اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-09-10

احیاء موتیٰ سے مراد ایسےبیمار جو مُردوں کی طرح ہوں ان کو زندہ کرنا

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ آیت کَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى میں اِحْیَاءِ مَوْتٰی کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں:

کَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى میں اِحْیَاءِ مَوْتٰی سے مراد:کَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى کے دو معنی ہیں—اوّل یہ کہ اس طرح اللہ تعالیٰ مُردوں کو زندہ کرتا ہے یعنی حقیقی مُردوں کو زندہ کر کے اس دنیا میں واپس لاتا ہے۔ یہ معنی اس جگہ پر نہیں لئے جا سکتے کیونکہ قرآن شریف کی دوسری آیات ان معنوں کے خلاف ہیں اور اُن سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقی مُردے اس دنیا سے واپس نہیں آ سکتے۔۔۔ ایک معنے اس آیت کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو مٌردوں کی طرح ہوں اُن کو زندہ کر دینا۔ یہ معنے عام محاورہ کے مطابق ہیں۔ بعض دفعہ ایک چیز دوسری چیز کے ساتھ ایسی مشابہ ہو جاتی ہے کہ اُس کا نام اسے مل جاتا ہے چنانچہ عام بول چال میں جب کسی شخص کو کوئی سخت چوٹ لگے تو وہ اپنے درد اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے ’’ہائے میں مر گیا‘‘ مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں مُردوں کی طرح ہو گیا۔ پس آیت کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ جو مُردوں کی طرح ہوں اللہ تعالیٰ اُن کو زندہ کر دیتا ہے یعنی جن کے بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ اور دنیوی علوم ان کی ہلاکت کا فتویٰ دے دیتے ہیں خدا تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے بچا لیتا ہے۔

( تفسیر کبیر جلد 2صفحہ 188آن لائن ایڈٰشن )