اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-08-13

ایک خدا کی پرستش کرو اور اس کے فضلوں سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت کر کے اپنے مستقبل اور حاضر کو خراب نہ کرو

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 23فَلَا تَجْعَلُوالِلّٰہِ اَنْدَادًاوَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

’’خدا تعالیٰ کے ساتھ نِدّ تجویز کرنے کا لطیف رَدّ اس امر کو بیان کر دینے کے بعد کہ زمین و آسمان اور ان کے پیدا کردہ تغیرات جیسے بادل وغیرہ کا آنا سب اللہ تعالیٰ ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔ فرماتا ہے کہ جب دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی بنائی ہوئی ہے تو تم کو سمجھ لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی نِدّ نہیں ہے یعنی ایسا کوئی وجود نہیں ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شریک ہو اور اس کے برابر ہو اور جب تمام نظامِ عالم ایک قانون کے ماتحت نظر آتا ہے اور کوئی بات بھی اس پر دلالت نہیں کرتی کہ اس کا کوئی حصہ کسی نے پیدا کیا ہے اور کوئی کسی اور نے تو پھر خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کے معنے ہی کیا ہوئے؟ پس تم کو چاہیے کہ ایک خدا کی پرستش کرو اور اس کے فضلوں سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت کر کے اپنے مستقبل اور حاضر کو خراب نہ کرو۔

حصہ آیت وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ میں اسلام کی برتری کی طرف اشارہ :وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ نظامِ عالم میں یکسوئی ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس سے کوئی عقلمند شخص بھی ناواقف نہیں ہوسکتا اور سب کو اس کا علم اور اقرار ہے کہ کل کا ئنات ایک قانون کے مطابق چل رہی ہے پس اس امر کو جانتے بوجھتے ہوئے شرک میں مبتلا نہ ہو بلکہ اس علم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے توحید پر قائم ہوجاؤ۔ ان الفاظ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جُرم کامل اسی صورت میں ہوتا ہے کہ علم کے ماتحت ہو۔ اس سے اسلام کی کیسی برتری ثابت ہوئی ہے کہ وہ صرف عمل پر ہی فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اس امر کا بھی لحاظ کرتا ہے کہ وہ عمل کن حالات میں کیا گیا ہے اور کس قسم کے علم کے نتیجہ میں صادر ہوا ہے۔ (تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 311آن لائن ایڈیشن)