اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-25

وہ زمانہ آگیا جس میں اسلام کے دوبارہ احیاء کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اُس کی رحمت کا دریا دِلوں کی خشک زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے اپنے کناروں سے اچھل کر بہہ پڑا ہے اب وہی لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں جو اس آسمانی پانی سے فائدہ اٹھائیں اورابیٰ اور استکبار سے کام نہ لیں

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون آیت نمبر19 وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰہُ فِي الْاَرْضِ۝۰ۤۖ وَاِنَّا عَلٰي ذَہَابٍؚبِہٖ لَقٰدِرُوْنَ۝۱۹ۚکی تفسیر میں فرماتے ہیں:
خدا نے وَاِنَّا عَلٰی ذَھَابٍ بِہٖ لَقَادِرُوْنَ میں صرف تنزلِ اسلام کی ہی خبر نہیں دی تھی بلکہ یہ بھی بتایا تھا کہ اس تاریکی کے زمانہ میں جبکہ روحانیت کے متلاشی اندھوں کی طرح مارے مارے پھر رہے ہونگے اللہ تعالیٰ مشرق کی سرزمین سے اپنا ایک مامور مبعوث فرمائیگا جس کی نورانی کرنوں سے وساوس اور شکوک کی تاریکیوں کو پھاڑ دیا جائیگا۔ خشک زمین کو سیراب کیا جائیگااور روحانیت اور تقویٰ کی روئیدگی کو نکالا جائیگا۔ تاکہ وہ دنیا جو ایک خشک جنگل کی طرح ہوگئی تھی ایک شاداب کھیت کی طرح ہو جائے اور لوگ زندگی اور خوشی کا سانس لینے لگیں اور تاکہ لوگ اُس حقیقی راحت کو پالیں جو خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کی لقاکے بغیر کبھی حاصل نہیں ہو سکتی۔چنانچہ وہ زمانہ آگیا جس میں اسلام کے دوبارہ احیاء کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔اُس کی رحمت کا دریا دِلوں کی خشک زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے اپنے کناروں سے اچھل کر بہہ پڑا ہے۔ اب وہی لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں جو اس آسمانی پانی سے فائدہ اٹھائیں اورابیٰ اور استکبار سے کام نہ لیں۔
پھر فرماتا ہے جس طرح تازہ اُترنے والے مادی پانی سے کھجور اور انگور اور دوسرے پھل پیدا ہوتے ہیں اسی طرح تازہ اُترنے والے روحانی پانی سے بھی قسم قسم کے اعلیٰ درجہ کے پھل پیدا ہوتے رہیں گے ۔ان پھلوں میں سے کچھ تو تم کھاتے ہو اور کچھ دوسرے کاموں میں استعمال کرتے ہو۔جیسے اس درخت کا پھل جو طورِ سینا سے نکلتا ہے اور جس میں تیل بھی پایا جاتا ہے ۔اور جو کھانے والوں کیلئے سالن کے کام بھی آتا ہے ۔یعنی زیتون۔
ان آیات میں اس مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اسلام کے دوبارہ احیاء کے سلسلہ میں بیان کیا جا رہا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ تم اسلام کو ایک بے ثمر باغ تصور مت کرو۔ بلکہ یاد رکھو کہ یہ وہ باغ ہے جو ہر زمانہ میں اپنے تازہ پھل لوگوں کو کھلاتا رہے گا۔اور جب بھی اسلام میں کوئی خرابی واقعہ ہو گی اُس کو دور کرنے کیلئے محمد رسول اللہ ﷺ کا کوئی غلام جو آپ کی ہی روحانیت کا پھل ہوگا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوکر اُس خرابی کو دُور کر دے گا۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں جبکہ دُنیا معجزات و نشانات کا انکار کر رہی تھی بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے مخالفینِ اسلام کو چیلنج دیتے ہوئے فرمایا
کرامت گرچہ بے نام و نشان است
بیابنگر ز غلمانِ محمدؐ
یعنی اس زمانہ میں اگر تمہیں معجزات و نشانات کاکوئی نمونہ نظر نہیں آتا تو تم آؤ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں سے ان کرامات کا مشاہدہ کر لو۔ رسول کریم ﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا( ابوداؤد جلد 2 ص 241)یعنی اللہ تعالیٰ میری امت میں ہر صدی کے سر پر ایسے مُصلحین کھڑا کرتا رہے گا جو اُن خرابیوں کو دُور کر دیا کریں گے جو مرور زمانہ کی وجہ سے اسلام میں داخل ہو نگی اور اس طرح اسلام کا پاک اور بے عیب چہرہ لوگوں کے سامنے بار بار آتا رہے گا۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 151، مطبوعہ قادیان 2010)