اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-10-02

محمد رسول اللہ ﷺ کو مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ انصار عطا فرمائے جنہوں نے اپنی ایمانی قوت کے ایسے شاندار مظاہرے کئے جن کو دیکھ کر انسان کادل لذّت اور سرور سے بھر جاتا ہے انہوں نے جس طرح بھیڑ اور بکریوں کی طرح اپنے سروں کو اسلام کی راہ میں کٹوایا اس کے نقوش تاریخ کے صفحات پر ہی نہیں دلوں کی گہرائیوں پر اس طرح ثبت ہیں کہ قیامت تک آنے والی نسلیں اُن کی شاندار قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرسکتیں

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون آیت نمبر31 اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ وَّاِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِيْنَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
محمد رسول اللہ ﷺ کو مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ انصار عطا فرمائے جو عروۃ الوثقٰی کو مضبوطی سے پکڑنے والے تھے اور جنہوں نے اپنی ایمانی قوت کے ایسے شاندار مظاہرے کئے جن کو دیکھ کر انسان کا دل لذّت اور سرور سے بھر جاتا ہے ۔مدینہ آنے کے بعد جب رسول کریم ﷺ کو یہ خبر ملی کہ شام سے کفار کا ایک تجارتی قافلہ ابو سفیان کی سرکردگی میں آرہا ہے اور وہ راستہ میں تمام عرب قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا تا آرہا ہے تو آپ نے ضروری سمجھا کہ اُس کی شرارتوں کا سدِّ باب کیا جائے ۔چنانچہ آپ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کو اپنے ساتھ لے کر مدینہ سے چل پڑے۔ چونکہ یہ ایک چھوٹا سا قافلہ تھا اس لئے مسلمانوں نے اس کو کوئی زیادہ اہمیت نہ دی اور انہوں نے سمجھا کہ تھوڑے سے آدمی بھی اگر چلے گئے تو اس قافلہ کا آسانی کے ساتھ مقابلہ کیا جا سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم ﷺ کو خبر دی گئی کہ اصل مقابلہ اس تجارتی قافلہ سے نہیں بلکہ کفار کے ایک بڑے لشکر سے مقدر ہے جو مکہ سے اس قافلہ کی مدد کے لئے آرہا ہے ۔مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس راز کے انکشاف کی ممانعت فرما دی کیونکہ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ صحابہ ؓ کا امتحان لے اور اُن کے اعلیٰ درجہ کے ایمان اور اُن کی قربانیوں کے اَن مٹ نقوش کو صفحۂ عالم پر ثبت کر دے اور اُن کا اخلاص لوگوں کیلئے ایک زندہ نمونہ کا کام دے جو آنے والی نسلوں کی مُردہ عروق میں بھی زندگی کا خون دوڑا دے۔جب مدینہ سے کئی منزل دور آپ پہنچ گئے تو آپ نے صحابہ ؓ کو جمع کیا اور انہیں بتا یا کہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ تمہارا کفار مکّہ کے ایک بڑے لشکر سے مقابلہ ہو۔اب بتائو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ مہاجرین میں سے ایک ایک صحابی اٹھتا اور کہتا یا رسول اللہ مشورہ کا کیا
سوال ہے۔آگے بڑھیے اور دشمن کا مقابلہ کیجئے ہم آپ کے ساتھ ہیں اور اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔ مگر جب بھی کوئی مہاجر بیٹھ جاتا ،آپ پھر فرماتے اے لوگو مجھے مشورہ دو ۔انصار جو ایک بڑی سمجھ دار اور قربانی کرنے والی قوم تھی اُ سکے افراد ابھی خاموش تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے یہ کہا کہ ہم لڑنے کیلئے تیار ہیں تو چونکہ کفار مکّہ ان مہاجرین کے رشتہ دار ہیں، اُن میں سے کوئی ان کا باپ ہے، کوئی بیٹا ہے، کوئی بھائی ہے، کوئی ماموں ہے، کوئی چچا ہے اس لئے ہمارا جوش ان پر گراں گذرے گا اور یہ سمجھیں گے کہ انہیں ہمارے رشتہ داروں کو مارنے میں بڑا مزہ آتا ہے ۔مگر جب رسول کریم ﷺ نے بار بار فرما یا کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ مشورہ تو
آپ کو مل رہا ہے ۔مگر آپ جو بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیں تو شاید آپ کی مُراد ہم انصار سے ہے کہ اس بارہ میں ہماری کیا رائے ہے ؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ٹھیک ہے ۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! جب ہم مکّہ مکرمہ میں گئے تھے اور ہمیں آپ کی بیعت کی سعادت حاصل ہوئی تھی تو اُس وقت ہم نے آپ سے درخواست کی تھی کہ آپ مدینہ تشریف لے آئیں۔ آپ نے ہماری درخواست کو قبول فرمایا اور ہم نے یہ معاہدہ کیا کہ اگر مدینہ پر کسی دشمن نے حملہ کیا تو ہم اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر کے آپکی حفاظت کریں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر مقابلہ ہوا تو پھر ہم پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔اب چونکہ مدینہ سے باہر مقابلہ ہو رہا ہے، اس لئے شاید آپ کا اشارہ اُس معاہدہ کی طرف ہے اور آپ ہم سے یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ اب اس معاہدہ کے مطابق ہماری کیا رائے ہے؟ رسو ل کریم ﷺ نے فرمایا تم درست سمجھتے ہو ،میرا اشارہ اسی معاہدہ کی طرف تھا۔ اُنہوں نے کہا یا رسول اللہ اس معاہدہ کا خیال جانے دیجئے۔ جب ہم نے یہ معاہدہ کیا تھا اُس وقت ابھی ہم پر آپ کی پوری شا ن ظاہر نہیں ہوئی تھی مگر اب ہم نے دیکھ لیا ہے کہ آپ کی کیا شان ہے اور آپ کتنی بڑی عظمت اور جاہ وجلال کے نبی ہیں۔ اب کسی معاہدہ کا سوال نہیں ۔یا رسول اللہ ! چند منزل کے فاصلہ پر سمندر ہے آپ حکم دیں تو ہم اپنے گھوڑے اُس میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں اور یا رسول اللہ! اگر لڑائی ہوئی تو خدا کی قسم ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے ۔آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن اس وقت تک آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہو ا نہ گذرے۔ یہ وہ اخلاص تھا جس کا نمونہ انصار نے دکھایا اور یہ وہ جذبۂ فدائیت تھا جس کا انہوں نے مظاہر ہ کیا۔اور پھر انہوں نے جس طرح بھیڑ اور بکریوں کی طرح اپنے سروں کو اسلام کی راہ میں کٹوایا اس کے نقوش تاریخ کے صفحات پر ہی نہیں دلوں کی گہرائیوں پر اس طرح ثبت ہیں کہ قیامت تک آنے والی نسلیں اُن کی شاندار قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتیں ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 165، مطبوعہ قادیان 2010)
…٭…٭…٭…