اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-07-24

حقیقی مومن ہر قسم کی نمازیں یعنی فرائض اور نوافل اچھی طرح ادا کرتے ہیں وہ اپنی قوم میں سے ہر ایک کی جسمانی عبادت کی حفاظت کرتے ہیں یعنی یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ اُنکی اولاد اُنکی بیویاں ، اُنکے رشتہ دار اور اُنکے ہمسایہ اور اُنکی سب قوم نماز کی پابند ہے یا نہیں

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون آیت10 وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
یہاں نماز کا لفظ جمع کی صورت میں آیا ہے۔ پس اس سے ایک تو اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ہر قسم کی نمازیں یعنی فرائض اور نوافل اچھی طرح ادا کرتے ہیں اور دوسرے اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی قوم میں سے ہر ایک کی جسمانی عبادت کی حفاظت کرتے ہیں یعنی یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ اُن کی اولاد اُن کی بیویاں ، اُن کے رشتہ دار اور اُن کے ہمسایہ اور اُن کی سب قوم نماز کی پابند ہے یا نہیں کیونکہ جب تک سارے خاندان بلکہ ساری قوم کے اعمال درست نہ ہوں اُس وقت تک انسان کا اپنا عمل بھی خطرہ سے باہر نہیں رہ سکتا۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک شخص صبح اپنے بچے کو نماز کیلئے جگانے لگتا ہے تو اُس وقت فوراً جذباتِ محبت اُس کے سامنے آجاتے ہیں اور دل میں کہتا ہے سخت سردی ہے میں اسے کیوں جگاؤں۔ اگر نماز کیلئے جگایا تو اسے سردی لگ جائے گی۔پھر وہ بیوی کو نماز کیلئے جگانے لگتا ہے تو اس وقت بھی محبت کے جذبات اُس کے سامنے آجاتے ہیں اور وہ کہتا ہے ساری رات یہ بچے کو اُٹھا کر پھرتی رہی ہے۔ اب میں اسے جگاؤں گا تو اس کی نیند خراب ہو جائیگی، بہتر ہے کہ یہ سوئی رہے، نماز پھر پڑھ لے گی۔ غرض کبھی سخت سردی اور کبھی سخت گرمی کا عذر اس کے سامنے آجاتا ہے چھ مہینے اس کے سامنے یہ سوال رہتا ہے کہ سخت سردی ہے ان ایام میں بچہ کو نماز کیلئے کیوں جگاؤں اسے سردی لگ جائیگی اور چھ مہینے اُس کے سامنے یہ سوال رہتا ہے کہ نازک اور پُھول سا بچہ ہے نماز پڑھنے گیا تو اسے گرمی لگ جائیگی۔ پھر کبھی بیوی کو جگاتے وقت یہ خیال آجاتا ہے کہ یہ ساری رات تو بچے کو اٹھائے پھرتی رہی ہے اس لئے بہتر ہے کہ سوئی رہے، نماز پھر پڑھ لے گی۔ غرض قدم قدم پر جذبات اور احساسات اُس کے سامنے آجاتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ اُنکی اصلاح ہوتی ہے اورنہ اس کی اپنی اصلاح مکمل ہوتی ہے ۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔ قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَ اَھْلِیْکُمْ نَارًا۔ یعنی
اے میرے بندو نہ صرف اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچائو بلکہ اپنے اہل وعیال کو بھی آگ سے بچاؤ۔ تمہارا صرف اپنے آپ کو آگ سے بچا لینا کافی نہیں بلکہ دوسروں کو بچانا بھی ضروری ہے کیونکہ اگر دوسرا نہیں بچے گا تو وہ تمھیں بھی لے ڈوبے گا۔ مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ نماز کی پابندی کئی رنگ کی ہوتی ہے۔سب سے پہلا درجہ جس سے اترکر اور کوئی درجہ نہیں یہ ہے کہ انسان بالالتزام پانچوں وقت کی نمازیں پڑھے۔جو مسلمان پانچ وقت کی نمازیں پڑھتا ہے اور اُس میں کبھی ناغہ نہیںکرتاوہ ایمان کا سب سے چھوٹا درجہ حاصل کرتا ہے۔دوسرا درجہ نماز کا یہ ہے کہ پانچوں نمازیں وقت پر ادا کی جائیں جب کوئی مسلمان پانچوں نمازیں وقت پر ادا کرتا ہے تو وہ ایمان کی دوسری سیڑھی پر قدم رکھ لیتا ہے۔پھر تیسرا درجہ یہ ہے کہ نماز با جماعت ادا کی جائے۔باجماعت نماز کی ادائیگی سے انسان ایمان کی تیسری سیڑھی پر چڑھ جاتا ہے۔ پھر چوتھا درجہ یہ ہے کہ نماز کے مطالب کو سمجھ کر ادا کرے۔ جو شخص ترجمہ نہیںجانتا وہ ترجمہ سیکھ کر نماز پڑھے اور جو ترجمہ جانتا ہو وہ ٹھہر ٹھہر کر نماز کو ادا کرے یہاں تک کہ وہ سمجھ لے کہ میں نے نماز کو کما حقہ‘ ادا کیا ہے۔ پھر پانچواںدرجہ نماز کا یہ ہے کہ انسان نمازمیں پوری محویّت حاصل کرے اور جس طرح غوطہ زن سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں اسی طرح وہ بھی نماز کے اندر غوطہ مارے یہاں تک کہ وہ دو میں سے ایک مقام حاصل کر لے۔یا تو یہ کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہو اور یا یہ کہ وہ اس یقین کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔ اس مؤخر الذکر حالت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی اندھا بچہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھا ہو۔اپنی ماں کی گود میں بیٹھے ہوئے اُس بیٹے کو بھی تسلّی ہوتی ہے جو بینا ہو اور اپنی ماں کو دیکھ رہا ہو مگر ماں کی گود میں بیٹھے ہوئے اُس بیٹے کو بھی تسلی ہوتی ہے جو نابینا ہو۔اس خیال سے کہ گو وہ اپنی نابینائی کی وجہ سے ماں کو نہیں دیکھ رہا مگر اُس کی ماں اُسے دیکھ رہی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نماز پڑھتے وقت بندے کو ان دو میں سے ایک مقام ضرور حاصل ہونا چاہئے۔ یا تو یہ کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہو اور یا یہ کہ اس کا دل اس یقین سے لبریز ہو کہ خدا تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے ۔یہ ایمان کا پانچواں مقام ہے اوراس مقام پر بندے کے فرائض پورے ہو جاتے ہیں ۔ مگر جس بامِ رفعت پر اُسے پہنچنا چاہئے اس پر ابھی نہیں پہنچتا۔(باقی)
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ134 تا 136 ، مطبوعہ قادیان 2010)