سرور کائنات حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے نویں سال حج فرمایا اور اس دن آپ پر قرآن شریف کی آیت اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِينًا (المائد ہ :4)نازل ہوئی ۔ یعنی آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور جتنے روحانی انعامات خدا کی طرف سے بندوں پر نازل ہو سکتے ہیں وہ سب میں نے تمہاری امت کو بخش دیئے ہیں اور اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ تمہارا دین خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مبنی ہو ۔
اس آیت کو آپ نے مزدلفہ کے میدان میں جبکہ حج کیلئے لوگ جمع ہوتے ہیں سب لوگوں کے سامنے بآواز بلند پڑھ کر سنایا اور درج ذیل بصیرت افروز خطبہ ارشاد فرمایا جو کہ شرف انسانی کا عالمی منشور ہےاور رہتی دنیا تک زندہ جاوید ہے۔فرمایا:
’’ اے لوگو! میری بات کو اچھی طرح سنو کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اِس سال کے بعد کبھی بھی میں تم لوگوں کے درمیان اِس میدان میں کھڑے ہو کر کوئی تقریر کروں گا۔ تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں کو خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے کے حملہ سے قیامت تک کے لئے محفوظ قرار دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے وراثت میں اُس کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔ کوئی وصیت ایسی جائز نہیں جو دوسرے وارث کے حق کو نقصان پہنچائے۔ جو بچہ جس کے گھر میں پیدا ہو وہ اُس کا سمجھا جائے گا اور اگر کوئی بدکاری کی بناء پر اُس بچے کا دعویٰ کرے گا تو وہ خود شرعی سزا کا مستحق ہوگا۔ جو شخص کسی کے باپ کی طر ف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے یا کسی کو جھوٹے طور پر اپنا آقا قرار دیتا ہے خدا اور اُس کے فرشتوں اور بنی
نوع انسان کی لعنت اُس پر ہے۔ا ے لوگو! تمہارے کچھ حق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حق تم پر ہیں۔ا ن پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ عفت کی زندگی بسر کریں اور ایسی کمینگی کا طریق اختیار نہ کریں جس سے خاوندوں کی قوم میں بے عزتی ہو۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم ( جیسا کہ قرآن کریم کی ہدایت ہے کہ باقاعدہ تحقیق اور عدالتی فیصلہ کے بعد ایسا کیا جا سکتا ہے) انہیں سزا دے سکتے ہو مگر اس میں بھی سختی نہ کرنا۔ لیکن اگر وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کرتیں جو خاندان اور خاوند کی عزت کو بٹہ لگانے والی ہو تو تمہارا کام ہے کہ تم اپنی حیثیت کے مطابق ان کی خوراک اور لباس وغیرہ کا انتظام کر و۔ اور یادرکھو کہ ہمیشہ اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کرنا کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کی نگہداشت تمہارے سپرد کی ہے۔ عورت کمزور وجود ہوتی ہے اور وہ اپنے حقوق کی خود حفاظت نہیں کر سکتی۔ تم نے جب ان کے ساتھ شادی کی تو خدا تعالیٰ کو ان کے حقوق کا ضامن بنایا تھا اور خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت تم ان کو اپنے گھروں میں لائے تھے (پس خد اتعالیٰ کی ضمانت کی تحقیر نہ کرنا اور عورتوں کے حقوق کے ادا کرنے کا ہمیشہ خیال رکھنا) اے لوگو! تمہارے ہاتھوں میں ابھی کچھ جنگی قیدی بھی باقی ہیں۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو وہی کچھ کھلانا جو تم خود کھاتے ہو اور ان کو وہی پہنانا جو تم خود پہنتے ہو۔ا گر ان سے کوئی ایسا قصور ہو جائے جو تم معاف نہیں کر سکتے توا ن کو کسی اَور کے پاس فروخت کر دو کیونکہ وہ خدا کے بندے ہیں اور ان کو تکلیف دینا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ اے لوگو! جو کچھ میں تم سے کہتا ہوں سنو اور اچھی طرح اس کو یاد رکھو۔ ہر مسلماندوسرے مسلمان کا بھائی ہے تم سب ایک ہی درجہ کے
ہو۔ تم تمام انسان خواہ کسی قوم اور کسی حیثیت کے ہو انسان ہونے کے لحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو۔ یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں ملاد یں اور کہا جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں آپس میں برابر ہیں اِسی طرح تم بنی نوع انسان آپس میں برابر ہو۔ تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت اور درجہ ظاہر کرنے کا کوئی حق نہیں۔ تم آپس میں بھائیوں کی طرح ہو۔ پھر فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے آج کونسا مہینہ ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ علاقہ کونسا ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ دن کونسا ہے؟ لوگوںنے کہا ہاں!یہ مقدس مہینہ ہے ، یہ مقدس علاقہ ہے اور یہ حج کا دن ہے۔ ہر جواب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے، جس طرح یہ علاقہ مقدس ہے، جس طرح یہ دن مقدس ہے اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اُس کے مال کو مقدس قرار دیا ہے اور کسی کی جان اور کسی کے مال پر حملہ کرنا ایسا ہی ناجائز ہے جیسے کہ اس مہینے اور اِس علاقہ اور اِس دن کی ہتک کرنا۔ یہ حکم آج کیلئے نہیں، کل کیلئے نہیں بلکہ اُس دن تک کیلئیہے کہ تم خدا سے جا کر ملو۔ پھر فرمایا۔ یہ باتیں جو میں تم سے آج کہتا ہوں اِن کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دو کیونکہ ممکن ہے کہ جو لوگ آج مجھ سے سن رہے ہیں اُن کی نسبت وہ لوگ اِن پر زیادہ عمل کریں جو مجھ سے نہیں سن رہے‘‘
(دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ 227تا229)