اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-09-24

تزکیہ نفوس کا کام کسی انسان کے بس کا نہیں

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’سورۂ بقرہ کے شروع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چار عظیم الشان کاموں کا ذکر کیا گیا تھا۔اوّل۔ تلاوتِ آیات۔ دوم تعلیم کتاب۔ سوم تعلیم حکمت۔ چہارم۔ تزکیہ نفوس۔ آپؐ کے ابتدائی تین کاموں پر اس سورۃمیں تفصیلاً روشنی ڈالی گئی ہے۔ اب صرفیُزَکِّیۡہِمۡ کے وعدہ کا ایفاء باقی تھا۔ سو اس رکوع میں اس شق پر بھی روشنی ڈال دی۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ تزکیہ نفوس کا کام کسی انسان کے بس کا نہیں ۔ آخر والدین سے زیادہ محبت کرنے والا شخص اور کون وجود ہو سکتا ہے مگر وہ بھی اپنی اولاد کا تزکیہ نفس نہیں کرسکتے۔ تزکیہ میں دوباتیں ضروری ہوتی ہیں۔اول ترک گناہ۔دومؔ روحانیت میں ترقی۔ترکِ گناہ کے لحاظ سے فرمایا کہ ہم تم کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ ہرچیز اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور آسمان و زمین اور کائنات کا ذرہ ذرہ سب اللہ تعالیٰ کے ماتحت ہے۔پس جس چیز کے لینے کی وہ اجازت دے صرف وہی تم لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جائو کیونکہ مالک کی اجازت کے بغیر کسی چیز کو استعمال کرنے والا مستوجب سزا قرار پاتا ہے۔دوسری شق روحانیت میں ترقی کرنا تھا۔اس کے لئے فرمایا کہ سب کچھ ہمارا ہے۔اور ہمارے ہی ذریعہ سے ہر قسم کی خیروبرکت مل سکتی ہے۔اس لئے جب تم ہمارے حکموں کی اطاعت کروگے تو ہم تم کو اپنی مغفرت کے دامن میں لے لیں گے۔اور ہمارا قادرانہ تصرّف تمہیں ہمارے قرب میں پہنچا دے گا۔‘‘

( تفسیر کبیر جلد نمبر 3، صفحہ 531 مطبوعہ یوکے)