اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-09-11

روحانیت کے پانچویں درجہ پر پہنچ کر انسان مَلَک بن جاتا ہے ایسا انسان خدا تعالیٰ کے سب حکموں کو پورا کرتا ہے اور اس پر کبھی غفلت کی نیند نہیں آتی

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون آیت 18 وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ وَمَا کُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غَافِلِیْنَ کی تفسیر میں روحانیت کے سات درجوں میں سے چوتھے کے متعلق فرماتے ہیں:
چوتھا درجہ انسان کو یہ حاصل ہوتا ہے کہ اُسے تقویٰ اور روحانیت سے لگاؤ ہو جاتا ہے اور وہ سب کام عقل اور سمجھ سے کرنے لگتا ہے مگر کبھی کبھی اس پر شیطان بھی غالب آجاتا ہے ہاں بدی کا حملہ اس پر بہت کم کارگر ہوتا ہے کیونکہ اُس میں بدی کو بدی سمجھنے کی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے اِس حالت کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ
( اعراف رکوع 24)یعنی وہ لوگ جنہوں نے اُس وقت تقویٰ اختیار کیا جب شیطان کی طرف سے آنے والا کوئی خیال اُن کو محسوس ہوا اور وہ ہوشیار ہوگئے اور اُن کی آنکھیں کُھل گئیں وہ ہدایت پا جاتے ہیں ۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ کبھی کبھی ایسے لوگوں کو شیطان اپنی طرف کھینچتا ہے ۔مگر وہ جھٹ ہوشیار ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو اپنی مدد کیلئے پکارتے ہیں اور شیطانی حملہ سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
پھر انسان اس سے بھی ترقی کرتا اور پانچویں درجہ میں پہنچ کر مَلَک بن جاتا ہے ۔یعنی اُس کی معرفتِ الٰہی ایسی ترقی کر جاتی ہے کہ خداتعالیٰ کے تمام احکام پر عمل اُس کی غذا بن جاتا ہے اور جس طرح ملائکہ یَفْعَلُوْنَ مَایُؤْ مَرُوْنَ کے مصداق ہوتے ہیں اسی طرح ایسا انسان بھی خداتعالیٰ کے سب حکموں کو پورا کرتا ہے اور اس پر کبھی غفلت کی نیند نہیں آتی ۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْہِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ؁سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ؁ (رعد رکوع 3)یعنی ایسے لوگوں کے پاس ہر دروازہ سے فرشتے آئیں گے۔اور ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے سلامتی ہی سلامتی ہے کیونکہ تم خداتعالیٰ کی راہ میں ثابت قدم رہے ہو ۔پس اب دیکھو کہ تمہارے لئے اس گھر کا کیا ہی اچھا انجام ہے ۔چونکہ یہ لوگ ملکوتی صفات رکھنے والے ہونگے اس لئے انکو دیکھتے ہی فرشتے اُن کی طرف دوڑ پڑیں گے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے قرب اور اُس کے انعامات کے حصول کی خوشخبری دیں گے مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ فرشتے اپنی کثرت کی وجہ سے ایک دروازے کی بجائے بہت سے دروازوں سے داخل ہو نگے بلکہ اس کے اصل معنے یہ ہیں کہ ہر دروازہ کا فرشتہ اُن کے پاس آئے گا اور انہیں مبارک باد دیگا کہ تم اس جدوجہد میں کامیاب ہو گئے جس میں میں اور تم دونوں مل کر شیطان کا مقابلہ کیا کرتے تھے کیونکہ بدی انسانی قلب میں کئی راستوں سے داخل ہوتی ہے۔کبھی آنکھ کے ذریعہ بدی کی تحریک ہوتی ہے کبھی کانوں کے ذریعہ بدی کی تحریک ہوتی ہے اورکبھی چھونے اور چکھنے کے ذریعہ بدی کی تحریک ہوتی ہے اور چونکہ ہر راستہ کی حفاظت کیلئے خدا تعالیٰ کے فرشتے مقرر ہیں اس لئے جب انسان شیطان پر کامیابی حاصل کرلے گاتو ہردروازہ کا فرشتہ اُسے مبارکباد دینے کیلئے آئے گا۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ146 تا 147، مطبوعہ قادیان 2010)