اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-11-06

اسلام نے والدین کی خدمت کیلئے خاص ہدایات دی ہیں

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 24وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّااِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا۔اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَااَوْکِلٰہُمَا فَلَا تَقُلْ لَّہُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا؁کی تفسیر میں فرماتے ہیں:پس توحید کے حکم کے بعد والدین کے متعلق احسان کاحکم دیا۔کیونکہ ایک احسان کی قدر دوسرے احسان کی قدر کی طرف توجہ کو پھراتی ہے ۔
وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانَا۔اس کاعطف اَنْ پر ہے ۔پوراجملہ یہ ہے ۔ان احْسِنُوْابِالْوَالِدَیْنِ
اِحْسَانًا۔یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک تویہ حکم دیا ہے کہ خداکے سواکسی کو معبود نہ بنائو۔اورایک یہ کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔اس جملہ میں کیالطیف رنگ اختیار کیاگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے احسانات کا انسان بدلہ نہیں دے سکتا۔اس لئے خداتعالیٰ کے ذکر میں یہ بیان کیا کہ احسان توتم کرنہیں سکتے پس ظلم سے توبچو۔لیکن والدین کے احسان کابدلہ دیاجاسکتا ہے۔ ا س لئے ان کے بارہ میں مثبت حکم دیا ۔
اسلام نے والدین کی خدمت کے لئے خاص ہدایات دی ہیں ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مَنْ ادرک احد والدیہ ثم لم یُغْرَلہ فابعدہ اللہ عزّوجّل۔ رواہ احمد (ابن کثیر جلد 6 ص 61)یعنی جس شخص کواپنے والدین میں سے کسی کی خدمت کاموقع ملے اورپھر بھی اس کے گناہ نہ معاف کئے جائیں توخدااس پر لعنت کرے مطلب یہ کہ نیکی کا ایسااعلیٰ موقعہ ملنے پر بھی اگروہ خداکافضل حاصل نہیں کرسکا ۔توجنت تک پہنچنے کے لئے ایسے شخص کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ۔
(تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ 321، مطبوعہ قادیان 2010)