اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-07

ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کا پابند ہو، ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نمازوں کو وقت پر ادا کیا کرے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز باجماعت ادا کیا کرے

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون آیت10 وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
چھٹا درجہ ایمان کا یہ ہے کہ نوافل پڑھے جائیں۔یہ نوافل پڑھنے والا گویا خداتعالیٰ کے حضور یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں نے فرائض کو تو ادا کر دیا ہے مگر ان فرائض سے میری تسلی نہیں ہوئی اور وہ کہتا ہے اے خدا میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان فرائض کے اوقات کے علاوہ بھی تیرے دربار میں حاضر ہوا کروں جیسے کئی لوگ جب کسی بزرگ کی ملاقات کیلئے جاتے ہیں تو وہ مقررہ وقت گذر جانے پر کہتے ہیں کہ دو منٹ اور دیجئے۔اور وہ ان مزید دو منٹوں میں لذّت محسوس کرتے ہیں ۔اسی طرح ایک مومن جب فرائض کی ادائیگی کے بعد نوافل پڑھتا ہے تو وہ خداتعالیٰ سے کہتا ہے کہ اب میں اپنی طرف سے کچھ مزید وقت حاضر ہونا چاہتا ہوں۔
ساتواں درجہ ایمان کا یہ ہے کہ انسان نہ صرف پانچوں نمازیں اور نوافل ادا کرے بلکہ رات کو بھی تہجد کی نماز پڑھے۔یہ وہ سات درجات ہیں جن سے نماز مکمل ہوتی ہے ۔اور ان درجات کو حاصل کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ خداتعالیٰ رات کے وقت عرش سے اترتا ہے اور اُس کے فرشتے پکارتے ہیں کہ اے میرے بندو خدا تعالیٰ تمہیں ملنے کیلئے آیا ہے۔اُٹھو اور اس سے مل لو۔
پس ان سات درجوں کو پورا کرنا ہر شخص کے لئے ضروری ہے ۔ ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کا پابند ہو۔ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نمازوں کو وقت پر ادا کیا کرے۔ ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز باجماعت ادا کیا کرے۔ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کو سوچ سمجھ کر اور ترجمہ سیکھ کر ادا کرے۔ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ علاوہ فرضی نمازوں کے رات اور دن کے اوقات میں نوافل بھی پڑھا کرے۔ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ نماز کے اندر محویّت پیدا کرے اور اتنی محویت پیدا کرے کہ رسول کریم ﷺ کے قول کے مطابق یا تو وہ خداتعالیٰ کو دیکھ رہا ہو،یا وہ اپنے دل میں یہ یقین رکھتا
ہو کہ خداتعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے ۔پھر ہر شخص کو چاہئے کہ وہ فرائض اور نوافل اس التزام اور باقاعدگی سے ادا کرے کہ اُس کی راتیں بھی دن بن جائیں۔اسی طرح تہجد کی مناجات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے۔جب تک کوئی شخص اپنی نمازوں کی اس رنگ میں حفاظت نہیں کرتا اُس وقت تک اُسکا یہ اُمید کرنا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرے گا ایک وہم سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔
پھر فرماتا ہے انسان کی روحانی ترقی کا ساتواں درجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کو ایسی جنت کا وارث کر دیتا ہے جو سب جنتوںکا مجموعہ ہے یعنی فردوس ۔فردوس کے معنے عربی زبان میں ایسے باغ کے ہوتے ہیں جو ہر
قسم کے باغوں کا مجموعہ ہو۔پس فردوس کا لفظ استعمال کرکے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جس طرح یہ لوگ سب اعلیٰ درجہ کے رُوحانی خواص اپنے اندر جمع رکھتے ہیں اسی طرح ان کو مقام بھی وہ ملے گا جو تمام خوبیوں کا جامع ہوگا۔اور ھُمْ فِیْھَا خَالِدُوْنَ کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی حفاظت کیا کرتے تھے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اس بات کی نگرانی رکھے گا کہ وہ ان انعامات کے ہمیشہ وارث رہیں اور کبھی ان پر تنزل کی گھڑی نہ آئے۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ136 تا 137 ، مطبوعہ قادیان 2010)