سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون آیت 18 وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
پھر انسان اس سے بھی آگے ترقی کرتا ہے اور چھٹا درجہ اُسے حاصل ہوتا ہے کہ اُس میں ایسا تقویٰ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کلی طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بَلٰی ق مَنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یعنی جو لوگ اپنے آپ کو کلیۃً اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں اور نیک اعمال بجا لائیں، اُن کیلئے اپنے رب کے حضور بہت بڑا اجر مقدر ہےاور وہ ہر قسم کے خوف اور حزن سے محفوظ رہیں گے۔ ملکوتی مقام میں تو وہ سمجھتا تھا کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں مجھے حکم دو تو میں دوڑ کر اُس کی تعمیل کروں گا۔مگر اس مقام پر پہنچ کر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں جس طرح آپ کی مرضی ہو اسی طرح مجھے چلا لیجئے۔اس مقام پر پہنچ کر اس کے تمام کام خداتعالیٰ کے کام ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک بے جان ہتھیار کی طرح دے دیتا ہے۔ایسے لوگوں کی نسبت ہی رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ ترقی کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ خدا اُن کی آنکھیں اور کان اور ہاتھ پاؤں بن جاتا ہے ۔یعنی اُن کی تمام حرکات و سکنات اُس کے منشا کے مطابق ہوتی ہیں اور وہ ہر ابتلاء اور ٹھوکر سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
ساتواں مقام جس پر انسان ترقی کرکے پہنچتا ہے وہ وہی ہے جس کا ثُمَّ اَنْشَاْ نٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ میں ذکر کیا گیا ہے۔یعنی پھر اُسے ایک اور خلق میں بدل دیا جاتا ہے اور اس پر ایسا آسمانی رنگ چڑھ جاتا ہے کہ پہلے تو وہ خداتعالیٰ کے بلائے بولتا تھا مگر اَب اُس کو وہ مقام بخشا جاتا ہے کہ جو کچھ وہ کہتا ہے خداتعالیٰ بھی اُسی کے مطابق اپنے احکام جاری کر دیتا ہے گویا پہلے تو خدا اس کے ہاتھ پاؤں بناتھا مگر پھر وہ ترقی کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کے اپنے ہاتھ پاؤں خداتعالیٰ کے ہاتھ پاؤں اور اُس کی زبان خداتعالیٰ کی زبان بن جاتی ہےاور وہ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْيٌ یُّوْحٰی کا مصداق ہو جاتا ہے۔ یہ انسانی کمال کا وہ آخری نقطہ ہے جس پر پہنچ کر خدائی صفات اُس کے آئینہ ٔ قلب میں منعکس ہونے لگتی ہیںاور وہ اس کے جلال اور جمال کا مظہر ہو جاتا ہے۔ اس سے دشمنی رکھنے والے خداتعالیٰ سے دشمنی رکھنے والے قرار پاتے ہیںاور اُس سے محبت رکھنے والے خداتعالیٰ کی برکات اور اُس کے انعامات کے مورد بنتے ہیں۔ اسی مقام کی طرف بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے ایک جگہ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ۔
اے آں کہ سوئے من بدویدی بصد تبر
از باغباں بترس کہ من شاخِ مثمرم
یعنی اے وہ شخص جو میری طرف تبر اور کلہاڑے لے کر اس نیت سے دوڑا چلا آرہا ہے کہ تو میرے لگائے ہوئے باغ کو کاٹ دے تو باغبان سے ڈر کہ میں وہ شاخ نہیں ہوں جو کاٹی جا سکے۔تیری تدابیر الٹ کر تجھ پر ہی پڑیں گی اور تیرا منصوبہ خود تجھے ہی تباہ کر دیگا۔کیونکہ میرے سر سے پاؤں تک میرا خدا مجھ میں نہاں ہے اور حملہ کر نیوالا مجھ پر حملہ نہیںکرتا بلکہ خدا پر حملہ کرتا ہے اور کون ہے جو خدا پر اپنے حملہ میں کامیاب ہو سکے۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 147، مطبوعہ قادیان 2010)