اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-10-01

نماز تہجدسو کر اُٹھنے کے بعد پڑھی جانی چاہیے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نماز تہجد کا ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں :

نمازِ تہجد: سنتوں کے علاوہ ایک نماز تہجد کہلاتی ہے نصفِ شب کے بعد کسی وقت پُو پھٹنے سے پہلے یہ نماز پڑھی جاسکتی ہے مگر جیسا کہ تہجد کے معنوں سے ظاہر ہے یہ نماز سو کر اُٹھنے کے بعد پڑھی جانی چاہیے گو کسی وقت سونے کا وقت نہ ملے اور نصف شب گزر جائے تو یوں بھی پڑھ سکتا ہے مگر قرآنِ کریم نے جو اس کا نام رکھا ہے اس سے بھی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقِ عمل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ عشاء کے بعد آدمی سو جائے اور سونے سے اُٹھ کر یہ نماز ادا کرے اس نماز کا روحانی ترقیات سے بہت گہرا تعلق ہے اور قرآنِ کریم میں اس کی خاص تعریف آئی ہے (دیکھو سورۂ مزمل آیت ۱ تا ۶) ان کے علاوہ بعض اور سنتیں بھی ہیں جو مؤکدہ تو نہیں یعنی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خاص تاکید تو نہیں فرمائی مگر آپ جب موقع ملتا انہیں ادا کرتے تھے ان میں سے ایک اشراق کی نماز ہے یعنی جب سورج نیزہ دو نیزے اوپر آ جائے اسی طرح اور بعض نوافل ہیں لیکن حکم یہ ہے کہ جب سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو یا نصف النہار کا وقت ہو تو نماز ناجائز ہے اور جب دھوپ زرد ہو جائے تب بھی ناپسندیدہ ہے۔ (تفسیر کبیر جلد1صفحہ167آن لائن ایڈیشن )