اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-13

توحید کے بعد سب سے بڑی نیکی سچائی ہے انسانی اخلاق کا یہ ایک بنیادی حصہ ہے جھوٹ فطرت کے خلاف ہے (از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ ) 

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الفرقان کی آیت نمبر 73 وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ لا وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا؁ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ توحید کے بعد سب سے بڑی نیکی اور سب سے بڑامشکل کام جو اس دنیا میں انسان کے سامنے پیش آتا ہے وہ سچائی ہی ہے۔ ہزاروں انسان ایسے دیکھے جاتے ہیں جو رحم کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔ انصاف کرنے والے بھی ہوتے ہیں لیکن جب انہیں گواہی دینی پڑے اور وہ یہ دیکھیں کہ اُس کے نتیجہ میں اُن کی اپنی ذات کو یا اُن کے کسی رِشتہ دار اور دوست کو نقصان پہنچے گا تو وہ اس میں کچھ نہ کچھ ضرور تبدیلی کردیں گے اور یہ مرض اس قدر پھیل گیا ہے کہ ہمارے ملک میں لوگ بڑی دلیری کے ساتھ قسمیں کھا کھا کر جھوٹ بولتے ہیں اور ساتھ ہی اس بات پر ناراض بھی ہوتے ہیں کہ اُن کے جھوٹ کو سچ کیوں نہیں مانا جاتا۔
غرض سچائی ایک بڑی اہمیت رکھنے والی چیز ہے۔ انبیاء نے اِس پر خاص زور دیا ہے اور انسانی اخلاق کا یہ ایک بنیادی حصّہ ہے۔ مگر آج کل سیاسی اور قومی مفاد کی خاطر جھوٹ کو جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ بلکہ اُسے ایک نہایت ضروری چیز قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ جھوٹ فطرت کے خلاف ہے۔ جھوٹ اس چیز کا نام ہے کہ کان نے جو کچھ سنا ہو اس کے متعلق کہہ دیا جائے کہ
مَیں نے نہیں سنا۔ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہو اُس کے متعلق کہہ دیا جائے کہ مَیں نے نہیں دیکھا۔ ہاتھ نے ایک چیز اٹھائی ہو لیکن انسان یہ کہہ دے کہ میرے ہاتھ نے فلاں چیز نہیں اٹھائی۔ ایک شخص کے پاؤں ایک طرف چلیں لیکن وہ کہہ دے کہ میرے پاؤں اس طرف نہیں چلے۔ گویا انسان غیر کی نہیں اپنی تردید کرتا ہے اور اِس سے زیادہ فطرت کے خلاف اَور کیا چیز ہوگی۔ شُبہ اس چیز میں ہوسکتا ہے جس میں قیاس کا دخل ہو۔ حواسِ خمسہ کے افعال پر شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ اور حواسِ خمسہ کے افعال کے خلاف بات کہنے کو جھوٹ کہتے ہیں۔ جو شخص حواسِ خمسہ کی تردید کرتا ہے وہ گویا
اپنی زبان، ہاتھ، پاؤں، ناک اور کان کی تردید کرتا
ہے اور پھر وہ اس میں سب سے زیادہ لذّت محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے خلاف آپ گواہی دے رہا ہے۔ ایک انسان کے ہاتھ ایک چیز کو پکڑتے ہیں اور وہ کہتا ہے مَیں نے فلاں چیز نہیں پکڑی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو کہتا ہے تم نے فلاں چیز نہیں پکڑی۔ ایک چیز اس کی زبان چکھتی ہے لیکن وہ کہتا ہے مَیں نے فلاں چیز نہیں چکھی۔ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے کہتا ہے کہ تم نے فلاں چیز نہیں چکھی یا اس کے کان ایک بات سُنتے ہیں اور وہ اس کا انکار کردیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے کانوں سے کہتا ہے کہ تم نے فلاں بات نہیں سُنی۔ اب یہ کتنی مضحکہ خیز اور عجیب بات ہے۔ مگر لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور موقعہ آنے پر جھوٹ بول دیتے ہیں۔
(تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ580 و 583 مطبوعہ قادیان 2010)