حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ سورۃ المؤمنون کی آیت وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں :
’’یہ کتنا شاندار نمونہ ہے جو صحابہؓ نے دکھایا کہ حمص جو عیسائیوں کا ایک مرکزی شہر تھا اُس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا اور انہوں نے لاکھوں روپیہ عیسائیوں سے ٹیکس کے طور پر وصول کر لیالیکن جب انہیں جنگی مصلحتوں کے ماتحت اس شہر کو خالی کرنا پڑا تو انہوں نے وہاں کے ذمہ دار افراد کو بلایا اور اُن کا سارا روپیہ اُن کو واپس کردیا اور کہا ہم نے تم سے یہ ٹیکس اس لئے لیا تھا کہ ہم تمھارے جان و مال کی حفاظت کریں گے۔مگر اب چونکہ حالات مخدوش ہو رہے ہیں اور ہم اس شہر کو چھوڑ رہے ہیں اس لئے ہم دیانت و امانت کے اصول کے خلاف یہ بات سمجھتے ہیں کہ تمہارا روپیہ اپنے پاس رکھیں۔چنانچہ لاکھوں روپیہ ان کو واپس کر دیا گیا۔تاریخ بتاتی ہے کہ اس واقعہ نے عیسائیوں کے قلوب پر ایسا گہرا اثر چھوڑا کہ جب مسلمانوں کا لشکر شہر سے نکلا تو وہ ساتھ ساتھ الوداع کہنے کے لئے چل پڑے۔اُن کی آنکھوں سے آنسو بہتے جاتے تھے اور وہ کہتے جاتے تھے کہ خدا تمہیں پھر دوبارہ واپس لائے کہ ہم نے تمہارے جیسے نیک حاکم آج تک نہیں دیکھے(فتوح البلدان للبلاذری امر حمص و یوم الیرموک)۔اسی طرح اسلام نے حکومت کو بھی امانت قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ جب یہ امانت تمہارے سپرد ہو تو تم اس میں کبھی خیانت نہ کرو اور ہمیشہ حکومت کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دو جو حکومتی ذمہ داریوں کو پوری دیانت کے ساتھ ادا کرنے والے ہوں اور تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے اس حکم پر بھی انتہائی سختی کے ساتھ عمل کیا ہے۔‘‘
( تفسیر کبیر جلد 8صفحہ نمبر 278 مطبوعہ یوکے)