سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون ثُمَّ اَنْشَاْ نٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مجھے ایک رات میں چالیس ہزار عربی کا مادہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھایا گیا۔اب یہ وہ انقلاب تھا جو آپ کے اندر پیدا ہوا۔لیکن اگر اس انقلاب کو دیکھتے ہوئے لڑکے سکول میں پڑھنا چھوڑ دیں اور اس انتظار میں بیٹھ جائیں کہ فرشتہ آئیگا اور ساٹھ ہزار عربی کا مادہ انھیں سکھا دیگاتو انہیں کون عقلمند سمجھے گا؟ انقلاب پیدا نہیں کئے جاتے بلکہ انقلاب خود بخود پیدا ہوتے ہیں ۔ لیکن ارتقاء اور انتقال عن الحال الی الحال آہستہ آہستہ اور محنت کے ساتھ ہوتا ہے ۔انقلاب لاکھوں دنوںمیں کسی ایک دن آتا ہے ۔باقی سارے دن انتقال کے ہوتے ہیں ۔اور انسان ایک حالت سے دوسری حالت میں بتدریج کوشش اور محنت اور قربانی کے ساتھ
پہنچتا ہے۔یہ انتقال عن الحال الی الحال اور استدراجی تغیر ہمیشہ نوافل اور ذکرِ الٰہی اور کوشش اور جدوجہد کے ساتھ ہوتا ہے ۔انسان جب اپنے نفس کا مطالعہ کرے تو وہ سوچے گا کہ اگر دوسرا شخص مجھے گالی دے تو میں اپنے نفس کو کس طرح روکوں گا۔وہ ظلم کرے تو میں اُس کے ظلم کو کیسے برداشت کرونگا۔ وہ لغو گفتگو کرے تو میں اپنی زبان کو کس طرح بند رکھوں گا۔اور جب وہ سوچیگا تو آہستہ آہستہ اس کا نفس کامل بنتا چلا جائیگا۔ اگر اُس میں انقلاب آتا تو پہلے ہی دن وہ تہجد اور دوسرے نوافل پڑھنے لگ جاتا۔وہ فوراً حرامخوری اور جھوٹ سے بچ جاتا ۔لیکن ایسا اس لئے نہیں ہوتا کہ اُس کا تغیر استدراجی ہوتا ہے اور اسکی ترقی کوشش اور جدوجہد کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ عام طورپر اس کوشش اور جدوجہد کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی جس کی طرف اللّٰہ تعالیٰ نے ان آیات میں توجہ دلائی ہے اور انقلاب کے انتظار میں لوگ بیٹھے رہتے ہیں ۔حالانکہ اُن کے اندر جو بھی
تغیر پید اہوگا وہ استدراجی ہوگا اور اس کیلئے کوشش اور جدوجہد کی ضرورت ہوگی۔اس غرض کیلئے بنیادی طورپر اس امر کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خلوص کے ساتھ عبادت کی جائے اور اس پر دوام اختیار کیا جائے۔ اگر انسان عبادت پر دوام اختیار کرے تو دوسری نیکیاں آپ ہی آپ صادر ہونے لگتی ہیں ۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ صرف فرض نمازیں پڑھی جائیں بلکہ جیسا کہ بتایا جاچکا ہے تہجد اور نوافل کی ادائیگی پر بھی زور دینا چاہئے۔ اسی طرح دیانت ، امانت وفائے عہد ، غرباء پروری اور عفت کا بھی خاص خیال رکھنا چاہئے۔ان نیکیوں میں حصہ لینے سے انسان اتنا ترقی کر جاتا ہے کہ آخر اُسے ایک نئی روحانی پیدائش حاصل ہو جاتی ہے اور انسانیت اپنے معراجِ کمال کو پہنچ جاتی ہے۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ143 تا 144، مطبوعہ قادیان 2010)