سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ المؤمنون آیت نمبر 52 يٰٓاَيُّہَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا۰ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ۵۲ اَے رسولوپاک چیزوں میں سے کھاؤ اور مناسب حال عمل کرو اور مَیں اس کو جو تم کرتے ہو جانتا ہوں، کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
اس آیت سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ اس میں صرف نبیوں کو مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ اس میں بعض جگہ مخاطب تو نبیوں کو کیا جاتا ہے لیکن مُراد اُن کے سب متبع ہوتے ہیں ۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے : اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ كِلٰـہُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا( بنی اسرائیل رکوع3) کہ اگر تیرے والدین میں سے کسی ایک پر یا اُن دونوں پر تیری زندگی میں ہی بڑھاپا آجائے توتُو اُن کی کسی بات پر ناپسند یدگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اُف تک بھی نہ کہہ اور نہ انہیں سختی سے جھڑک بلکہ ہمیشہ اُن سے نرمی سے بات کیا کر ۔اب اس جگہ خطاب بظاہر محمد رسول اللہ ﷺ سے ہے لیکن مراد آپ کی اُمت کے افراد ہیں ،کیونکہ آپؐ کے والد تو آپ کی پیدائش سے بھی پہلے اور آپ کی والدہ آپ کے بلوغ سے پہلے وفات پاچکی تھیں ۔اسی قاعدہ کے مطابق گو یہاں رسولوں کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن مراد اُن رسولوں کے متبع ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے کہ تم حلال اور طیب اشیاء کھائوکیونکہ اس کے نتیجہ میں تم کو نیک اعمال بجا لانے کی توفیق ملے گی ۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی خوراک کا اس کے اخلاق پر نہایت گہرا اثر پڑتا ہے اور جس قسم کے اثرات کسی غذا میں پائے جائیں ویسے ہی جسمانی یا اخلاقی تغیرات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں ۔چونکہ دُنیا میں انسان کو اپنے تمام طبعی جذبات ابھارنے اور اُن کو ترقی دینے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اُن کا برمحل استعمال کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکے اس لئے قرآن کریم نے اُن
غذائوں کے استعمال سے منع فرمادیا ہے جن کا کوئی جسمانی اخلاقی یا رُوحانی ضرر ظاہر ہو مثلاً اللہ تعالیٰ نے مُردار،خون اور سُؤرکے گوشت کو حرام قرار دیا ہے ۔ اسی طرح ہر ایسی چیز کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اَور کا نام لیا گیا ہو ۔ اب ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اپنے اندر بہت بڑے نقصانات نہ رکھتی ہو۔ مُردار کو ہی لے لو اگر کوئی جانور مر جائے تو اس کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ یا تو وہ بالکل بوڑھا ہوکر مرا ہے یا کسی زہریلے جانور کے کاٹنے کی وجہ سے مَرا ہے یا کسی بیماری یا زہر کے نتیجے میں مَرا ہے اور یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جو اس کے گوشت کو زہریلا اور ناقابل استعمال بنادیتی ہیں۔ اور اگر وہ کسی سخت صدمے سے مَرا ہو مثلاً کنویں میں گر کر یا جانوروں کی باہمی لڑائی میں تب بھی اس کے خون میں زہر پیدا ہوجاتا ہے جو اس کے گوشت کو ناقابل استعمال بنادیتا ہے اور خون تو اپنی ذات میں ہی ایسی چیز ہے جو کئی قسم کی زہریں اپنے اندر رکھتا ہے اور طبی لحاظ سے اس کا استعمال صحت کو تباہ کرنے والا ہے۔ یہی حال سؤر کے گوشت کا ہے ۔ اس کے استعمال سے بھی کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں اور پھر سؤر میں بعض اخلاقی عیوب بھی پائے جاتے ہیں جو اس کا گوشت استعمال کرنے والوں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ اور جو چیز غیر اللہ کے نام پر ذبح کی جائے اس کا استعمال انسان کو بے غیرت بنادیتا ہے اور اس کے دل سے اللہ تعالیٰ کا ادب دُور کردیتا ہے ۔ اسی طرح پینے کی چیزوں میں سے اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ وہ انسانی عقل پر پردہ ڈالتی اور اس کی ذہانت اور علم کو نقصان پہنچاتی ہے ۔ غرض اللہ تعالیٰ نے جس قدر چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اس کی وجہ ان کے جسمانی یا اخلاقی یا روحانی مضرات ہیں اور صرف ایسی ہی اشیاء کا کھانا جائز قرار دیا جو انسان کی جسمانی اور اخلاقی اور روحانی ترقی کا موجب ہوں۔ اور پھر حلال اشیا ء میں سے بھی طیبات کے استعمال پر زیادہ زور دیا ہے یعنی ایسی اشیاء پر جو انسان کی صحت اور اُس کی طبیعت کے مطابق ہوں اور جن کے استعمال سے اُسے کوئی ضرر لاحق ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام نے اخلاق پر خوراک کے اثر کو تسلیم کیا ہے اور اس کو خاص قیود اور شرائط سے وابستہ کرکے اخلاق کے حصول کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 ،صفحہ 180، مطبوعہ قادیان 2010)