اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-21

بیشک دنیا میں کئی موجد اور صناع پائے جاتے ہیں مگر اُن کی ایجادات خدائی ایجادات کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتیں

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون آیت13 تا 18 وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
جسمانی خلق کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ۔کیا ہی برکت والا ہے وہ خدا جو سب سے بہتر طور پر مخلوق پیدا کرنیوالا ہے ۔یہی آیت روحانی پیدائش کے ساتھ بھی لگتی ہے۔ یعنی جب انسان روحانیت میں ترقی کرتے کرتے اس مقام کو حاصل کر لیتا ہے تو اسے ایک نئی روحانی پیدائش عطا کی جاتی ہے جو تمام انسانوں کو ایک اچنبھا نظر آتی ہے ۔اور اُسے دیکھ کر ہر شخص خداتعالیٰ کی حمد پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اِس آیت کے ساتھ ایک تاریخی واقعہ بھی وابستہ ہے جس کا یہاں بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کا ایک کاتب وحی تھا جسکا نام عبداللہ بن ابی سرح تھا۔آپ پر جب کوئی وحی نازل ہوتی تو اُسے بلوا کر لکھوا دیتے۔ایک دن آپ یہی آیتیں اُسے لکھوا رہے تھے ۔جب آپ ثُمَّ اَنْشَاْ نٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ پر پہنچے تو اُس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ یہی وحی ہے اسکو لکھ لو۔ اُس بدبخت کو یہ خیال نہ آیا کہ پچھلی آیتوں کے نتیجہ میں یہ آیت طبعی طور پر آپ ہی بن جاتی ہے۔اُس نے سمجھا کہ جس طرح میرے مُنہ سے یہ آیت نکلی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو وحی قرار دے دیا ہے اسی طرح آپ نعوذباللہ خود سارا قرآن بنا رہے ہیں چنانچہ وہ مرتد ہوگیا اور مکہ چلا گیا ۔فتح مکہ کے موقعہ پر جن لوگوں کو قتل کرنیکا رسول کریم ﷺ نے حکم دیا تھا اُن میں ایک عبداللہ بن ابی سرح بھی تھا ۔مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے پناہ دے دی اور وہ آپ کے گھر میں تین دن چُھپا رہا۔ایک دن جب کہ رسول کریم ﷺ مکہ کے لوگوں سے بیعت لے رہے تھے حضرت عثمانؓعبداللہ بن ابی سرح کو بھی آپ کی خدمت میں لے گئے اور اُس کی بیعت قبول کرنے کی درخواست کی ۔رسول کریم ﷺ نے پہلے توکچھ دیرتامل فرمایا مگر پھر آپ نے اُس کی بیعت لے لی۔اور اس طرح دوبارہ اُس نے اسلام قبول کر لیا۔
اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ کے متعلق یہ امر بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس کے یہ معنے نہیں کہ خداتعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے…اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیشک دنیا میں کئی موجد اور صناع پائے جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی ایجاد اور صنعت کا انکی ایجادوں اور صنعتوں سے مقابلہ تو کرو، تمہیں ماننا پڑیگا کہ اُن کی ایجادات خدائی ایجادات کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتیں۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے اللہ تعالیٰ سمیع اور بصیر ہے مگر پھر وہ انسان کے متعلق بھی فرماتا ہے کہ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًا بَصِیْرٍایعنی ہم نے اسے سمیع اور بصیر بنا دیا۔ اب اس کے یہ معنے نہیں کہ انسان خداتعالیٰ کی صفت سمیع اور بصیر میں شریک ہے بلکہ خداتعالیٰ نے جب اسے سننے اور دیکھنے کی قابلیت دی تو مجازی رنگ میں اُسے بھی سمیع اور بصیر کہہ دیا گیاپھر انسان کیلئے صرف سمیع اور بصیر کا لفظ آتا ہے مگر خداتعالیٰ کیلئے اَلسَّمِیْعُ اور اَلْبَصِیْرُ کا لفظ آتا ہے یعنی سُننے اور دیکھنے کے جتنے کمالات ہیں وہ سب اُس میں پائے جاتے ہیں ۔ ورنہ انسان کی سماعت اور بصارت تو اتنی ناقص ہے کہ وہ دور کی بات سُن ہی نہیں سکتا اور نہ اپنی پیٹھ کے پیچھے پڑی ہوئی چیز کو دیکھ سکتا ہے ۔اسی طرح بیشک دُنیا میں اور بھی صناع اور موجد ہیں مگر اُن کی صنعتیں اور ایجادات بالکل بے حقیقت ہیں اور پھر جبکہ وہ خداتعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں سے ہی ایجادات کا سلسلہ قائم رکھے ہوئے ہیں تو اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ بہر حال خداتعالیٰ ہی ہوا۔ کوئی انسان نہ ہو ا۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 139 ، مطبوعہ قادیان 2010)