سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون آیت نمبر38 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَا تُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ منکرین انبیاء کے انکار کی دوسری وجہ یہ ہو تی ہے کہ وہ لوگ بعث بعد الموت کے منکر ہوتے ہیں اور اس وجہ سے ان کے اندر اپنے اعمال کے اچھا یابُرا ہونے کے متعلق کبھی صحیح احساس پیدا نہیں ہوتا۔وہ جس ڈگر پر چل رہے ہوتے ہیں اُس پر آنکھیں بند کرکے چلتے چلے جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ہمارا کام اتناہی ہے کہ ہم کھائیں پئیں اور اس چند روزہ زندگی کو عیش و آرام میں گذار دیں ۔یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے انبیاء اُن کے پاس خداتعالیٰ کا پیغام لے کر آتے ہیں تو وہ چونکہ اُن کے عقائد اور اعمال میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرنا چاہتے ہیں اس لئے اُنکو ایک دھکا لگتا ہے اور وہ یہ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ تم ہمیں خداتعالیٰ کے عذاب سے کیا ڈراتے ہو ۔ ہمارا تو یہ عقیدہ ہی نہیں کہ ہم مر کر پھر زندہ ہونگے ۔اس لئے ہمیںکسی جواب دہی کا کیا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ہم جو بھی عمل کریں گے اپنی اس چند روزہ حیات کیلئے کریں گے اور ہم اپنے نفع و نقصان کو سمجھنے کی خوب اہلیت رکھتے ہیں ۔اس لئے تم ہمیں آخرت کے عذاب سے مت ڈرائو۔
حقیقت یہ ہے کہ بعث بعد الموت پر ایمان ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کا خوف اور اُس کی محبت پیدا کرتی ہے اور اس کے اعمال کی اصلاح کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔اگر آئندہ زندگی پر ایمان نہ رہے تو نہ صرف تمام کا رخانۂ عالم کو ایک عبث اور لغو چیز تسلیم کرنا پڑتا ہے بلکہ نیکی اور تقویٰ میں ترقی بھی ایک بیکار عمل قرار پاتا ہے۔ مگر یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند اور ستاروں اور سیّاروں اور آسمان اور زمین کے درمیان کی ہزارہا چیزیں پیدا کرکے اور اُن میں اپنی قدرت کے ہزارہا راز ودیعت کر کے ایک ایسے انسان کو پیدا کیا جس نے چند سالہ زندگی بسر کرکے ہمیشہ کیلئے فنا ہو جانا ہے اور اُس کی زندگی کا کوئی اہم مقصد نہیں ایک ایسا خیال ہے جسے کوئی عقل تسلیم نہیں کر سکتی۔ انسان کیلئے اس قدر وسیع کائنات کا پیدا کرنا اور اُس پر عقل کے ذریعہ انسان کو حکومت بخشنا بتاتا ہے کہ اُس کیلئے اس محدود زندگی کے علاوہ کوئی اور مقصد بھی مقرر کیا گیا ہے ۔اور اسلام کہتا ہے کہ وہ مقصد یہی ہے کہ اُسے ایک دائمی حیات کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔ اور دائمی روحانی ترقیات کا راستہ اُس کیلئے کھولا گیا ہے۔پس موت کے صرف اتنے معنے ہیں کہ انسانی رُوح جسم سے جدا ہو گئی ورنہ رُوح پر کوئی فنا نہیں او ر وہ ہمیشہ زندہ رہتی اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے غیر متناہی مراتب حاصل کر تی رہتی ہے ۔
بہر حال انبیاء کے انکار کی ایک بڑی وجہ بعث بعد الموت کا انکار بھی ہوتا ہے جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 171، مطبوعہ قادیان 2010)