سیدنا حضرت اقدس المصلح موعود رضی اللہ عنہ آیت قرآنی اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ(النحل :126)کی تفسیر کرتے ہوئے تبلیغ اسلام کے گُر سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں:
حکمت کے معنی حلم کے بھی ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ نرمی کے ساتھ اور عقل سے کام لیتے ہوئے بات کیا کرو۔کیونکہ جو شخص ایسا نہیں کرتا بلکہ جلد تیز ہو کر غصے اور جوش میں آجاتا ہے وہ دوسروں کو ہرگز سمجھا نہیں سکتا۔
نبوت کے معنوں کی رو سے یہ مطلب ہوگا کہ الٰہی کلام کی مدد سے لوگوں کو دین کی طرف بلاؤ۔ جو دلائل خود قرآن کریم نے دیئے ہیں انہی کو پیش کرو۔ اپنے پاس سے ڈھکو نسلے نہ پیش کیا کرو۔ آہ! اگر اس گُر کو مسلمان سمجھتے تو یہودیت اور عیسائیت کو کھا جاتے ۔ ہمارا ہتھیار قرآن کریم ہی ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ(الفرقان :رکوع5) اس قرآن کی تلوار لے کر دنیا سے جہاد کے لئے نکل کھڑا ہو ۔ پر افسوس کہ آج دنیا کی ہر چیز مسلمان کے ہاتھ میں ہے لیکن اگر نہیں تو یہی تلوار، جس کو لے کر نکل کھڑے ہونے کا حکم تھا۔
مَا يَمْنَعُ مِنَ الْجَهْلِ کی رُو سے آیت کا یہ مطلب بنے گا کہ تم ایسے طریق سے کلام کیا کرو ۔ جس کو دوسر اسمجھ سکتے ۔ اور اس سے اس کی غلط فہمی دور ہو سکے ۔ یعنی وہ بات ہونی چاہیے جو جہالت کا قلع قمع کرے۔ اور مخاطب کے فہم کے مطابق ہو ۔ چنانچہ حدیث میں بھی آتا ہے ۔ ’’ آمَرَنَا رَسُولُ اللّہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُكَلِّمَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ عُقُوْلِهِمْ‘‘ (فردوس الاخبار للديلمی فصل امر امرنا) کہ ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگوں سے ان کے فہم
اور ادراک کے مطابق کلام کیا کرو۔ بعض لوگ لیکچر دیتے ہیں تو موٹے موٹے لفظ اور اصطلاحیں استعمال کر کے رعب ڈالنا چاہتے ہیں ۔ ان تقریروں سے جاہلوں پر رعب تو ضرور پڑ جاتا ہوگا۔ مگر فائدو ان کی تقریر سے کوئی نہیں اٹھاتا۔
مُوَافِقُ الحَقّکلام کو بھی حکمت کہتے ہیں۔ ان معنوں کے رو سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسی بات کیا کرو۔ جوسچی اور واقعات کے مطابق ہو۔ بعض لوگ یہ سمجھ کر کہ ہم سچے دین کی طرف ہی بلا رہے ہیں ۔ بعض غلط باتوں کو بھی بیان کر دیتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ طریق غلط ہے۔ دشمن کے مقابلہ میں جو بات کہو سچی کہو۔ دوسروں کو ہدایت دیتے دیتے خود ہی گمراہ نہ ہو جاؤ ۔ جیسے کہ فرما یا لا يَضُرُّكُمْ فَمَنْ ضَلَّ اِذَا هْتَدَيْتُمْ (المائدہ : 106) اگر تم ہدایت پر قائم رہتے ہو۔ تو اس کی پرواہ نہ کرو کہ دوسرا گمراہ ہوتا ہے۔ یعنی کوئی ایسی بات جو گناہ ہو اس خیال سے نہ کرو کہ اس کے ذریعہ سے میں دوسرے کو ہدایت دوں گا ۔ جب تمہاری ہدایت اور دوسرے کی ہدایت ٹکرا جائے تو اس وقت تم اپنی ہدایت کی فکر کرو۔ اور دوسرے کی ہدایت کو خدا پر چھوڑ دو کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ مومن کافر ہو جائے اور کا فرہو جائےاور کافر مومن۔ وہ تو دوسروں کو ہدایت دینا چاہتا ہے۔
حکمت محل و موقع کے مناسب کلام کو بھی کہتے ہیں۔ ان معنوں کے رو سے مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ تبلیغ میں برمحل بات کرنی چاہیے ۔اگر بعض دلائل سے دشمن کے برانگیختہ ہونے کا اندیشہ ہو، اور خطرہ ہو کہ وہ اس طرح سے تمہاری بات نہ سنے گا۔ تو یہ مناسب نہیں کہ بلا وجہ اس کو چڑا ؤ ۔ تم اس کے سامنے دوسرے دلائل بیان کرو جن کو وہ ٹھنڈے دل سے سن سکے ۔ گویا بات کرتے وقت پہلے مزاج شناسی کر لو ۔ اگر تم ان کو خوامخواہ بھڑکاؤ گے، تو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اللہ اللہ کیا مختصر الفاظ میں تبلیغ کے سب گُر بیان کر دیئے ہیں۔ جو شخص بھی ان پر عمل کرے گا کبھی اپنے مقصدمیں ناکام نہیں رہے گا۔
الْمَوْعِظَةُ الْحَسَنَةُ موعظہ حسنہ کے معنے پہلے گزر چکے ہیں ۔ (یعنی وہ کلام جو دلوں کو نرم کر دیتا ہو، اور ان پرگہرا اثر ڈالتا ہو) اس نصیحت سے مسلمانوں کو ادھر توجہ دلائی کہ خشک دلیلوں ہی سے کام نہ چلایا کرو۔ بلکہ جذبات کو ابھارنے والی بات بھی کیا کرو۔ اور حکمت کے ساتھ موعظہ حسنہ کو بھی شامل رکھا کرو۔ حسنہ کا لفظ رکھ کر بتادیا کہ جھوٹی غیرتیں نہ دلاؤ۔ جیسا کہ آج کل کے جاہل علما ، لوگوں کو بلا وجہ راستبازوں کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔
جَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کہنے سے مراد جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَن کہہ کر یہ بتایا ہے کہ ان سے جھگڑاکرتے وقت یہ بھی مد نظر رکھا کرو کہ مختلف دلائل میں سے جو سب سے اعلیٰ اور مضبوط دلیل ہو ، اس کو بطور بنیاد اور مرکز کے قائم کیا کروں اور باقی دلائل کو اس کے تابع۔ کیونکہ تائیدی دلیل کے ٹوٹ جانے سے اصل دلیل کو کوئی ضعف نہیں پہنچتا ۔ برخلاف اس کے کہ اگر مرکزی نقطہ کمزور ہوتو مضبوط تا ئیدی دلائل بھی کوئی زیادہ فائدہ نہیں دیتے اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ میں بتلایا ہے کہ تم اچھی طرح سے تبلیغ کرتے رہو ۔ لیکن اگر لوگ نہ مانیں تو اس سے یہ نتیجہ نکال کر مایوس نہ ہو جانا کہ ہمیں تبلیغ کرنی ہی نہیں آتی ۔ کیونکہ بہت ممکن ہے کہ تمہاری تبلیغ میں کوئی نقص نہ ہو ۔ مگر مخاطب کے دل پر اس کے گناہوں کا ایسارنگ ہو کہ خدا تعالیٰ اس کے لئے ہدایت کی کھڑکی نہ کھولے۔غرض تبلیغ میں منہمک رہنا چاہیے۔ نتیجہ نکالنااور اثر پیدا کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ (تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ 272)