سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ النور کی آیت نمبر 23 وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُہٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ ۰۠ۖ وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا۰ۭ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَكُمْ۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۲۲ اور چاہیے کہ وہ عفو سے کام لیں اور درگذر سے کام لیں۔کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہارے قصور معاف کرے اور اللہ بہت معاف کرنےوالا (اور) بار بار رحم کرنےوالا ہے، کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا فرما کر مومنوں کو یہ عام ہدایت دی ہے کہ انہیں دوسروں کی خطائوں کو معاف کرنا اور ان کے قصوروں سے درگذر کرنا چاہیے۔مگر معاف کرنے کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔ بعض لوگ نادانی سے ایک طرف نکل گئے ہیں اور بعض دوسری طرف۔ وہ لوگ جن کا کوئی قصور کرتا ہے وہ تو کہتے ہیں کہ مجرم کو ضرور سزا دینی چاہیے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ اور جو قصور کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب خدامعاف کرتا ہے و بندے کو بھی معاف کرنا چاہیے مگر یہ سب خود غرضی کے فتوے ہیں۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ خدامعاف کرتا ہے تو بندے کو بھی معاف کرنا چاہیے وہ اس قسم کی بات اسی وقت کہتا ہے جب وہ خود مجرم ہوتا ہے۔ اگر مجرم نہ ہوتا تو ہم اس کی بات مان لیتے لیکن جب اُس کا کوئی قصور کرتا ہے تب وہ یہ بات نہیں کہتا۔ اسی طرح جو شخص اس بات پر زور دیتا ہے کہ معاف نہیں کرنا چاہیے بلکہ سزا دینی چاہیے وہ بھی اُسی وقت یہ بات کہتا ہے جب کوئی دوسرا شخص اس کا قصور کرتا ہے لیکن جب وہ خود کسی کا قصور کرتا ہے تب یہ بات اس کے منہ سے نہیں نکلتی۔اُس وقت وہ یہی کہتا ہے کہ خدا جو معاف کرتا ہے توبندہ کیوں معاف نہ کرے۔پس یہ دونوں فتوے خود غرضی پر مشتمل ہیں۔اصل فتویٰ وہی ہو سکتا ہے جس میں کوئی اپنی غرض شامل نہ ہو۔اور وہ وہی ہے جو قرآن کریم نے دیا ہے کہ جب کسی شخص سے کوئی جرم سرزد ہو تو تم یہ دیکھو کہ سزا دینے میں اُس کی اصلاح ہو سکتی ہے یا معاف کرنے سے اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔اگر تمہیں سزا دینے میں مجرم کی اصلاح دکھائی دیتی ہو تو اُسے سزا دو۔اگر معاف کرنے سے اُس کے اخلاق درست ہو سکتے ہوں تو اُسے معاف کر دو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَۃٍ سَيِّئَۃٌ مِّثْلُہَا۰ۚ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَي اللہِ۰ۭ اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِـمِيْنَ( الشورٰی :۴۱)یعنی بدی کا بدلہ اتنا ہی ہے جتنا کسی کا جرم ہو لیکن اگر کوئی شخص دوسرے کو معاف کر دے اور اصلاح کو مدنظر رکھے یعنی اس معافی کے نتیجہ میں فساد پیدا نہ ہو بلکہ دوسرے کی اصلاح ہو تو ایسے شخص کا نیک اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے لیکن یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔یعنی اگر کوئی شخص جرم سے زیادہ سزا دے دیتا ہے یا باوجود اس کے کہ عقلی طور پر وہ سمجھتا ہے کہ اگر مجرم کو سزا دی گئی تو اُس کے اخلاق اور بھی بگڑ جائیں گے اور وہ نیکی سے اور بھی دور چلا جائےگا۔لیکن پھر بھی وہ اس کو دُکھ دینے کے لئے سزا دے دے۔یا اگر ذاتی طور پر وہ سمجھتا ہے کہ اس شخص کو معاف کرنا اسے گناہ پر اور بھی دلیر بنا دے گا مگر اس کے باوجود وہ اسے معاف کردے تو ایسے تمام لوگ خدا تعالیٰ کی نگا ہ میں ظالم ہوںگے اور وہ اپنے اس فعل کے متعلق اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوںگے۔یہ تعلیم ہے جو اسلام نے جرائم کے سلسلہ میں پیش کی ہے۔اب غور کر کے دیکھ لو کہ یہ تعلیم کس قدر امن پیدا کرنے والی اور ہر قسم کے فسادات اور جھگڑوں کو دنیا سے مٹانے والی ہے۔
(تفسیر کبیر جلد ششم،صفحہ284، مطبوعہ قادیان 2010)