سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون آیت ثُمَّ اَنْشَاْ نٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
آخر میں اس امر کا بیان کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں ثُمَّ اَنْشَاْ نٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ فرما کر اللہ تعالیٰ نے جس روحانی مقام کا ذکر فرمایا ہے یہ وہ مقام ہے جو محنت اور قربانی اور جدوجہد اور متواتر عمل کے ساتھ وابستہ ہے اور جس کیلئے ایک لمبے عرصہ تک انسان کو اپنے نفس کی جلاء میں مشغول رہنا پڑتا ہے۔ لیکن بعض تغیرات ایسے بھی ہوتے ہیں جو انقلابی طورپر واقع ہوتے ہیں اور آنًا فانًا انسان کو زمین سے اٹھا کر عرش پر پہنچا دیتے ہیں ۔ حضرت عمرؓ کے ایمان لانے کا واقعہ اس انقلاب کی ایک زندہ مثال ہے ۔ حضرت عمرؓ کو اسلام سے شدید دشمنی تھی لیکن اُن میں روحانی قابلیت بھی موجود تھی یعنی باوجود آپ میں شدید غصّہ ہونے کے،باوجود رسول کریم ﷺ اور آپؐکے صحابہؓ کو تکالیف پہنچانے کے اُن کے اندر جذبۂ رقت بھی موجود تھا۔چنانچہ جب حبشہ کی طرف پہلی ہجرت ہوئی تو مسلمانوں نے نماز فجر سے پہلے مکہ سے روانگی کی تیاری کی تاکہ مشرک انہیں روکیں نہیں اور انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچائیں ۔مکہ میں یہ رواج تھا کہ رات کو بعض رؤساء شہر کا دورہ کیا کرتے تھے تاکہ چوری وغیرہ نہ ہو۔ اسی دستور کے مطابق حضرت عمرؓبھی رات کو پھر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا ایک جگہ گھر کا سب سامان بندھا پڑا ہے ۔آپ آگے بڑھے ۔ایک صحابیہ ؓ سامان کے پاس کھڑی تھیں۔ اُس صحابیہؓ کے خاوند کے ساتھ شاید حضرت عمر ؓ کے تعلقات تھے ۔ اس لئے آپ نے اُس صحابیہ ؓ کو مخاطب کر کے کہا بی بی یہ کیا بات ہے ؟ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم کسی لمبے سفر پر جاری ہو۔اُس صحابیہؓ کا خاوند وہاں نہیں تھا۔ اگر وہ وہاں ہوتا تو ہو سکتا تھا کہ مشرکینِ مکہ کی عداوتوں اور دشمنیوں کی وجہ سے حضرت عمرؓ کی یہ بات سُن کر وہ کوئی بہانہ بنا دیتا۔لیکن عورت کو یہ حِس نہیں تھی۔ اُس صحابیہؓ نے کہا عمرؓ! ہم تو مکہ چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تم مکہ چھوڑ رہی ہو؟ صحابیہ ؓ نے کہا ہاں ہم مکہ چھوڑ رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا تم کیوں مکہ چھوڑ رہے ہو؟ صحابیہ ؓ نے جواب دیا عمرؓ ! ہم اس لئے مکہ چھوڑ رہے ہیں کہ تم اور تمہارے بھائی ہمارا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے ۔اور ہمیں خدا ئے واحد کی عبادت کرنے میں یہاں آزادی میسر نہیں۔ا س لئے ہم وطن چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں جارہے ہیں ۔اب باوجود اس کے کہ
حضرت عمر ؓ اسلام کے شدید دشمن تھے، باوجود اس کے کہ وہ خود مسلمانوں کو مارنے پر تیار رہتے تھے، رات کے اندھیرے میں اُس صحابیہ ؓ سے یہ جواب سُن کر کہ ہم وطن چھوڑ رہے ہیں اس لئے کہ تم اور تمہارے بھائی ہمارا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے اور ہمیں خدائے واحد کی عبادت آزادی سے نہیں کرنے دیتے ، حضرت عمرؓ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔اور اس صحابیہ ؓ کا نام لے کر کہا اچھا جائو خدا تمہارا حافظ ہو۔ معلوم ہوتا ہے حضرت عمر ؓ پر رقت کا ایسا جذبہ آیا کہ آپ نے خیال کیا کہ اگر میں نے دوسری طرف منہ نہ کیا تو مجھے رونا آجائے گا۔اتنے میں اُس صحابیہ ؓ کے خاوند بھی آگئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ عمرؓ اسلام کے شدید دشمن ہیں ۔ انہوں نے جب آپ کو وہاں کھڑا دیکھا تو خیال کیا یہ ہمارے سفر میں کوئی روک پیدا نہ کر دیں۔انہوں نے اپنی بیوی سے دریافت کیا کہ یہ یہاں کیسے آگیا؟ اُس نے بتا یا کہ وہ اس اِس طرح آیا تھا اور اُس نے سوال کیا تھا کہ تم کہاں جارہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی شرارت نہ کر دے۔ اُس صحابیہ ؓ نے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے ( عرب عورتیں عام طورپر اپنے خاوندوں کو چچا کا بیٹا کہا کرتی تھیں ) تم تو یہ کہتے ہو کہ وہ کہیں کوئی شرارت نہ کر دے مگر مجھے تو ایسا معلوم ہو تا ہے کہ اُس نے کسی دن مسلمان ہو جانا ہے کیونکہ جب میں نے کہا عمرؓ! ہم اس لئے مکہ چھوڑ رہے ہیں کہ تم اور تمہارے بھائی ہمیں خدائے واحد کی عبادت آزادی سے نہیں کرنے دیتے تو اُس نے منہ پھیر لیا اور کہا اچھا جائو خداتمہارا حافظ ہو۔ اُس کی آواز میں ارتعاش تھا اور میں سمجھتی ہوں کہ اُس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ضرور کسی دن مسلمان ہو جائیگا۔
دن اسی طرح گزرتے چلے گئے اور حضرت عمر ؓ اسلام کی برابر سختی سے مخالفت کرتے رہے۔ایک دن اُن کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ اس مذہب کے بانی کا ہی کام تمام کرد یا جائے۔اور اس خیال کے آتے ہی انہوں نے تلوار ہاتھ میں لی اور رسول کریم ﷺکے قتل کیلئے گھر سے نکل کھڑے
ہوئے۔ راستہ میں کسی نے پوچھا عمرؓ کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا محمد (ﷺ) کو مارنے کیلئے جا رہا ہوں۔ اُس شخص نے ہنس کر کہا اپنے گھر کی تو پہلے خبر لو۔ تمہاری بہن اور بہنوئی تو اس پر ایمان لے آئے ہیں ۔حضرت عمر ؓنے کہا یہ جھوٹ ہے ۔ اُس شخص نے کہا تم خود جا کر دیکھ لو۔حضرت عمر ؓ وہاں گئے دروازہ بند تھا اور اندر ایک صحابیؓقرآن کریم پڑھا رہے تھے ۔ آپنے دستک دی۔ اندر سے آپ کے بہنوئی کی آواز آئی کون ہے؟ عمرؓ نے جواب دیا عمرؓ ۔انہوںنے جب دیکھا کہ حضرت عمرؓ آئے ہیں اور وہ جانتے تھے کہ آپ اسلام کے شدید مخالف ہیں تو انہوں نے صحابیؓکو جو قرآن کریم پڑھا رہے تھے کہیں چھپا دیا ۔اسی طرح قرآن کریم کے اوراق بھی کسی کو نہ میں چھپا کر رکھ دیئے اور پھر دروازہ کھولا۔حضرت عمرؓ چونکہ یہ سُن کر آئے تھے کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں اس لئے انہوں نے آتے ہی دریافت کیا کہ دروازہ کھولنے میں دیر کیوں کی ہے۔ آپ کے بہنوئی نے جواب دیا آخر دیر لگ ہی جاتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا یہ بات نہیں کوئی خاص امر دروازہ کھولنے میں روک بنا ہے۔مجھے آواز آرہی تھی کہ تم اُس صابی کی باتیں سُن رہے تھے (مشرکین مکہ رسول کریم ﷺ کو صابی کہا کرتے تھے) انہوں نے پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن حضرت عمرؓ کو غصّہ آیا اور وہ اپنے بہنوئی کو مارنے کیلئے آگے بڑھے ۔ آپ کی بہن اپنے خاوند کی محبت کی وجہ سے درمیان میں آگئیں۔ حضرت عمر ؓ چونکہ ہاتھ اُٹھا چکے تھے اور اُن کی بہن اچانک درمیان میں آگئیں وہ اپنا ہاتھ روک نہ سکے اور اُن کا ہاتھ زور سے اُن کی ناک پر لگااور اُس سے خون بہنے لگا ۔حضرت عمرؓ جذباتی آدمی تھے یہ دیکھ کر کہ انہوں نے عورت پر ہاتھ اُٹھایا ہے جو عرب کے طریق کے خلاف تھا،اور پھر بہن پر ہاتھ اٹھایا ہے، حضرت عمرؓ نے بات ٹلانے کیلئے کہا اچھا مجھے بتاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے ؟ بہن نے سمجھ لیا کہ عمرؓ کے اندر نرمی کے جذبات پیدا ہو گئے ہیںاُس نے کہا جاؤتمہارے جیسے انسان کے ہاتھ میں مَیں وہ پاک چیز دینے کیلئے تیار نہیں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا پھر میں کیا
کروں۔بہن نے کہا وہ سامنے پانی ہے نہاکر آؤ۔ تب وہ چیز تمہارے ہاتھ میں دی جاسکتی ہے۔ حضرت عمرؓ نہائے اور واپس آئے۔بہن نے قرآن کریم کے اوراق جو وہ سُن رہے تھے آپ کے ہاتھ میں دئیے۔ چونکہ حضرت عمرؓ کے اندر ایک تغیر پیدا ہو چکا تھا اس لئے قرآنی آیات پڑھتے ہی اُن کے اندر رقت پیدا ہوئی اور جب وہ آیات ختم کر چکے تو بے اختیار انہوں نے کہا کہ اَشْھَدُ اَنْ لَٓا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ یہ الفاظ سن کر وہ صحابیؓ بھی باہر نکل آئے جو حضرت عمرؓ سے ڈر کر چُھپ گئے تھے۔پھر حضرت عمرؓ نے دریافت کیا کہ رسول کریم ﷺ آجکل کہاں مقیم ہیں؟ رسول اللہ ﷺ اُن دنوں مخالفت کی وجہ سے گھر بدلتے رہتے تھے۔ انہوں نے بتا یا کہ آجکل آپ دارِ ارقم میں تشریف رکھتے ہیں۔ حضرت عمرؓ فوراً اسی حالت میں جبکہ ننگی تلوار انہوں نے لٹکائی ہوئی تھی اُس گھر کی طرف چل پڑے۔ بہن کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ شاید وہ بُری نیت سے نہ جارہے ہوں۔ انہوں نے آگے بڑھ کر کہا خدا کی قسم ! میں تمہیں اُس وقت تک نہیں جانے دوں گی جب تک تم مجھے اطمینان نہ دلادو کہ تم کوئی شرارت نہیں کرو گے ۔ حضرت عمرؓ نے کہا میں پکا وعدہ کرتاہوں کہ میںکوئی فساد نہیں کرونگا۔ حضرت عمرؓ وہاں پہنچے اور دستک دی۔ رسول کریم ﷺ اور صحابہؓ اندر بیٹھے ہوئے تھے ، دینی درس ہو رہا تھا۔ کسی صحابیؓنے پوچھا کون؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا۔ عمرؓ! صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ ! دروازہ نہیں کھولنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ کوئی فساد کرے۔ حضرت حمزہؓنئے نئے ایمان لائے ہوئے تھے وہ سپاہیانہ طرز کے آدمی تھے۔ انہوں نےکہا دروازہ کھول دو۔میں دیکھوں گا وہ کیاکرتا ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے دروازہ کھول دیا۔ حضرت عمرؓ آگے بڑھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ عمرؓ! تم کب تک میری مخالفت میں بڑھتے چلے جاؤ گے۔ حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ ! میں مخالفت کیلئے نہیں آیا میں تو آپ کا غلام بننے کیلئے آیا ہوں۔ وہ عمرؓجو ایک گھنٹہ پہلے اسلام کے شدید دشمن تھے اور رسول کریم ﷺ کو مارنے کیلئے گھر سے نکلے تھے ایک آن میں اعلیٰ درجہ کے مومن بن گئے۔ حضرت عمرؓ مکہ کے رئیسوں میں سے نہیں تھے لیکن بہادری کی وجہ سے نوجوانوں پر آپ کا اچھا اثر تھا۔ جب آپ مسلمان ہوئے تو صحابہؓ نے جوش میں آکر نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔اس کے بعد نماز کا وقت آیا اور رسول کریم ﷺ نے نماز پڑھنی چاہی تو وہی عمرؓ جو دو گھنٹے قبل گھر سے اس لئے نکلا تھا کہ رسول کریم ﷺ کو مارے، اُس نے دوبارہ تلوار نکال لی اور کہا یا رسول اللہ ! خداتعالیٰ کا رسول اور اُس کے ماننے والے تو چھپ کر نمازیں پڑھیں اور مشرکین مکہ باہر دندناتے پھریں یہ کس طرح ہوسکتا ہے ۔میں دیکھوں گا کہ ہمیں خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے سے کون روکتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ جذبہ تو بہت اچھا ہے لیکن ابھی حالات ایسے ہیں کہ ہمارا باہر نکلنا مناسب نہیں ۔یہ ایک غیر معمولی انقلاب تھا جو حضرت عمرؓ کے اندر پیدا ہوا اور آناً فاناً آپ شدید دشمن سے اعلیٰ درجہ کے مومن بن گئے۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ140 تا 143، مطبوعہ قادیان 2010)