اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-09-03

نیکی کا وہ مقام حاصل کرو کہ سب بنی نوع انسان تمہیں اپنے بچے نظر آنے لگیں

حضرت مصلح موعود ؓ آیت سورۃ النحل کی آیت نمبر 91 کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’احسان کر تے وقت توانسان کو یہ خیال ہوتاہے کہ فلاں شخص نے مجھ سے اچھا سلوک کیا ہے میں ا س سے بہتر بدلہ دوں تامیر ی نیک نامی ہو یاگنہگار کی خطامعاف کرتے ہوئے یہ خیا ل آجاتا ہے کہ میں اس سے حسن سلوک کروں گاتوا س کے دل سے بغض نکل جائے گا اوریہ میرادوست بن کر میری تقویت کاموجب ہو گا۔لیکن ماں جو اپنے بچہ سے محبت کرتی ہے اوراس کے لئے قربانی کر تی ہے ا س میں ذرّہ بھر بھی بدلہ کی خواہش نہیں ہوتی۔بلکہ اس کی محبت کی بنیا د اس کی اپنی ہی قربانی پر ہوتی ہے ایک عورت کے ہا ں جب اولاد نہیں ہوتی توا س کے دل میں یہ خیال نہیں پیدا ہوتاکہ میرالڑکا ہوتاتووہ میری خدمت کرتا۔بلکہ اسے اولاد کی خواہش اس جذبہ کے ساتھ ہوتی ہے کہ میں اسے پالتی،اس کی خدمت کرتی،اسے کپڑے پہناتی،اُسے بیاہتی ،اس کے بچوں کوکھلاتی۔غرض اولاد کی خواہش کے وقت ماں کے دل میں خدمت لینے کا ادنیٰ سے ادنیٰ احساس بھی نہیں ہوتا۔بلکہ اس خواہش کاموجب اولاد کی خدمت کرنے کاشوق ہوتاہے یہی وہ نیکی کاجذبہ ہے جو انسان کے لئے سب سے بڑی نیکی ہے۔اورجس کے حصول کے بعد انسان کا اخلاقی وجود مکمل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احسان کا مقام حاصل کرنے کے بعد جب کہ تم کو لینے سے زیادہ دینے کی خواہش ہوتی ہے تووہ مقام نیکی کابھی حاصل کرو کہ سب بنی نوع انسان تمہیں اپنے بچے نظر آنے لگیں اوران کی خدمت کا جوش تمہارے دل میں اس طرح موجزن ہو جائے جس طرح ایک ماں کے دل میں اپنے بچہ کی محبت جوش مارتی رہتی ہے۔ ( تفسیر کبیر جلد ۶ صفحہ 169 مطبوعہ یوکے)