اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-14

انسان کو چاہئے کہ وہ ہر قسم کے لغو کاموں سے بچے ورنہ اسکی روحانی پیدائش تکمیل تک نہیں پہنچ سکتی

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون آیت 13 تا 17 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
فرماتا ہے کہ جس طرح یہ سات رُوحانی پیدائش کے مدارج ہیں اسی طرح تمہاری جسمانی پیدائش کے بھی مختلف مدارج ہیں ۔سب سے پہلے ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کرتے ہیں یعنی اس غذا سے جو مٹی سے نکلتی ہے جیسے نباتات ، حیوانات اور جمادات وغیرہ یہی حال عالمِ روحانیات کا بھی ہے ۔یعنی جس طرح نطفہ ان غذاؤں کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہیں اسی طرح روحانیت کا بیج بھی اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک انسان کے اندر خشوع و خضوع اور فروتنی کی حالت پیدا نہ ہو اور کِبر اور غرور کا مادہ اُس کے اندر سے نہ نکل جائے۔ پھر جب انسان اس غذا کو کھاتا ہے جو مٹی میں سے نکلتی ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے نطفہ بنا کر ایک ٹھہرنے والی جگہ پر رکھ دیتا ہے جو جسمانی پیدائش کا دوسرا درجہ ہے ۔ روحانی پیدائش میں اس کے مقابل پر وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ کو رکھا گیا ہے اور بتا یا گیا ہے کہ جس طرح نطفہ کی حفاظت کیلئے مختلف قسم کی احتیاطوں کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ اُس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔اسی طرح روحانیت کا بیج بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان ہر قسم کے لغو کاموں سے بچے ورنہ انسان کی روحانی پیدائش تکمیل تک نہیں پہنچ سکتی۔پھر تیسرا درجہ یہ بتایا کہ ہم نطفہ کو علقہ بنا دیتے ہیں یعنی وہ ایک جمے ہوئے لہو کی طرح ہو جاتا ہے۔ رُوحانی درجات میں اس کے مقابل پر وَالَّذِیْنُ ھُمْ لِلزَّکوٰۃِ فَاعِلُوْنَ کو رکھا گیا ہے۔یعنی جس طرح نطفہ علقہ بن جاتا ہے اور رحم سے چمٹ جاتا ہے اسی طرح روحانی ترقی کرنے والا انسان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ بنی نوع انسان کی محبت اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور وہ بنی نوع انسان کی ترقی کیلئے اپنے اموال خرچ کرنے لگ جاتا ہے ۔پھر چوتھا درجہ انسانی پیدائش کا یہ بیان فرمایا کہ جما ہوا لہو ایک بوٹی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یعنی خون کے لوتھڑے میں جو گندگی پائی جاتی ہے وہ اس سے بچ جاتا ہے اس کے مقابلہ میں وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حَافِظُوْنَ کو رکھا گیا ہے ۔یعنی وہ اپنے تمام سوراخوں کی حفاظت کرنے لگ جاتا ہے اور اب اس کا وجود ایک مستقل وجود بن جاتا ہے جو گندگی سے اپنے آپ کو اپنے ارادہ سے محفوظ رکھتا ہے ۔پھر پانچواں درجہ یہ بتا یا کہ بوٹی کے بعد ہڈی جسم میں بننی شروع ہو جاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں رُوحانی درجہ یہ بتایا کہ وہ امانتوں اور عہدوں کی پابندی کرتے ہیں یعنی اُن میں ایسی روحانی سختی پیدا ہو جاتی ہے کہ خواہ انکے پاس کوئی دشمن امانت رکھوائے یا کوئی مخالف قوم انکے ساتھ معاہدہ کرے وہ اس کی پابندی کرتے ہیں ۔کسی قسم کا لالچ یا کمزوری اُن میں پیدا نہیں ہوتی ۔گویا ہر شخص جانتاہے
کہ وہ موقع پر پھر نہیں جائیں گے بلکہ بات کے پکے رہیں گے۔ جسمانی پیدائش کا چھٹا درجہ یہ بتایا کہ ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا جاتا ہے۔اسکے مقابلہ میں روحانی درجہ یہ بیا ن کیا کہ وہ اپنی اور اپنی قوم کی نمازوں کی حفاظت کرتے رہتے ہیں ۔یعنی جس طرح چمڑے کے چڑھ جانے کے بعد بچہ بہت حد تک ضائع ہو جانے سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔اسی طرح وہ لوگ جو اپنی قوم میں خداتعالیٰ کی عبادت کو قائم رکھتے ہیں وہ نہ صرف ذاتی طور پر محفوظ ہو جاتے ہیں بلکہ قومی طور پر بھی محفوظ ہو جاتے ہیں ۔اور بوجہ قوم کے نیک ہو جانے کے وہ بیرونی اثرات سے بھی اُسی طرح محفوظ ہو جاتے ہیں جیسے چمڑے والا انسان بیرونی اثرات سے محفوظ ہوتا ہے۔
جسمانی پیدائش میں ساتواں درجہ یہ بیان فرمایا کہ جب ہڈیوں پرگوشت اور چمڑہ مڑھ دیا جاتا ہے تو ہم اُن کو ایک دوسری پیدا ئش دے دیتے ہیں ۔اور وہ پیدا ہو کر بشر بن جاتے ہیں ۔اس کے مقابلہ میں روحانی کمال کا یہ درجہ بیان فرمایا کہ وہ مر کر ایسے انعامات کے وارث ہوتے ہیں جو سب انعامات کا مجموعہ ہوتے ہیں یعنی جس طرح جسمانیات میں انسان تمام جانوروں کے کمالات کا مجموعہ ہے اسی طرح روحانی انسان مر کر تمام قسم کی نعمتوں کے مجموعہ کو حاصل کر لیتے ہیں ۔اور جس طرح مادی انسان اپنی اور اپنی قوم کی حفاظت پر قادر ہو جاتا ہے روحانی انسان کی روحانی حفاظت کا اللہ تعالیٰ خود ذمہ اٹھا لیتا ہے۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ138 تا 139 ، مطبوعہ قادیان 2010)