اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-11

اصل خوبصورتی خدمت خلق کرنے میں اور غریبوں سے ہمدردی کرنے میں ہے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الغاشیہ کی آیت نمبر 9 وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
حقیقت یہی ہے کہ ایک ہی چیز کو انسان بعض حالات میں اچھا اور بعض حالات میں برا سمجھنے لگ جاتا ہے اور محبت یا نفرت کی وجہ سے شکلیں بھی بدل جاتی ہیں۔ہم نے بیسیوں میاں بیوی کی لڑائیاں دیکھی ہیں پہلے وہ ایک دوسرے کے عاشقِ زار ہوتے ہیں اور میاں سمجھتا ہے کہ خدا نے مجھے دنیا کی حسین ترین بیوی عطا فرمائی ہے مگر جب لڑائی ہو جاتی ہے تو خاوند کہتا ہے کہ اس کی شکل ہی اتنی بری ہے کہ دیکھنے کے قابل ہی نہیں۔غرض نَاعِـمَۃٌ کے اگر ظاہری معنے لئے جائیں تو وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ کا مفہوم یہ ہو گاکہ وہ ایسے مقبولِ جہاں ہو جائیں گے کہ لوگوں کو حسین نظر آنے لگ جائیں گے۔یہ ضروری نہیں کہ ان کی شکلیں بھی حسین ہوں بلکہ وہ دنیا کو حسین اور خوبصورت معلوم ہونے لگ جائیں گے۔جب وہ دنیا کے محسن ہوں گے، جب وہ خدمت خلق کرنے والے ہوں گے، جب وہ یتامیٰ سے حُسنِ سلوک کرنے والے ہوں گے، جب وہ غریبوں سے ہمدردی کرنے والے ہوں گے، جب وہ گرے ہوئے لوگوں کو اٹھانے والے ہوں گے تو وہ لوگ دنیا کو تمام دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ خوبصورت اور اچھے نظر آنے لگ جائیں گے اور دوسرے لوگوں کے چہرے ان کے مقابلہ میں انہیں حسین نظر نہیں آئیں گے۔پس اگر ہم اس کے ظاہری معنے لیں تب بھی وہ صحیح ہوں گے مگر اس طرح نہیں کہ ان کی شکلیں خوبصورت ہو جائیںگی بلکہ جیسے محاورہ کے طور پر کہتے ہیں پرنالہ چلتا ہے اور مراد یہ ہوتا ہے کہ پرنالہ میں پانی چلتا ہے اسی طرح اس کا یہ مطلب ہو گا کہ وہ اپنے احسان کی وجہ سے حسین نظر آنے لگ جائیں گے۔جب ان میں احسان کا مادہ ہو گا ، جب ان میں نیکی ہو گی، جب ان میں عفت ہو گی، جب ان میں حُسنِ سلوک کا جذبہ ہو گا تووہ لوگوں کو بے انتہا پیارے لگنے لگ جائیں گے پس وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ میں صحابہ کے یا مومنوں کے اخلاق فاضلہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور حسنِ سلوک کی خدا ان کو توفیق عطا فرمائے گا کہ وہ دنیا کی نگاہ میں بڑے خوبصورت اور حسین نظر آئیں گے اور اگر اس سے تقویٰ اور علم مراد ہو تو وہ ظاہر ہی ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔ (تفسیر کبیر جلد 12 صفحہ125 )