود سے پوری ہوں،اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضورہی کے ہاتھ سے مسجد فضل کی سنگ بنیاد رکھوائی۔6جنوری 2020 کا حضور رضی اللہ عنہ کا تاریخی پیغام جو مسجد فضل لندن کے چندے کیلئے تھا،اس تاریخی پیغام کو ہم من و عن ذیل میں درج کرتے ہیں۔ آپؓنے فرمایا :
’’برادران ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ولایت کی تبلیغ کا کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے جس عمدگی اور کامیابی کے ساتھ ہورہا ہے وہ آپ لوگوں سے پوشیدہ نہیں کیونکہ ہمیشہ اس کام کے متعلق رپورٹیں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ جس وقت سے یہ کام شروع کیا گیا ہے، ہمارے ولایت کے مبلغین برابر اس امر پر زور دیتے رہتے ہیں کہ اس وقت تک یہ کام کما حقہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی مسجد نہو اور اپنا مکان نہو، کیونکہ مسجد نہ ہونے سے لوگوں کی توجہ ہمارے کام کی طرف منتقل نہیں ہوتی اور وہ ہمارے کام کو ایک مذہبی تبلیغ نہیں بلکہ ایک پُراسرار تحریک خیال کرتے ہیںاور مکان اپنے کے نہ ہونے کے سبب سے جلدی جلدی نقل مکانی کرنی پڑتی ہے جس کے باعث تبلیغ کا خاص مرکز قائم نہیں ہوسکتا۔ ہمارے مبلغین کی یہ درخواست واقعی قابل توجہ ہے۔ مگر میرے نزدیک اپنی مسجد کے بنوانے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ کچھ خاص برکات ہیں جو بغیر مسجد کے حاصل نہیں  ہوتیں۔ پس ان کے حاصل کرنے کے لئے مسجد کی تعمیر نہایت ضروری ہے اور یہ موقعہ اس کام کے لئے سب سےبہتر ہے کیونکہ اس وقت پونڈ کی قیمت گری ہوئی ہے اور ہم اگر یہاں سے دس روپے بھیجیں تو ولایت میں اس کےبدلہ میں ایک پاؤنڈ مل جاتا ہے گویا اس وقت روپیہ بھیجنے سے ہمیں  ڈیوڑھا روپیہ ملنے کی اُمید ہے۔ پس ان تمام امور کو مد نظر رکھ کر مَیں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسی ماہ میں ایک معقول رقم جس کا اندازہ تیس ہزار کیا جاتا ہے، مسجد لنڈن کے لئے یہاں سے بھجوادی جائے جو اُمید ہے کہ وہاں پچاس ہزار کے قریب ہوجاویگی اور اس سے ایک گزارہ کے قابل مسجد اور مختصر مکان بن سکے گا اور مَیں اس اعلان کے ذریعہ تمام احمدی احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد اس رقم کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور اپنے اپنے چندے فوراً بھجوادیں تاکہ اسی ماہ ولایت روانہ کئے جاسکیں گو اس قدر رقم کا اسقدر قلیل عرصہ میں ہماری جماعت کی حیثیت کو مدّنظر رکھتے ہوئے جمع ہونا بادی النظر میں مشکل معلوم ہوتا ہے خصوصاً جبکہ دیکھا جاتا ہے کہ ہماری جماعت کےلوگ ایک کثیر رقم ماہواری چندہ کے طور پر ادا کرتے ہیں  لیکن اس جماعت کے اخلاص اور اس کام کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے مَیں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے مرد اور عورتیں اس کارخیر کے پورا کرنے میں دلی جوش سے قدم بڑھائینگے اور اس امر کو ثابت کردینگے کہ خدا تعالیٰ کی برگزیدہ جماعتیں جب کسی کام کے لئے ارادہ کرلیتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کو کرکے چھوڑتی ہیں۔ مومن کے اخلاص اور اس کے عزم کے سامنے دنیا کی کوئی مشکل نہیں ٹھیر سکتی اور پہاڑ بھی اس کے سامنے کائی کی طرح اُڑجاتے ہیں اور دریا پایاب ہوجاتے ہیں  پس اَے جماعت احمدیہ کے احباب تم اس کام کے لئے عزم کرلو اور پختہ ارادہ کے ساتھ اس کے لئے اٹھو اور پھر خدا تعالیٰ کی قدرت کا تماشہ دیکھو کہ وہ کس طرح تمہاری مدد کرتا ہے کیونکہ یہ کام درحقیقت خدا تعالیٰ کا کام ہے اور تم صرف ایک ہتھیار ہو جسے زبردست ہستی نے اپنے ہاتھ میں پکڑلیا ہے۔
مَیں اس موقعہ پر ان احباب کو خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں جن کو خدا تعالیٰ نے صاحبِ ثروت کیا ہے وہ اس امر کو دیکھیں کہ ان کے دوسرے بھائی جو ابھی حق کے پانے سےمحروم ہیں کس طرح نام و نمود کی غرض سے دس دس بیس بیس ہزار روپیہ خرچ کرکے ایسے مقامات پر مساجد تیار کراتے ہیں جہاں مساجد کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کے حصول اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے ان سے بڑھ کر نہیں ، تو ان کے برابر تو ہمت دکھائیں، مگر نہیں یہ ایک مایوسی کا کلمہ ہے اور مومن مایوس نہیں ہوتا ۔ مَیں یہی کہونگا کہ بہر حال وہ ان سے بڑھ کر ہمت دکھائیں اور خدا تعالیٰ کے فضلوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کی دعاؤں کے مستحق بنیں۔ وہ یاد رکھیں انگلستان وہ مقام ہے جو صدیوں سے تثلیث پرستی کا مرکز بن رہا ہے اور اس میں ایک ایسی مسجد کی تعمیر جس پر سے پانچ وقت لا الہ الا للہ کی صدا بلند ہو کوئی معمولی کام نہیں ہے، یہ ایک ایسا عظیم الشان کام ہے جس کے نیک ثمرات نسلاً بعد نسلٍ پیدا ہوتے رہینگے اور تاریخیں اس کی یاد کو تازہ رکھیں گی۔ وہ مسجد ایک نقطہ مرکزی ہوگی جس میں سے نورانی شعائیں نکل کر تمام انگلستان کو منور کردیں گی۔ بے شک اس سے پہلے بھی وہاں ایک مسجد قائم ہے مگر وہ ایسے وقت میں بنائی گئی تھی جبکہ اس مسجد کی ضرورت نہ تھی اور صرف اسلام کا نشان قائم کرنے کے لئے اسے تیار کیا گیا تھا مگر یہ مسجد ضرورت پڑنے پر تعمیر ہوگی ۔ پس یہی مسجد پہلی مسجد کہلانے کی مستحق ہے کیونکہ اس کی تعمیر کے پہلے دن سے ہی اس پر لا الہ الا اللہ کا نعرہ بلند ہونا شروع ہوجائے گا جبکہ پہلی مسجد سالہا سال تک مقفل اور بند رہی ہے ۔ پس اَے صاحب ثروت احباب بلند حوصلگی سے اُٹھو اور ہمیشہ کے لئے ایک نیک یادگار چھوڑو تا ابدی زندگی میں اس کے نیک ثمرات پاؤ۔ وہ ثمرات جن کی لذت کا اندازہ انسانی دماغ کر ہی نہیں سکتا اور یاد رکھو کہ غرباء ہزاروں طریق سے خدمت دین کرکے ثواب کمارہےہیں اور اس کام میں بھی وہ اپنے ذرائع کے مطابق یہی کوشش کرینگے کہ اپنے امیر بھائیوں سےآگے نکل جاویں کیونکہ وہ خدمات دین کرتے کرتے بوجھ اُٹھانے کے عادی ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ  تمام احمدی احباب کے قلوب کو کھول دے اور ان کے حوصلوں اور ذرائع کو وسیع کردے اور اس کام کے بہت جلد تکمیل کو پہنچنے کے سامان پیدا کردے۔ اللہم آمین ۔ثم آمین۔واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح ثانی،مورخہ6جنوری 1920ء۔‘‘
’’مکرر یہ کہ مَیں اس حد تک لکھ چکا تھا کہ مَیں نے قادیان کےاحباب کو جمع کرکے چندہ کی تحریک کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پانچ ہزار کے قریب چندہ قادیان سےہی ہوگیا۔ دوسرے دن پھر عورتوں اور مردوں میں تحریک کی تو چندہ کی مقدار گیارہ ہزار سے بھی بڑھ گئی اور بارہ ہزار کے قریب پہنچ گئی جس میں سے سات ہزار وصو ل بھی ہوچکا ہےاور باقی بھی بہت جلد وصول ہوجائیگا انشاء اللہ۔ اس غریب جماعت سے اس قدر چندہ کی وصولی خاص تائید الٰہی کےبغیر نہیں ہوسکتی تھی اور مَیں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اس چندہ کے ساتھ شامل ہے۔ ان دنوں میں قادیان کے لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا اور اس کا وہی لوگ ٹھیک اندازہ کرسکتے ہیں جنہوں نے اس کو آنکھوں سے دیکھا ہو۔ اخلاص تو نیا نہیں پیدا ہوتا وہ تو دل میں پہلے سے ہوتا ہے مگر اس کے اظہار کا یہ ایک خاص موقعہ تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ قادیان کے احمدیوں کا اخلاص اُبلنے کے درجہ پر پہلے سے پہنچا ہوا تھا اور صرف بہانہ ڈھونڈ رہا تھا اور مرد اور عورت اور بچے سب ایک خاص نشہ ٔمحبت میں چور نظر آتے تھے۔ عورتوں کا ہی چندہ دو ہزار سے بڑھ گیا اور قریباً سب کا سب فوراً وصول ہوگیا۔ کئی عورتوں نے اپنے زیور اُتاردئیے اور بہتوں نے ایک دفعہ چندہ دیکر پھر دوبارہ جوش آنے پر اپنے بچوں کی طرف سےچندہ دینا شروع کیا اور پھر بھی جوش کو دبتا نہ دیکھ کر اپنے وفات یافتہ رشتہ داروں کے نام سے چندہ دیا ۔ بچوں کے جوش کا یہ حال تھا کہ ایک بچہ نے جو ایک غریب اور محنتی آدمی کا بیٹا ہے، مجھے ساڑھے تیرہ روپے بھیجے کہ مجھے جو پیسے خرچ کرنے کے لئے ملتے تھے ان کو مَیں جمع کرتا رہتا تھا، وہ مَیں سب کے سب اس چندہ کے لئے دیتا ہوں نہ معلوم کن کن اُمنگوں کے ماتحت اس بچہ نے وہ پیسے جمع کئے ہونگے لیکن اس کے مذہبی جوش نے خدا کی راہ میں ان پیسوں کے ساتھ ان اُمنگوں کو بھی قربان کروادیا۔ اَنْبَتَہُ اللہُ نَبَاتًا حَسَنًا۔ مدرسہ احمدیہ کے غریب طالب علموں نے جو ایک سو سے بھی کم ہیں اور اکثر ان میں سے وظیفہ خوار ہیں ساڑھے تین سو روپیہ چندہ لکھوایا اور ان کی حالت مالی کو مد نظر رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ کے لئے اپنے اشد ضروریات کے پورا کرنے سے بھی محرومی اختیار کرلی ۔ اسی طرح ٹریننگ کلاس کے طلباء نےجن کی کل تعداد اٹھارہ ہے ساڑھے تین سو روپیہ چندہ لکھوایا۔ مدرسہ ہائی کے بچوں نے چھ سو کے قریب چندہ لکھوایا۔ غرض بچوں نے بھی اس اخلاص کا نمونہ دکھایا جو دوسری اقوام کے بڑوں میں بھی موجود نہیں ہوتا۔
یہ حال جب عورتوں اور بچوں کا تھا جو بوجہ کمی علم یا قلت تجربہ کے دینی ضروریات کا اندازہ پوری طرح نہیں کرسکتے تو مردوں کا کیا حال ہوگا اسے خود قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ایک بڑی تعداد ایسے آدمیوں کی تھی جنہوں نےاپنی ماہوار آمدنیوں سے زیادہ چندہ لکھوایا جن میں سے ایک معقول تعداد ان لوگوں کی تھی جنہوں نے تین تین چار چار گنے چندہ لکھوایا۔ بعض لوگوں کا حال مجھے معلوم ہوا کہ جو کچھ نقد پاس تھا انہوں نے دے دیا اور قرض لیکر کھانے اور پینے کے لئے انتظام کیا۔ ایک صاحب نے جو بوجہ غربت زیادہ رقم چندہ میں داخل نہیں کرسکتے تھے، نہایت حسرت سے مجھے لکھا کہ میرے پاس اور تو کچھ نہیں میری دوکان کو نیلام کرکے چندہ میں دیا جاوے ، گو ان کی اس درخواست کو مَیں قبول نہیں کرسکتا تھا، مگر اس سےاس اخلاص کا پتہ لگتا ہے جو ان کے دلوں  میں موجزن تھا۔ بعض لوگوں نے سکنی زمینیں چندہ میں دے دیں۔ غرض بے نظیر قربانی کے ساتھ قادیان کی غریب جماعت نے بارہ ہزار کے قریب روپیہ چندہ میں لکھوایا اور سب سے عجیب تر بات یہ ہے کہ اس میں سے اکثر حصہ نقد وصول ہوگیا اور لوگوں نے بجائے آہستہ آہستہ چندہ ادا کرنے کے زیورات وغیرہ فروخت کرکے اپنے وعدے اداکردئیے اور باقی بھی عنقریب انشاء اللہ وصول ہوجاوینگے۔ جزاہم اللہ خیرا۔
میرا قادیان کے حالات کے بیان کرنے سے جہاں یہ مطلب ہے کہ بیرونجات کے احباب کو تحریک پید اہو وہاں میرا یہ بھی منشاء ہے کہ مَیں اس غلط فہمی کو دُور کروں جو بعض بیرونی جماعتوں میں پھیلی ہوئی ہے کہ قادیان کے لوگ دینی کاموں میں حصہ نہیں لیتےچنانچہ اسی جلسہ پر مجھ سے ایک شخص نے کہا کہ آپ قادیان کے لوگوں کو باہر نکالیں کہ کچھ کام بھی کریںاور چندہ بھی دیں اور بوجھ نہ بنیں ۔ حالانکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ چند معذور آدمیوں کے سوا باقی تمام کے تمام احباب قادیان سخت محنت سے اپنی روزی کماتے ہیں اور اپنے فارغ اوقات کو دین کی اشاعت کے لئے صرف کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سے عموماً دوسری جماعتوں کی نسبت زیادہ حصہ خدا کی راہ میں نکالتے ہیں۔ غرض ان کے اموال اور ان کی جانیں خدا کی راہ میں قربان ہورہی ہیں۔ الا ماشاء اللہ۔ اور مَیں سمجھتا ہوں کہ اگر انہی کے نقش قدم پر چل کر باہر کی جماعتیں کوشش کریں تو تیس ہزار تو کیا چیز ہے ایک ماہ میں دو لاکھ روپیہ کا جمع ہوجانا بھی کچھ مشکل نہیں ۔ کم سے کم وہ لوگ جن کو قادیان کے احمدیوں پر شکوہ ہے ان سے مَیں امید کرتاہوں کہ اس موقعہ پر اپنے شکوہ کو عملی طور پر سچا ثابت کرکے دکھائینگے تاکہ ان کے اس گناہ کا بھی کفارہ ہوجاوے جو اپنے بھائیوں پر بدظنی کرکے ان سے سرزد ہوا ہے۔
قادیان کے چندہ کے ساتھ ہی مَیں احباب کو یہ خوشخبری سناتا ہوں کہ امرتسر اور لاہور کی جماعتوں نے بھی (جو اس بدظنی سے جس کا مَیں نے اُوپر ذکر کیا ہے پاک ہیں اور بوجہ قرب اور کثرت تعلقات کے حقیقت سے آگاہ ہیں) خاص ایثار سے کام لیا ہے ۔ خصوصاً امرتسر نے کہ جہاں کی بالکل غریب اور قلیل جماعت نے دو ہزار سے اوپر چندہ لکھوایا ہے۔ لاہور کا چندہ ابھی ہورہا ہے لیکن اس وقت تک جو اطلاع ملی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دس ہزار روپیہ سے انشاء اللہ اوپر ہی چندہ ہوجاویگا فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔
اس رفتار سے مَیں سمجھتا ہوں کہ گورداسپور ، امرتسر اور لاہور اور دوسرے مقامات کے چندے ملکر یہ تیس ہزار کی رقم جس کا مَیں نے شروع میں اعلان کیا ہے، ان تینوں ضلعوں سے ہی پوری ہوجاویگی اور احمدیوں کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے مَیں ڈرتا ہوں کہ اس سے دوسری جماعتوں کو سخت صدمہ ہوگا کیونکہ ایسے اعلیٰ درجہ کے ثواب کا موقعہ ان کے ہاتھوں سے نکل جاویگا۔ پس مَیں اس اعلان کی رقم کو بڑھا کر ایک لاکھ کردیتا ہوں تاکہ تمام جماعتہائے احمدیہ اپنے اخلاص کا اظہار کرسکیں اور ثواب حاصل کرنے کا موقعہ پاویں اور یہ روپیہ کچھ زیادہ نہیں ہے کیونکہ اگر گورداسپور امرتسر اور لاہور کی جماعتیں تیس ہزار روپیہ جمع کرسکتی ہیں تو بقیہ جماعتوں کے لئے ستر ہزار روپیہ جمع کرنا بہت زیادہ آسان ہے اور اگر ایک ماہ کے اندر یہ جمع ہوجاوے تو ولایت میں یہ رقم قریباً قریباً بارہ ہزار پاؤنڈ یا ایک لاکھ اسّی ہزار کے قریب ہمیں مل جاویگی جسکو اس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے کہ علاوہ مسجد کی تیاری کے اسی رقم سے آئندہ ولایت کی تبلیغ اور امریکہ کی تبلیغ کے اخراجات بھی نکالے جاسکتے ہیں اور جماعت کی آئندہ کوششیں ایشیاء اور افریقہ کی تبلیغ کی طرف منتقل ہوسکتی ہیں۔ مَیں امید کرتا ہوں کہ اس رقم کو ہر ایک احمدی اس طرح پورا کرنے کی کوشش کریگا کہ گویا اس کام کا سب بوجھ اسی پر ہے اور اس اکیلے نے اس کام کو کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کام کے پورا کرنے کی توفیق دے اور آپ کی ہمتوں کو بلند اور آپ کی نیتوں کو خالص کرے اور آپ کے کاموں میں برکت دے اور اسلام کی شان کو آپ لوگوں کے ہاتھ پر ظاہر کرے ۔ اللہم آمین ۔ثم آمین۔ثم آمین۔ خاکسار مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی۔
(الفضل قادیان دارالامان 22 جنوری 1920ء )
چار دن بعد یعنی 9جنوری بروز جمعہ اسی موضوع پر حضور رضی اللہ عنہ نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور احباب جماعت کو لندن میں مسجد کی تعمیر کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں آگاہ فرمایا اور اس کے لئے آپؓنے چندے کی بھی تحریک فرمائی۔ اس خطبہ میں سے بعض ارشادات حضور رضی اللہ عنہ کے ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں۔ خطبہ کے شروع میں حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
’’اللہ کے فضل و کرم سے اور اس کی دی ہوئی توفیق سے ہمارا ارادہ ہے ، اور جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے کہ خاص لنڈن میں یا لنڈن کے پاس ایک مسجد تیار کریں۔ اس کے متعلق آج سے تین دن پہلے مغرب کے بعد مَیں نے قادیان میں تحریک کی۔ پھر پر سوں دن میں تمام دوستوں کو باقاعدہ جمع کرکے تحریک کی۔ چونکہ جمعہ کے روز نواحات سے احمدی دوست جمعہ میں شمولیت کے لئے آتے ہیں اس لئے مَیں ان کی اطلاع کے لئے اور نیز ان کی بھی اطلاع کے لئے جنہوں نے پہلے نہ سنا ہو یا سنا ہو تو پوری واقفیت نہ ہوئی ہو یا پوری واقفیت تو ہوئی ہو مگر توجہ نہ کی ہو یا توجہ تو کی ہو مگر مناسب توجہ نہ کی ہو جس قدر کہ اس کام کے لئے ضروری ہے ، ان سب کے لئے آج میں خطبہ جمعہ میں بھی اسی امر کے متعلق توجہ دلاتا ہوں۔ ‘‘
فرمایا : ’’مَیں نے اس تحریک (یعنی مسجد کیلئے چندے کی تحریک- ناقل) کواوّلاً یہاں کے(یعنی قادیان کے- ناقل) دوستوں کے آگے پیش کیا۔ چنانچہ اب تک گیارہ ہزار روپیہ چندہ ہوچکا ہے۔ گویا ساری دنیا کے احمدیوں کے لئے جس قدر چندہ رکھا گیا ہے اس کا تیسرا حصہ قادیان نے دے دیا ہے اور یہ خوشی کی بات ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکز کی جماعت اخلاص میں پیچھے نہیں آگے ہے۔ اور یہ ایک اصول ہے کہ جو جماعتیں قائم رہنے والی ہوتی ہیں ان کے مرکزوں میں اخلاص ہوتا ہےاور اخلاص مرکز سے ہی نکلا کرتا ہے۔ ‘‘
فرمایا : ’’اس میں شبہ نہیں کہ مجھے یقین ہے کہ یہ کام خدا کی رضا کے ماتحت ہورہا ہے۔ مجھے آج تک تین اہم معاملات میں خدا تعالیٰ کی رؤیت ہوئی ہے …… تیسری دفعہ آج مجھے خدا تعالیٰ کی رؤیت ہوئی ہے جس سے مجھے یقین ہے کہ یہ کام مقبول ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے وہ یہی ہے کہ مَیں مسجد لندن کا معاملہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کررہا تھا۔ مَیں اللہ تعالیٰ  کے حضور دو زانو بیٹھا تھا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا جماعت کو چاہئے کہ ’’جد‘‘ سے کام لیں ’’ہزل‘‘ سے کام نہ لیں۔ ’’جد‘‘ کا لفظ مجھے اچھی طرح یاد ہےاور اس کے مقابلہ میں دوسرا لفظ ’’ہزل‘‘ اسی حالت میں معاً میرے دل میں آیا تھا۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ جماعت کو چاہئے کہ اس کام میں سنجیدگی اور نیک نیتی سے کام لے ۔ ہنسی اور محض واہ واہ کے لئے کوشش نہ کرے۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص نیک نیتی سے کام لے اور نمود و نمائش کے خیال کو بالکل دل سے نکال دے……پس تمام احباب کو چاہئے کہ اپنی اپنی نیتوں کو صاف کریں اور دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ اس کام کو ضائع نہ کرے بلکہ اس کے نیک ثمرات پیدا ہوں اور دعا کریں کہ خدایا یہ مسجد تیری عبادت کے لئے مقبول مقام ہو اور دنیا کا مرجع ہو اور لوگوں  میں اشاعت اسلام اس کے ذریعہ ہو اور یہ ہماری کوشش ضائع نہ ہو اور محض اینٹ گارا ہی ثابت نہ ہو ۔ اَے خدا ہماری نیتوں کو درست کر اورہمیں ہمت دے کہ ہم تیرے ہی لئے اس کام کو انجام دیں اور اسلام کے لئے اس کے اعلیٰ درجہ کے ثمرات ہوں اور ہم دیکھ لیں کہ اسلام دُنیا میں پھیل رہا ۔ آمین ثم آمین۔
(الفضل قادیان دارالامان 22 جنوری 1920ء )
اب ہم مسجد کی سنگ بنیاد ، تعمیر و افتتاح وغیرہ کی خبریں الفضل سے ترتیب وار پیش کرینگے۔
سنگ بنیاد رکھنے کا فیصلہ
لنڈن سے حضور رضی اللہ عنہ کا تار بنام حضرت مولانا شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ موصول ہوا کہ :
’’یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پٹنی میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے۔ فی الحال برلن فنڈ سے روپیہ بطور قرض لے لیا گیا ہے۔ مَیں خیال کرتا ہوں کہ جن مقاصد کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے ان ممالک میں بھیجا ہےان میں سے ایک لنڈن میں مسجد کی بنیاد رکھنا بھی ہے۔ ‘‘
( الفضل قادیان دارالامان 23؍اکتوبر 24ء صفحہ 1)
19؍اکتوبر
سنگ بنیاد رکھنے کی تجویز
16؍اکتوبر 1924ء - بارہ بج کر پندرہ منٹ پر لنڈن سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا حسب ذیل تار بنام حضرت مولانا مولوی شیر علی صاحب روانہ ہواجو 17؍ اکتوبر 24ء کوبٹالہ اور پھر اسی دن قادیان پہنچا۔ حضور رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا :
’’خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے لنڈن میں پہلی مسجد کا سنگ بنیاد 19؍اکتوبر بروز اتوار 4 بجے شام رکھا جائے گا۔ تمام احمدیوں سے دعا کی درخواست کی جاتی ہے۔‘‘
(الفضلقادیان دارالامان 21؍اکتوبر 24ء صفحہ 2)
قادیان کی تمام مساجد میں دعا
الفضل قادیان دارالامان کے صفحہ اوّل کے مستقل کالم ’’مدینۃ المسیح‘‘ کے تحت یہ خبر شائع ہوئی۔
’’مسجد فضل لنڈن کی بنیاد رکھنے کی تقریب پر19؍اکتوبر کی رات کو ساڑھے نو بجے دارالامان کی تمام مساجد میں نہایت خشوع و خضوع سے دعا کی گئی۔ ‘‘
(الفضل قادیان دارالامان 23 ؍اکتوبر 24ء صفحہ 1)
سنگ بنیاد کی تنصیب، حضورؓکی تقریر
معززین کی شمولیت
اور اظہار خیالات
مندرجہ بالا عنوان جسے ہم نے کچھ مختصر کردیا ہے، کے تحت الفضل قادیان دارالامان 25؍اکتوبر 24 میں درج ذیل خبر شائع ہوئی۔
’’حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بروز اتوار بتاریخ 19؍اکتوبر 1924ء 63 میلروز روڈمیں لنڈن کی پہلی مسجد کا بنیادی پتھر 4 بجے شام رکھا۔ سب سے پہلے امام مسجد نے ایک مختصر خوش آمدید کا ایڈریس پڑھا اس کے بعد مجمع بنیاد رکھنے کے موقع کی طرف گیا جہاں قرآن شریف کی مختصر تلاوت کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نے تقریر فرمائی جس میں فرمایا مسجد خدا کا گھر ہے جہاں کسی کو حق نہیں کہ وہ اختلاف عقیدہ کی وجہ سے کسی دوسرے کو تکلیف دے یا نکالے اور یہ کہ مَیں چاہتا ہوں تمام دنیا میں اس بات کا اعلان کردوں کہ یہ مسجد خدائے واحد کی عبادت اور پرستش کیلئے بنائی گئی ہے ہم کسی شخص کو یہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے نہیں روکیں گے بشرطیکہ وہ ان قواعد کو نہ توڑے جو اس گھر کے انتظام کے لئے ضروری ہیں۔ اور بشرطیکہ وہ ان لوگوں کی عبادت میں دخل نہ دے جو اس کو بنانے والے ہیں۔
حضور نے فرمایا : مَیں  ایمان اور یقین رکھتا ہوں کہ یہ مسجد تمام جھگڑوں اور لڑائیوں کو دُور کرنے اور لوگوں میں امن ، محبت اور خیرخواہی قائم کرنے میں مدد دیگی اور احمدیہ جماعت خدا کے فضل کے ساتھ تمام قسم کی قربانیاں اس وقت تک کرنے کے لئے تیار ہے جب تک کہ تمام تمدنی اور سیاسی لڑائیاں ختم ہوکر محبت کا دَور دَورہ ہوجائے۔ اس مجمع میں مختلف قوموں کے ممتاز آدمی شامل تھے۔ مثلاً انگریز، جاپانی، جرمن، سروین، زیکوسلویا، ایستھونیا، مصر، امریکہ، اٹلی، ہنگری اور ہندوستان کے رہنے والے۔ نیز مختلف مذاہب کے لوگ عیسائی، مسلمان، پارسی اور یہودی بھی تھے۔ اگرچہ بارش کا دن تھا پھر بھی دو سو سے زیادہ معزز ین اس تقریب میںشامل ہوئے جن میں سے اکثر انگریز تھے۔ ان میں سے حسب ذیل آدمی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ سرالیگزنڈر ڈیک، ورڈزورتھ کا میئر، لیڈی باسوک، مسز این سی سین، ڈاکٹر لیون اور لیڈی لیون۔ان کے علاوہ دوسرے سلطنتوں کے مندرجہ ذیل نمائندے شامل تھے۔ بیرن حیاشی معہ اپنی معززلڑکی کے ۔ جرمن سفیر ایستھونیا اور سرویا کے وزیر اور زیکوسلویا کا نمائندہ ، ترکی اور البانیہ اور فن لینڈ کے وزراء نے بذریعہ خطوط ہمدری کا اظہارکیا جو کہ بیمار ہونے کی وجہ سے نہ آسکے۔انگلینڈ کی تین سیاسی پارٹیوںکے نمائندوں نے بھی ہمدردی کا اظہار کیا جوکہ الیکشن میں مصروف ہونے کی وجہ سے نہ آسکے۔ وزیر اعظم نے دعوت شمولیت پر امام مسجد اور جماعت احمدیہ کا شکریہ اداکرتے ہوئے لکھا افسوس ہے کہ مَیں اس دن لنڈن نہیں ہونگا اس لئے حاضر نہیں ہوسکوں گا۔
اپنی تقریر کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح  نے سنگِ بنیاد نصب کیا اس موقع کا بارہ سے زیادہ فوٹو گرافروں نے فوٹو لیا۔ بعد ازاں سینما کی کمپنیوں نے پہلے جبکہ خموشی تھی اور بعد میں جبکہ دعا کی گئی فوٹولیا۔ اسی جگہ اسی وقت حاضرین کی چائے سے دعوت کی گئی۔
جونہی کہ حضرت خلیفۃ المسیح سنگِ بنیاد رکھ چکے مَیں آپ کا تار بلند آواز سے پڑھ کر حضرت خلیفۃ المسیح کو سُنایا(یہ تار حضرت مولانا شیر علی صاحب نے جماعت کی طرف سے اس تقریب پر مبارکباد کا بھیجا تھا)مجمع میں ایسی دلچسپی پیدا ہوگئی کہ لوگ بہت دیر تک بعد میں بھی اسی جگہ ٹھہرے رہے۔ ان میں اکثر وزراء بھی شامل تھے جو کہ حضرت صاحب اور حضور کے خدام سے باتیں کرتے رہے۔ انہوں نے سلسلہ کے متعلق اپنی گہری دلچسپی ظاہر کی۔ ورڈزورتھ کے میئر نے کہا کہ کوئی مذہب جسے اس تقریر کے کسی حصہ پر بھی اعتراض ہو ، مذہب کہلانے کے لائق نہیں  ہوسکتا۔ اور لکھنے والا فرشتہ اس تقریر کو دوام کی سیاہی میں ڈبوئی ہوئی قلموں کے ساتھ لکھے گا۔ زیکو سلویا کے نمائندہ نے کہا کہ مجھے نہایت ہی خوشی ہے کہ مجھے ایسے عجیب خیالات کو پہلی دفعہ سننے کا موقعہ ملا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان دارالامان 25؍اکتوبر 1924)
حضور رضی اللہ عنہ نے انگریزی میں  مضمون پڑھا تھا مضمون کا مکمل اُردو ترجمہ 20 نومبر 2024 کے الفضل قادیان دارالامان صفحہ 4 پر دیکھا جاسکتا ہے۔
لندن میں مسجد احمدیہ کا سنگ بنیاد
اس عنوان سے الفضل قادیان دار الامان 15؍نومبر 1924صفحہ 6 پر یہ خبر شائع ہوئی۔
19؍اکتوبر 1924ء کو 4 بجے حضرت خلیفۃ المسیح نےلنڈن میں مسجد احمدیہ کا بنیادی پتھر رکھا۔ یہ لنڈن نہیں ، انگلستان نہیں بلکہ یورپ میں پہلی مسجد ہوگی۔ اس لحاظ سے کہ اگر کوئی مسجد اس سے پہلے ہے تو وہ کسی مسلمان نے نہیں بنائی۔ ووکنگ کی مسجد ڈاکٹر مانٹز نے بطور ایک عجوبہ بنائی تھی نہ کہ مسجد کی ضرورت کے لحاظ سے ۔ بہر حال یہ مسجد پہلی اسلامی مسجد ہے۔ اس مسجد پر جو کتبہ لگایا گیا ہے وہ حسب ذیل ہے۔ یہ کتبہ حضرت اقدس کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا معہ انگریزی ترجمہ کے کندہ ہوگا۔ (عرفانی)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
ھوالناصر
قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔
مَیں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی امام جماعت احمدیہ جس کا مرکز قادیان (پنجاب) ہندوستان ہے، خدا کی رضا کے حصول کے لئے اور اس غرض سےکہ خدا کا ذکر انگلستان میں بلند ہو اور انگلستان کےلوگ بھی اس برکت سے حصہ پاویں جو ہمیں ملی ہے، آج 11 ربیع الاوّل 1343 ہجری المقدس کو اس مسجد کی بنیاد رکھتا ہوں اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمام جماعت احمدیہ کے مردوں اور عورتوں کی اس ادنیٰ کوشش کو قبول فرماوے اور اس مسجد کی آبادی کے سامان پیدا کرے اور ہمیشہ کے لئے اس مسجد کو نیکی، تقویٰ، انصاف اور محبت کے خیالات پھیلانے کا مرکز بنائے۔ اور یہ جگہ حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت احمد مسیح موعود نبی اللہ بروز محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نورانی کرنوں کو اس ملک اور دوسرے ملکوں میں پھیلانے کے لئے روحانی سورج کا کام دے۔ اَے خدا ایسا ہی کر۔
19؍اکتوبر 1924ءفقط۔‘‘
(الفضل قادیان دارالامان 15؍نومبر 24ءصفحہ 6 )
مسجد کیلئے حضور رضی اللہ عنہ کی دعا
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے وینس (اٹلی) میں جہاز پر سوار ہونے سے چند گھنٹہ قبل الفضل میں اشاعت کے لئے اپنے دست مبارک سے جو تحریر لکھی تھی اس کا ایک پیراگراف جو مسجد فضل لنڈن سے متعلق ہے ہدیہ قارئین ہے۔ حضور نے تحریر فرمایا :
اَے خدا تُو اس مسجد کو جس کا سنگ بنیاد مَیں نے لنڈن میں رکھا ہے بابرکت کر اور اس کو جلد مکمل کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرما اور اس کی عمارت کے اپنے فضل سے سامان پیدا کر وہ اعلیٰ درجہ کی برکات کی جگہ ہو اور لوگوں کو اس سے سچی نیکی اور سچی طمانیت حاصل ہو جس میں  کوئی شائبہ بدی یا بے اطمینانی کا نہ ہو۔
(الفضل قادیان دارالامان30؍اپریل 25ءصفحہ 2 )
تعمیر کی کارروائی
مسجد لنڈن کی تعمیر کے لئے ابتدائی کارروائی کی جارہی ہے۔
(الفضل قادیان دارالامان 13،15؍اگست 25ءصفحہ 1)
مسجد کی تعمیر شروع ہوگئی
الفضل قادیان دارالامان 3؍اکتوبر 1925 صفحہ 2 پر یہ خبر شائع ہوئی۔
’’خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسجد احمدیہ لنڈن کی تعمیر شروع ہوگئی ہے جس کی خبر رپورٹر نے بالفاظ ذیل اخبارات کو بھیجی۔
’’ لنڈن 18؍ستمبر آج صبح اس پہلی مسجد کی تعمیر ساؤتھ فیلڈ لنڈن میں شروع ہوگئی جس کا سنگ بنیاد گزشتہ موسم خزاں میں حضرت خلیفۃ  المسیح (ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ) نے اپنے دس مبارک سے رکھا تھا۔ اس موقعہ پر امام جماعت احمدیہ لنڈن نے پیشتر اس کے کہ کام شروع ہو عربی زبان میں ایک خطبہ پڑھا جس میں  بالخصوص وہ دعائیں پڑھیں جو ابوالملت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کعبہ کے وقت پڑھی تھیں۔ بعد ازاں امام جماعت احمدیہ لنڈن اور تمام دیگر احمدی افراد اپنے ہاتھوں سے نصف گھنٹہ تک بنیادیں کھودتے رہے اور ساتھ کے ساتھ ان ادعیہ ماثورہ کی بھی تلاوت کرتے گئے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے مسجد مدینہ کی تعمیر کے وقت تلاوت کی تھیں۔
(الفضل قادیان دارالامان 3؍اکتوبر 1925صفحہ 2 )
بنیاد کی کھدائی کا کام شروع کیا گیا
الفضل قادیان دارالامان 22،24 اکتوبر 1925صفحہ اوّل پر مکرم مولانا عبدالرحیم نیر صاحب کی طرف سے یہ رپورٹ شائع ہوئی:
’’ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم کے ساتھ 28؍ ستمبر 1925ء بروز سوموار دن کے گیارہ بجے مسجد لنڈن کی بنیادوں کی کھدائی کا کام شروع کردیاگیا۔ اس موقع پر اخبارات کے نمائندے موجود تھے۔ کام شروع کرنے سے پہلے مَیں نے اپنے ان احباب کے ساتھ جن کو اللہ تعالیٰ نے اس مبارک موقعہ میں شمولیت کی سعادت بخشی قبلہ رخ ہوکر دعا مانگی ۔ مَیں دعا مانگتا جاتا تھا اور احباب آمین کہتے جاتے تھے۔ اس کے بعد ہم نے اپنے ہاتھوں کھدوائی کا کام شروع کیا۔ ہم زمین کھودتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ بلند آواز سے وہ دعائیں پڑھتے جاتے تھے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر کرتے ہوئے مانگی تھیں۔ بعض دوست زمین کھودتے جاتے تھے اور بعض مٹی اٹھاکر دوسری جگہ لے جاتے تھے اور یہ پڑھتے تھے ؎
ھٰذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَیْبَرُ
ھٰذَا اَبَرُّ رَبَّنَا وَ اَطْھَرُ
فیشن اور ظاہریت کے دلدادہ لنڈن میں اس طرح اپنے ہاتھوں میں مٹی اکھیڑنا اور اُٹھانا ایک خاص نظارہ تھا۔ خصوصاً جبکہ ایک انگریز عورت (مسز عزیزالدین) بھی اسی طرح چلا رہی تھی جس طرح ہم چلا رہے تھے۔ لنڈن کے کئی اخبارات نے کام کرتے ہوئے ہماری مختلف حالتوں کے فوٹو چھاپے اور اس تقریب کی روئداد بعض نے اختصار کے ساتھ اور بعض نے تفصیل کے ساتھ شائع کی…جن اصحاب نے مسجد کی بنیادیں کھودنے میں اپنے ہاتھ سے کام کیا ان کے اسماء حسب ذیل ہیں۔ (1) شیخ یعقوب علی صاحب (2) سیّد وزارت حسین صاحب (3)شیخ ظفر حق خان صاحب (4) ملک محمد اسماعیل صاحب(5) خان عبدالرحیم خان خالد صاحب (6) مسٹر جبرئیل مارٹن صاحب (7)مسٹر شرف الدین صاحب (8) مسٹر عزیزالدین صاحب(امۃ السلام صاحبہ(9) مسٹر ہیری ہنٹن صاحب(10) عبدالعزیز پسر عبد اللہ مالک ہوٹل لنڈن (11) مسٹر کندن لال صاحب جو مفتی صاحب کے وقت میں مسلمان ہوئے۔ (12) ملک غلام فرید صاحب (13) خاکسار عبدالرحیم درد۔
(الفضل قادیان دارالامان 22،24؍اکتوبر 25ءصفحہ 1)
لنڈن کی پہلی مسجد کا ذکر
لنڈن کے معزز اخبارات میں
الفضل قادیان دارالامان 14؍نومبر 1925صفحہ3 پر مندرجہ بالا عنوان کے تحت تین اخبارات (1) ڈیلی گرافک (2) ٹائمز آف لنڈن (3) ڈیلی ٹیلیگراف کی خبرشائع ہوئی۔ تنگی ٔ صفحات کے باعث ہم صرف ڈیلی گرافک نے جو خبر لگائی، ذیل میں درج کرتے ہیں۔
اخبار لکھتا ہے :
’’کل جبکہ اس مسجد کی بنیادیں کھودی جارہی تھیں تو اس سے مسلمانوں کی روحانیت آشکارا ہورہی تھی اور اس روحانیت کا ادنیٰ ساکرشمہ یہ ہے کہ خدا کا گھر بنانے کے لئے یہ لوگ مزدوروں کی طرح خود مٹی کھودتے، مٹی اٹھاتے اور دوسرے کام کرتے تھے۔ ہندوستان کے باشندوں کے علاوہ جو اس کام کو اپنے ہاتھوں سے کررہے تھے، ایک انگریز بھی ان کے ساتھ شامل تھا جو باوجود سفید بالوں کے جو کہ اس کی پیرانہ سالی پر دلالت کرتے تھے، بڑے شوق سے وہی کام کررہا تھا جو اس کے انڈین ہم عقیدہ بھائی کررہے تھے۔ ‘‘
تعمیرجاری ہے
محراب والی دیواریں مکمل ہوچکی ہیں
’’تعمیر مسجد‘‘ کی بغلی سرخی کیساتھ الفضل قادیان دارالامان 8جنوری 1926صفحہ 2 پریہ خبر شائع ہوئی۔
’’مسجد کی تعمیر خدا کے فضل سے جاری ہے۔ محراب والی دیورایں تقریباً مکمل ہوچکی ہیں۔ شمالی اور جنوبی دیواریں بن رہی ہیں ۔ لوہے کے بڑے گارڈر جن پر گنبد بنایا جائے گا کھڑے کئے جاچکے ہیں۔ اندازہ ہے کہ 3؍1 حصہ مسجد بن چکی ہے۔ اُمید ہےکہ اگر موسم اچھا رہا تو خدا کے فضل سے فروری یا مارچ میں تعمیر ختم ہوجائے گی۔‘‘
( الفضل قادیان دارالامان 8جنوری 1926صفحہ 2 )
تعمیر ہونے والی مسجد
آہستہ آہستہ بلند ہورہی ہے
الہ آباد کا انگریزی اخبار پاؤنیر اپنے 20 جنوری 1926 کے پرچہ بحوالہ سنڈے ایکسپریس لکھتا ہے :
’’ساؤتھ فیلڈ (نزدومبلڈن) کے ایک باغیچہ میں لنڈن کی سب سے پہلی تعمیر ہونے والی مسجد آہستہ آہستہ بلند ہورہی ہےجو مسلمانوں کے فرقہ احمدیہ کی طرف سے مذہبی اغراض کے لئے بنائی جارہی ہے۔انگلینڈ میں کل مسلمانوں کی مجموعی تعدادسردست ایک ہزار نفوس کے لگ بھگ ہے جن میں زیادہ حصہ انگریز مسلمین کا ہے ۔ مسجد کی اس عمارت کی طرز تعمیر میں کوئی ایسا منارہ نہیں جس پر چڑھ کر نمازیوں کے جمع ہونے کے واسطے مؤذن اذان دے بلکہ اذان مسجد کی ڈیوڑھی میں دی جائے گی۔‘‘
(الفضل قادیان دارالامان 5فروری 1926 )
مسجد کے لئے قالین کا فرش
خان بہادر احمد الہ دین زندہ باد
مندرجہ بالا عنوان کے تحت الفضل قادیان دارالامان 2 جولائی 1926 کے صفحہ اوّل پر شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ کی طرف سے درج ذیل خبر شائع ہوئی۔
’’لنڈن میں سب سے پہلی اور اکیلی مسجد اب تکمیل کے قریب ہے اور بہت جلد اس کا افتتاح ہونے والا ہے۔ لنڈن اور یورپ میں اس مسجد کے متعلق دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ بیسیوں اخبارات میں متعدد مرتبہ اس کے مختلف فوٹو اور اس کے متعلق ضروری حالات شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اخبارات کے نمائندے اور غیر ممالک کے سیاح آتے ہیں اور ان پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تثلیث کے بت کدہ اور دنیا کے مادی مرکز میں خدا کا یہ پہلا گھر ہے جو اسلام کی عظمت و شان اور حضرت نبی کریم ﷺ کے جلال وجمال کے اعلان کا مرکز ہوگا…
جناب سیٹھ احمد الہ دین صاحب کو مسجد کی تکمیل کی اطلاع دیتے ہوئے مَیں نے مسجد کے فرش قالین کے لئے تحریک کی۔ سیٹھ صاحب جو نیکی اور سعادت کے کاموں کے لئے اپنے دل اور ہاتھ کو ہمیشہ کھلا رکھنے کی توفیق پاتے ہیں ، نے جونہی میری اس تحریک کو پڑھا بذریعہ تار اطلاع دی کہ لنڈن کی اس مسجد کے لئے وہ ایک سو پاؤنڈ فرش قالین کے لئے پیش کرتے ہیں… نہایت قیمتی قالین اور غالیچے اس کے فرش کے لئے آئیں گے مگر ان کی وہ عزت نہیں ہوسکتی جو سیٹھ احمد الہ دین کے پیش کردہ فرش کی ہے… مسجد میں روشنی کے لئے جماعت حیدرآباد نے ایک سال کے لئے اخراجات پیش کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام دوستوں کے قلوب اور ان کے گھروں کو اپنے نور سےمنور کرے۔آمین۔
(الفضل قادیان دارالامان 2 جولائی 1926 صفحہ 1)
تعمیر مکمل ہوگئی
الفضل قادیان دارالامان 8 ؍اکتوبر 1926 صفحہ 2 پر یہ خبر شائع ہوئی :
’’وہ مسجد جو لنڈن میں سب سے پہلی مسجد ہے، وہ مسجد جو جماعت احمدیہ کے ایثار و قربانی کی پیکرخوشنما ہے، وہ مسجد جو حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کے دست مبارک سے اکتوبر 1924ء میں اپنا سنگ بنیاد رکھے جانے کے فخر سے ممتاز ہے، وہ مسجد جو شرفاء و نجباء کے سوادِ اعظم کو اپنی تقریب تاسیس و رسم بناء پر کھینچ لانے والی ہے ، الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اس خدائے قدوس کے فضل و رحم سے پایہ تکمیل کو پہنچ گئی ہے کہ جس کا نام بلند کرنے کیلئے اس کی تعمیر ہوئی۔
(الفضل قادیان دارالامان 8 ؍اکتوبر26ءصفحہ 2)
مسجد کا افتتاح
الفضل قادیان دارالامان 12 ؍اکتوبر 1926کے صفحہ 3 پر ایڈیٹر الفضل مسجد کے افتتاح کی خوشخبری دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں  :
’’ اَے احمدی جماعت کی عورتو اور اَے احمدی جماعت کے مردو! اَے احمدی جماعت کے بچو اور اَے احمدی جماعت کے بوڑھو! مبارک ہو تمہیں صد مبارک کہ آج وہ مسجد تمہارے ربّ العلاء کے آگے سربسجود ہونے والوں کے لئے کھل گئی اور اس کا افتتاح 3؍اکتوبر 1926ء کو بڑی شان و شوکت کے ساتھ ہوگیا ۔ ‘‘
روزنامہ ہمدم 7؍اکتوبر لکھنؤ نے افتتاح کی خبر شائع کرتے ہوئے لکھا کہ :
’’لنڈن3؍اکتوبرمسلمانوں کی جماعت احمدیہ عرصہ دراز سے کوشاں تھی کہ لنڈن میں کوئی اپنا قابل قدر مرکز قائم کرے۔ چنانچہ خدا خدا کرکے آج وہ دیرینہ آرزو پوری ہوئی اور مقام ساؤتھ فیلڈ واقع جنوب مغربی لنڈن کی مسجد کا مسلمانوں کے مجمع کثیر، پارلیمنٹ اور دیگر ممتازو سربرآوردہ اشخاص کے سامنے افتتاح ہوا۔
آخر وقت تک اس کی امید تھی کہ مسجد کا افتتاح امیر فیصل بن سلطان ابن سعود کے ہاتھوں عمل میں آئیگا لیکن لوگوں نے امام مسجد مولانا درؔد کا دروازۂ مسجد پر چسپاں یہ نوٹس مایوسی کے ساتھ پڑھا کہ امیر موصوف کے والد نے آپ کو اس تقریب کی شرکت سے منع کردیا۔ یہ رسم شیخ عبدالقادر صاحب سابق وزیر صوبہ پنجاب کے ہاتھوں عمل میں آئیگی۔ مطلع صاف تو نہیں تھا مگر بادل پھٹے ہوئے تھے اور کبھی کبھی آفتاب عالمتاب کا روئے منور بے نقاب ہوجاتا تھا۔ رسم افتتاح شروع ہونے سے گھنٹوں پیشتر سفید مناروں والی مسجد کے سامنے جو اس وقت آرائش و زیبائش سے چوتھی کی دلہن بنی ہوئی تھی سڑک پر لوگوں کے ٹھٹھ لگے ہوئے تھے۔
شیخ عبدالقادر سے پہلے موقع پر مہاراجہ بردوان تشریف لائے جن کا لوگوں نے نعرہ ہائے مسرت سے خیر مقدم کیا۔ امام مسجد نے وہ طویل پیغام پڑھ کر سنایا جو بحری تار کے ذریعہ جماعت احمدیہ کے امام حضرت صاحبزادہ صاحب نے ہندوستان سے ارسال فرمایا تھا ۔ علاوہ ازیں اور بھی بہت سے پیغامات تہنیت پڑھ کر سنائے جو اکناف عالم سے آئے تھے۔ امام صاحب مسجد نے ایک طویل تقریر میں اس امر کی تشریح فرمائی کہ امیر فیصل کا شریک نہ ہونا ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔
جس وقت شیخ عبدالقادر صاحب نے مسجد کا دروازہ کھولا ’’اللہ اکبر‘‘ کے روح پرور نعرے عرش بریں تک پہنچے۔ اس کے بعد تمام پارٹی مسجد میں داخل ہوئی جہاں تقریریں کی گئیں۔ شیخ عبدالقادر نے امیر فیصل کی عدم شرکت پر اظہار افسوس کرتے ہوئےارشاد فرمایا اگرچہ مَیں احمدی نہیں ہوں لیکن مَیں  نہایت مسرت کے ساتھ مسجد کا افتتاح کرتا ہوں۔ آپ نے اپنی طویل تقریر میں دیر تک جماعت احمدیہ کی خصوصیات احسن بیان فرمائیںاور فرمایا کہ دنیا میں کوئی مذہب نہیں ہے جس میں مختلف فرقے نہ ہوں لہٰذا اسلام بھی اس کلیہ سے مستثنیٰ نہیں۔
مہاراجہ بردوان نے فرمایا کہ اگرچہ مَیں مسلمان نہیں ہوں لیکن اس تقریب میں  شریک ہونا مَیں نہ صرف اپنا حق بلکہ اپنا فرض سمجھتا ہوں… تقریروں کے بعد چاء پانی ہوا اس کے بعد سب سے پہلی مرتبہ لنڈن میں نعرۂ توحید بلند ہوا یعنی بلالؓنبویؐکے جانشین مؤذن نے صدائے ’’اللہ اکبر‘‘بلندکی اور مسلمان وضو کرکے
ایک ہی صف میں کھڑئے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
(الفضل قادیان دارالامان 12 ؍اکتوبر 26ءصفحہ 12)
کلکتہ کے سنیما گھروں میں 
افتتاح کے مناظر دکھائے گئے
سیّد کریم بخش احمدی آف کلکتہ کی طرف سے یہ خبر شائع ہوئی کہ :
’’اِس ہفتہ کلکتے کے تمام بڑے بڑے سنیماؤں میں مسجد احمدیہ لنڈن کے افتتاح کا منظر دکھایا جارہا ہے۔ اس کا عنوان ’’لنڈن میں اسلام‘‘ ہے اس میں خان بہادر عبدالقادر صاحب کا استقبال، مسجد کا دروازہ کھولنا، لوگوں کئے ہجوم وغیرہ وغیرہ دکھائے جارہے ہیں۔ مَیں کل یہاں کے گلوب تھیٹر میں گیا تھا جہاں مسلمانوں کا ایک بڑا ہجوم تھا ۔ جب مسجد کے افتتاح کا منظر دکھایا گیا تو تمام مسلمان خوشی سے تالیاں بجانے لگے۔ ‘‘
(الفضل قادیان دارالامان23 ؍نومبر 26ءصفحہ 2)
ولایت کے بیسیوں اخبارات نے افتتاح کی خبریں شائع کیں جو ہم تنگی صفحات کی وجہ سے چھوڑ رہے ہیں ۔ دلچسپی رکھنے والے احباب اسے الفضل میں دیکھ سکتے ہیں۔
احمدیہ مسجد لنڈن کا شاندار افتتاح
سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  :
مفسدوں نے تو یہ کوشش بھی کی تھی کہ مسجد لنڈن ہی نہ بنے لیکن خدا نے ان کا منہ کالا کرنے کے لئے نہ صرف یہ کیا کہ مسجد بنانے کی توفیق دی بلکہ ایسے سامان بھی پیدا کردئیے کہ تکمیل کے بعد اس کا شاندار افتتاح بھی ہوگیا۔ جو ایسا شاندار تھا کہ ہر ایک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس کی مثال پہلے موجود نہیں تھی۔ تقریباً دو سو سے زیادہ ولایتی اخبارات میں زبردست الفاظ کے ساتھ اس کا ذکر آیا۔ یہ اخبار انگلستان کے ہیں۔ ان کے علاوہ اور اخبارات ہیں جو دوسرے ملکوں سے نکلتے ہیں اور جن میں اس کا ذکرہورہا ہے اور جن کے کٹنگس آرہے ہیں۔ اس طرح اس وقت تک قریبا بیس پچیس کروڑ انسان یہ بات سن چکے ہیں کہ لنڈن میں ایک مسجد بنی ہے جس کا افتتاح ہوا اور جسے اس احمدی جماعت نے بنایا جس کے امام مرزا غلام احمد صاحب ہیں جنہیں خدا نے مسیح موعود اور نبی بناکر بھیجااور جس کا کام اشاعت اسلام ہے ۔ دنیا کے ہر تین آدمیوں میں سے ایک آدمی کو یہ بات پہنچ چکی ہے اور خود انگلستان کے اخبار نویسوں اور دیگر سربرآوردہ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ اگر ہم دو کروڑ روپیہ بھی خرچ کرتے تو اتنی اشاعت نہ ہوتی جتنی اب ہوگئی ہےبلکہ بعض نے تو یہ بھی کہا ہے کہ دو کروڑ روپیہ نہیں دو کروڑ پاؤنڈ بھی یہ کام نہ کرتاجو اس روپیہ نے کردیا جو مسجد پر خرچ ہوا۔ پھر اس مسجد کے افتتاح میں بڑے بڑے لوگ شامل ہوئے۔ تین لارڈ ۔ تیرہ ممبر پارلیمنٹ اور مختلف ممالک کے سفراء وزراء نواب اور دیگر معزز اور سربر آوردہ لوگوں نے ایک کافی تعداد میں شمولیت اختیار کی اور نہ صرف یہ کہ شمولیت ہی اختیار کی بلکہ ان اعلیٰ طبقہ کے لوگوں نے پرلے درجے کی دلچسپی بھی لی اور خوشی محسوس کی ۔ بعض نے تو کام کرنے میں بھی فخر سمجھا اور بڑے شوق سے انہوں نے ہر کام میں حصہ لیا پھر ہندوستان کے بڑے بڑے لوگ بھی اس میں شامل ہوئے حتی کہ مہاراجہ بردوان بھی شامل ہوئے جنہوں نے اس موقع پر تقریر کرنے کی اجازت مانگی اور خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ گو میں ہندو ہوں مگرمَیں اس میں شامل ہونا اپنا فرض سمجھتا ہوں پھر گیارہ حکومتوں کے قائم مقام بھی اس موقعہ پر آئے ۔ جرمنی ، اٹلی چین وغیرہ ملکوں  کے وزیر بھی تھے۔ پس یہ جواب ہے ان لوگوں کے لئے جو کہتے ہیں کہ کہاں گیا وہ روپیہ جو مسجد کے لئے جمع ہوا تھا ، وہ سن لیں وہ روپیہ یہاں گیا۔
(الفضل قادیان دارالامان 9 نومبر 1926)
مسجد کے افتتاح کے موقع پر
حضورؓ کا بصیرت افروزپیغام
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
ھوالناصر
مَیں سب سے پہلے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نےہم کمزوروں اور ناتوانوں کو سینکڑوں سالوں کی گہری نیند کے بعد پھر جاگنے کی توفیق دی اور پھر یہ ہمت دی کہ ہم اہل مغرب کے اس عظیم الشان احسان کے بدلہ میں جو ہماری غافل نیند کے عرصہ میں شمع علم کو بلند رکھ کر انہوں نے ہم پر اور باقی بنی نوع انسان پر کیا تھا، اس مقدس گھر کو ان کے سب سے بڑے مرکز میں بناکر ان کے احسان کے بارگراں سے سبکدوش ہونے کی سچی خواہش کا عملی ثبوت دیں۔ پھر میں صدر جلسہ کا خصوصا اور باقی احباب کا عموماً اپنی طرف سے اور اپنی تمام جماعت کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے دور و نزدیک سے تشریف لاکر ہماری اس ناچیز سعی کی تکمیل کے موقع پر تعاون و ہمدردی کا ہاتھ بٹایا۔
اس کے بعد مَیں اس نادر موقع کو غنیمت جانتا ہوں ۔ تمام حاضرین اور پھر پریس کے ذریعے سے تمام دنیا کے لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی پیدائش کی غرض کو سمجھیں اور اپنی مجموعی کوشش سے اس مقصد کے حصول کی طرف توجہ کریںجس کیلئے دنیا کی بہترین ہستیوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ میرے مخاطب خصوصیت کے ساتھ انگلستان کے لوگ اور پھر دوسرے اہل مغرب ہیں جنہوں نے اپنے ملک کے روشن گوہروں کی یادگاروں سے اپنی سرزمین کو بھردیا ہے۔ مَیں ان سے کہتا ہوں کہ وہ خیرخواہان ملک جن کی یاد کو وہ تازہ رکھتے ہیں ، ان خدا کے مقدس نبیوں کے مقابلہ میں جنہوں نے دنیا کی بہتری کے لئے اپنے دل اور اپنی روح کو اس طرح پگھلادیا جس طرح آگ سے سیسہ پگھل جاتا ہے، کچھ بھی حقیقت نہیں  رکھتے۔ پھر کیا افسوس کی بات نہیں کہ اس وقت لوگ ان بزرگوں کی یادگار قائم رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔یہ لوگ توحید ، خدا کی محبت، روحانی پاکیزگی، اخلاق کی درستی، غرباء کی سچی ہمدردی، بنی نوع انسان کے حقوق کی نگہداشت، اتحاد اور حقیقی مساوات کو دنیا میں قائم رکھنے کے لئے آئے تھے اور یہی وہ خوبیاں ہیں جن کی طرف سے سخت غفلت برتی جارہی ہے اور یہی وہ بات ہے جس کی طرف مسجد ہمیں بلاتی ہے۔ مسجد کیا ہے؟ ایک اینٹوں یا پتھروں کی عمارت ہے جس میں اور دوسری عمارتوں میں کوئی فرق نہیں اور یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا۔ یعنی کسی خاص مقام کی خصوصیت نہیں سب دنیا ہی میرے لئے مسجد ہے پس باوجود اس کے کہ سب دنیا ہی مسجد ہے ایک خاص مقام کو منتخب کرنا درحقیقت انسان کے سوئے ہوئے جذبات کو جگانے کے لئے ہے۔ یہ خاموش مگر باوقار گنبد انسانی زبان سے زیادہ فصاحت کے ساتھ ان باریک رشتوں کو جو انسان خواہ کیسی ہی ادنیٰ درجہ کی بے دینی کی حالت کو پہنچ گیا ہو، اس کے اندر زندہ رہتے ہیں، ہلادیتا ہے اور اپنے پیدا کرنے والے کی محبت کاروگ پیدا کردیتا ہے۔ یہ عمارت زبان حال سے ان تمام پاکیزہ تعلیموں کو جو خدا تعالیٰ کے نبی دنیا میں لائے تھے بیان کرتی ہے۔ یہ ان حقیقتوں کی جو نبیوں اور ان کے سچے پیرؤوں سے زندہ ہوتی چلی آئی ہیں، ایک مادی یادگار ہے۔ یہ خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلاتی ہے ۔ اس خدا کی طرف جس نے ہمیں اور ہمارے باپ دادوں کو پیدا کیا جو ہماری اور ہمارے باپ دادوں کی پرورش کررہا ہے۔ اور جس کی طرف ہم اور ہمارے باپ دادے لوٹ کر جائیں گے۔ وہ اکیلا خدا ہے آسمان میں بھی اور زمین میں بھی۔اوپر بلندیوں  میں  بھی اور نیچے پاتال میں بھی اس کی بادشاہت ہے۔ سب محبت کرنے والوں سے زیادہ محبت کرنے والا ، سب محسنوں سے زیادہ محسن، جس کا رحم تو رحم ہے ہی لیکن جس کی سزا بھی محبت سے پُر اور شفقت سے لبریز ہوتی ہے۔ ہماری رُوح اس کے فضلوں کو دیکھ کر اس کے آستانہ پر گرتی ہے اور کہتی ہے کہ اَے قدوس تیری بڑائی ہو، تیرا نام انسانوں کے دلوں  میں بھی اسی طرح بلند ہو جس طرح تیری وسیع قدرت کے مناظر میں بلند ہے۔
پھر مسجد خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے وقف ہونے کے سبب سے رُوحانی اور اخلاقی ترقیات کی طرف بلاتی ہے۔ جماعت اتحاد کی طرف، صفیں مساوات کی تعلیم کی طرف، امام نظام کے فوائد کی طرف اور نماز کے آخر میں  دائیں بائیں سلام پھیرنا دائیں بائیں سلامتی کی تعلیم پھیلانے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔
غرض مسجد ان اعلیٰ تعلیمات کا ایک ظاہری نشان ہے جو انبیاء دنیا میں لائے ورنہ جیسا کہ مَیں اوپر بیان کرچکا ہوں مسلمانوں کو ان کے رسول نے یہی تعلیم دی ہے کہ وہ سب دنیا کو ہی مسجد سمجھیں۔ یعنی ان اعلیٰ تعلیمات کو جو انبیاء کی طرف سے انہیں ملی ہیں ایک خاص مکان کی چاردیواری میں ہی محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے تمام معاملات میں ان کو ظاہر کریں اور زندگی کے تمام شعبوں میں ان کو مد نظر رکھیںاور خدائے واحد کی محبت ان کے دلوں میں ہو۔ اس کے نام کی عظمت کے قائم کرنے کی فکر انہیں لگی رہے۔ اخلاقی درستی، حریت ضمیر، اتحاد، غریبوں کی خبرگیری، مساوات کے جذبات کو وہ اپنے دل میں بھی پیدا کریں اور لوگوں کو بھی اس طرف بلائیں۔
انہی امور کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تھا اور آپؑکے اس مشن کو پورا کرنے کے لئے ہی احمدی جماعت کی طرف سے مغرب میں مبلغ بھیجے گئے ہیںاور اس مشن کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے ہی یہ مسجد بنائی گئی ہے۔
اس خدا کے گھر کی بنیاد اکتوبر 1924 میں مَیں نے صرف ان مذکورہ بالا اعلیٰ تعلیمات کو رائج کرنے کے لئے رکھی تھی جو نبیوں کے سردار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ فداہ نفسی وروحی دنیا مین لائے تھے ۔ ہمیں مسیحیت سے کوئی دشمنی نہیں۔ ہم حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا راستباز نبی اور ایک اولوالعزم نبی مانتے ہیں لیکن ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ آپؑہی کی پیشگوئیوں کے مطابق عرب میں بانی اسلام اس آخری ہدایت نامہ کو لیکر مبعوث ہوئے جو اب دنیا کے خاتمہ تک کے لئے ہدایت نامہ ہے۔ حتی کہ اس زمانہ کے مصلح حضرت مسیح موعودؑبھی جو خود حضرت مسیح کی پیشگوئیوں کے مطابق ظاہر ہوئے ہیں اسی ہدایت نامہ کی حقیقت کو دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔
ہم لوگوں کا مقصد اس مرکز توحید میں بیٹھ کر محبت اور اخلاص کے ساتھ واحد خدا کی پرستش کا رائج کرنا اور اس کی محبت کو قائم کرنا ہوگا۔ ہم مذاہب سے منافرت اور تباغض کو دُور کرنے کے تحقیق کی سچی رُوح کو پیدا کرنے کی کوشش کرینگے اور اخلاق کی درستی اور ظلم کے مٹانے کی سعی کرینگے۔ آقا اور نوکر، گورے اور کالے، مشرقی اور مغربی کے درمیان تعلقات ، اخلاص اور حقیقی مساوات جس میں جائز فوقیتوں  کا تسلیم کرنا شامل ہوگا ہمارا مقصد ہوگا اور ہم اس موقع پر مسیحی دنیا سے بھی التجا کرتے ہیں کہ وہ اسلام کو تعصب کی نگاہ سے نہ دیکھے بلکہ اس کے عیب نکالنے کی بجائے اس کی خوبیوں کی جستجو کرے کیونکہ سچائی دوسرے کے عیوب نکالنے سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اپنی فوقیت ثابت کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔
اَے بھائیو! دنیا شرک ، بے دینی، خدا سے بے توجہی، ملکی تباغض، قومی تنافر اور جماعتی کشمکشوں کی جولان گاہ ہورہی ہے۔ پس ہر ایک جو خدا تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی غفلت سے بیدا رہو اور خدا کے نام پر بنائے ہوئے گھروں کو بے دینی اور شقاق کا مرکز بنانے کی بجائے توحید اور اتحاد کا مرکز بنائے۔ آؤ ہم سب ملکرتوحید کو جس پر سب کا اتفاق ہے قائم کریں۔ ہم لوگوں کے اندر یہ رُوح پیدا کریں کہ وہ تعصب سے آزاد ہوکر جو سب سے بڑا بت ہے، خدائے واحد کی دیانت داری سے جستجو کریں اور خواہ وہ کسی مذہب میں ہو اسے قبول کرلیں۔ ہم اس خدا کی طرف نہ جھکیںجو ہمارے دماغوں نے پیدا کیا ہے کیونکہ خواہ ہم اس کا نام کچھ رکھیں وہ ایک بُت ہے بلکہ اس خدا کی طرف جھکیں کہ جو سب دنیا کا خالق ہے جس کے جلوے دُنیا کے ہر ذرّے میں نظر آتے ہیں جو اپنی زندہ طاقتیں ہمیشہ اپنے مقدسوں کے ذریعہ سے ظاہر کرتا رہتا ہے اور پھر اس مشرق و مغرب کے خدا پر ایمان لاتے ہوئے یہ کوشش کریں کہ دنیا میں امن و امان قائم ہو ۔ ایک ملک کے اندرونی نظام میں بھی اور مختلف ممالک کے درمیان بھی ہماری بڑائی اس میں نہ ہو کہ ہم اپنے مال اور طاقت کے ذریعہ سے لوگوں کو زیر کریں ، نہ اس میں کہ ہم اپنے جتھے کے ذریعہ سے لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کریں بلکہ ہماری بڑائی کمزور پر رحم کرنے اور حقدار کو اس کا حق دینے میں ہی ہو۔
اَے خدا! تیرا جلال دنیا میں ظاہر ہو اور یہ مسجد تیرے نام کو پیدا کرنیکا ایک بڑا مرکز ہو آمین۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ میرزا محمود احمد ، امام جماعت احمدیہ۔‘‘
(الفضل قادیان دارالامان 26 ؍اکتوبر 26ءصفحہ 3)
مسلمانوں کی ناکام کوششیں
حضور رضی اللہ عنہ نے انگلستان کے اخبارات کی شان اور وسعت اشاعت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا :
’’اسی قسم کے بڑے طبقے کے ایک نہیں  کئی اخبارات میں شائع ہوا ہےکہ پندرہ سال سے مسلمان کوشش کررہے تھے ، مسلمان حکومتیں ان کی تائید میں تھیں، دولتمند لوگ اس کے لئے تیار تھےمگر باوجود ان سب باتوں کے وہ کچھ نہ کرسکے اور کوئی مسجد وہاں کھڑی نہ کرسکے۔ لیکن احمدی قوم نے جب اس کا کام بیڑا اُٹھایا تو کام کرلیا اور ایک مسجد وہاں کھڑی کردی۔ سلطان عبدالحمید ٹرکی کے سابق بادشاہ، ہندوستان کے رؤسا اور دوسری مسلمان سلطنتیں اور مسلمان امراء سب ہی اس کی تائید میں تھے کہ ضرور لنڈن میں ایک مسجد بنانی چاہئے مگر وہ باوجود ہر قسم کے سامان ہونے کے نہ بناسکے لیکن احمدیوں نے جب اس مسجد کا ارادہ کیا تو اسے کوئی دیر نہ لگی ۔ ‘‘
(الفضل قادیان دارالامان 9 نومبر 1926)
آخر پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اِن الفاظ کیساتھ خاکسار مضمون کا اختتام کرتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں :
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے کہ اس مسجد کے حق کو پورا کرنے والے ہوں اور ہر مسجد کے حق کو پورا کرنے والے ہوں … اور اپنی عبادتوں کے حق کو پورا کرنیوالے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کے حق کو پورا کرنے والے ہوں اور تبلیغ اسلام کا حق ادا کرنے والے ہوں اور حقیقی معنوں میں وہ مسلمان بن جائیں جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور اس زمانے میں آپ کے غلام صادق کو بھیجا تا کہ اسلام کی نشا ٔۃ ثانیہ کا دور دوبارہ شروع ہو اور دنیا میں اسلام اور خدائے واحد کی حکومت قائم ہو اور آنحضرت ﷺ کا جھنڈا دنیا میں لہرائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ ‘‘ (منصور احمد مسرور)
…٭…٭…٭…