اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-27

اسلام امانت دیانت اور معاہدات کی پابندی کو خاص اہمیت دیتا ہے

سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ المؤمنون کی آیت 9 وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ایفائے عہد کا رسول کریم ﷺ کو اسقد ر خیال رہتا تھا کہ ابھی آپ نے دعوٰئے نبوت بھی نہیں فرمایا تھا کہ قبائلی لڑائیوں اور روزمرہ کے باہمی جھگڑوں اور فسادات کو دیکھ کر مکہ کے چند نوجوانوں نے ایک انجمن بنائی جس کی غرض یہ تھی کہ وہ مظلوموں کی مدد کیا کرے گی ۔رسول کریم ﷺ بھی اس مجلس میں شامل ہوئے اور سب نے مل کر یہ قسمیں کھائیں کہ جب تک سمندر میں پانی کا ایک قطرہ تک بھی موجود ہے وہ ہمیشہ مظلوموں کی مدد کریں گے اور اُن کے حق انکو ظالم سے دلوانے کی کوشش کریں گے ۔اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے تو اپنے پاس سے مظلوم کا حق ادا کریں گے ۔یہ انجمن جو مظلوموں کی دادرسی اور اُن کی اما نت کا بیڑہ لے کر اُٹھی تھی اُس نے کیا کام کیا اور کس طرح مظلوموں کی مدد کی ؟ اس بارہ میں تاریخی طورپر کچھ زیادہ معلومات نہیں ملتیں مگر دعویٰ ٗ نبوت کے بعد جبکہ مکہ کے لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کے جان لیوا دشمن بن گئے ایک شخص جس نے ابوجہل سے کچھ روپیہ لینا تھا مگر وہ دیتا نہیں تھا رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور اُس نے عرض کیا کہ آپ حلف الفضول میں شامل رہ چکے ہیں اور آپ نے اس کی قسم کھائی تھی کہ ہمیشہ مظلوموں کی مدد فرمائیں گے میں آپ کو آپ کا عہد یاد دلاتے ہوئے درخواست کرتا ہوں کہ میرا کچھ روپیہ ابو جہل نے دینا ہے آپ اس کے پاس چلیں اور مجھے یہ روپیہ دلا دیں ۔جب اُس نے یہ بات کہی تو باوجود اس کے کہ مکہ میں کھلے بندوں پھرنا رسول کریم ﷺ کیلئے خطرہ کا موجب تھا اور پھر ابوجہل آپ کا شدید ترین دشمن تھا اور ہو سکتا تھا کہ وہ آپ کو کوئی نقصان پہنچائے۔آپ فوراً
اُٹھے اور اُس کے ساتھ چل کر ابوجہل کے مکان پر جا پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔ابو جہل دستک کی آواز سن کر باہر نکلا آپ نے فرمایااس شخص کا تم نے کچھ روپیہ لیا ہوا ہے وہ فوراً اسے ادا کر دو۔ابوجہل بلاچوں و چرا اندر گیا اور روپیہ لاکر اُس نے اُس شخص کے حوالے کر دیا۔ابوجہل کا محمد رسول اللہ ﷺ کے کہنے پر ایک شخص کو اس کا روپیہ دے دینا کوئی ایسی بات نہ تھی جو چُھپی رہتی۔جنگل کی آگ کی طرح یہ بات مکہ میں پھیل گئی اور لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ ابو الحکم ہمیں تو کہتا ہے محمد (ﷺ) کی بات نہ مانو۔اور خود اُس سے اتنا ڈر گیا کہ ایک منٹ کے اندر اندر روپیہ دینے کیلئے تیار ہو گیا۔جب اُس نے یہ باتیں سُنیں تو وہ کہنے لگا۔خدا کی قسم اگر تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی وہی کام کرتے جو میں
نے کیا ہے ۔کیونکہ جب محمد (ﷺ) آیا تو مجھے اُس کے دائیں اور بائیں دومست اونٹ کھڑے دکھائی دئیے ۔جن کو دیکھ کر میرا دل سخت خوف زدہ ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ اگر میں نے اُس کی بات نہ مانی تو یہ دونوں اونٹ مجھے چیر کر کھا جائیں گے۔اب یہ بات تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اُسے کوئی ایسا نظارہ نظر آیا تھا یا حق کا رعب اُس پرچھا گیا تھا مگر بہر حال جب رسول کریم ﷺ حلف الفضول کے معاہدہ کے احترام میں ایک مظلوم شخص کا حق دلانے کے لئے انتہائی خطرات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اُس کے پاس گئے تو سچائی کے رُعب نے اُس کی شرارت کی رُوح کو کچل دیا اور وہ مظلوم کا حق دینے کیلئے تیار ہو گیا۔
پھر رسول کریم ﷺ کو وفائے عہد کا اس قدر پاس تھا کہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب یہ معاہدہ ہوا کہ مکہ کے لوگوں میں سے کوئی نوجوان مسلمان ہوا تو اسے اس کے رشتہ داروں کی طرف واپس کر دیا جائیگا لیکن جو مسلمان مکہ والوں کی طرف واپس جائیگا اُسے مکہ والے واپس کرنے پر مجبور نہیں ہونگے۔تو ابھی اس معاہدہ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ سہیل جو مکہ والوں کی طرف سے معاہدہ کر رہاتھا اُس کا اپنا بیٹا رسیّوں سے جکڑا ہوا اور زخموں سے چور رسول کریم ﷺ کے سامنے آکر گِرا اور اُس نے کہا یا رسول اللہ ! میں دل سے مسلمان ہوں مگر میرا باپ اسلام کی وجہ سے مجھے تکلیفیں دے رہا ہے ۔آج میرا باپ یہاں آیا تو میں موقعہ پا کر نکل بھاگا اور یہاں آگیا۔رسول کریم ﷺ نے ابھی اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ اُس کا باپ کہنے لگا معاہدہ ہو چکا ہے ۔اب اسے میرے ساتھ جانا پڑیگا۔ابو جندل کی حالت اس وقت اتنی دردناک تھی کہ مسلمانوں کی آنکھوں سے خون کے آنسو بہتے تھے۔خود ابو جندل نے بھی رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے پھر مکہ والوں کی طرف واپس کر دیں گے تاکہ یہ لوگ مجھے پہلے سے بھی زیادہ تکلیف دیں؟ مگر آپنے فرمایا !خدا کے رسول معاہدہ نہیں توڑا کرتے ۔تمہیں بہر حال واپس جانا پڑیگا۔تم صبر سے کام لو اور خداتعالیٰ پر توکل کرو ۔چنانچہ وہ مکہ میں واپس بھجوا دیا گیا۔پھرجب آپ مدینہ پہنچے تو مکہ کا ایک اور نوجوان ابو بصیر ؓ آپ کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہوا مدینہ پہنچا مگر رسول کریم ﷺ نے اُسے بھی معاہدہ کے مطابق مکہ واپس جانے پر مجبور کیا۔اسی طرح وفائے عہد کا آپ کو اس قدر خیال تھا کہ ایک دفعہ ایک حکومت کا ایلچی رسول کریم ﷺ کے پاس کوئی پیغام لے کر آیا ۔اور آپ کی صحبت میں کچھ دن رہ کر اسلام کی سچائی کا قائل ہو گیا ۔اُس نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں اپنے اسلام کا اظہار کرنا چاہتا ہوں ۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ مناسب نہیں ۔تم اپنی حکومت کی طرف سے ایک امتیازی عہد ہ پر مامور ہو ۔تم اسی حالت میں واپس جاؤ اور وہاں جاکر اگر تمہارے دل میں اسلام کی محبت پھر بھی قائم رہے تو دوبارہ آکر اسلام قبول کرو۔ ( ابو داؤد باب الوفاء بالعہد)
پھر مسلمانوں کو بھی وفائے عہد کا اسقدر خیال رہتا تھا کہ ایک دفعہ کفار نے عین جنگ کے دوران میں دھوکا سے ایک حبشی مسلمان سے معاہدہ کر لیااور انہوں نے قلعہ کے دروازے کھول دئیے۔جب لشکر آگے بڑھا تاکہ قلعہ میں داخل ہوتو انہوں نے کہا ہمارا تو تم سے معاہدہ ہو چکا ہے۔کمانڈر نے کہا میرے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا ہم نے ایک حبشی سے معاہدہ کر لیا تھا ۔اور اُس نے بعض شرائط پر ہمیں امن دیدیا تھا۔کمانڈر نے کہا اُسے معاہدہ کا کیا اختیار تھا ۔معاہدہ تو میرے ساتھ ہو نا تھا۔انہوں نے کہا ہم نہیں جانتے ہم آپ سے معاہد ہ کر چکے ہیں ۔جب یہ اختلاف بڑھاتو اسلامی فوج کے کمانڈر نے حضرت عمر ؓ کو یہ تمام واقعہ لکھ دیا۔اور دریافت کیا کہ اب کیا کیا جائے ۔حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے وفاء عہد کو بڑی عظمت و اہمیت دی ہے ۔سو تم اس عہد کو پورا کرو اور اُس وقت تک اس عہد پر قائم رہو جب تک کہ فریق ثانی خود اس عہد کی خلاف ورزی نہ کرے ۔
( طبری جلد ۵ ص ۲۵۶۸)
(تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ 133)