اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-07-10

رسول کریم ﷺ امانت اور دیانت کے اصول پر سختی سے عمل کرتے تھے صحابہؓ نے رسول کریم ﷺ سے یہ سبق سیکھا اور انہوں نے بھی اس پر ایسی سختی سے عمل کیا جس کی نظیر آج تہذیب و شائستگی کی دعویدار اقوام میں بھی کہیں نظر نہیں آسکتی

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المومنون آیت9 وَالَّذِینَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رٰعُوْنَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
پانچواں درجہ روحانی ترقی کا یہ بتایا کہ مومن اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔یعنی جو امانت اس کے پاس رکھوائی جائے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جو عہد کرتے ہیں خواہ وہ کسی کافر یا دشمن سے ہی کیوں نہ ہو اُسے پورا کرتے ہیں ۔ رسول کریم ﷺ امانت اور دیانت کے اصول پر اتنی سختی سے عمل کرتے تھے کہ تاریخوں میں لکھا ہے جن دنوں اسلامی افواج نے خیبر کا محاصرہ کیا ہوا تھا ایک یہودی رئیس کا گلہ بان جو اُس کی بکریاں چرایا کرتا تھا مسلمان ہو گیا۔اور اُس نے کہا یا رسول اللہ میں اب ان لوگوں میں تو نہیں جاسکتا لیکن میرے پاس اپنے یہودی آقا کی جو بکریاں ہیں ان کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے !رسول اللہ ﷺ نے فرمایابکریوں کا منہ یہودی قلعہ کی طرف کردواور اُن کو ادھر دھکیل دو۔اللہ تعالیٰ خود انہیں ان کے مالک کے پاس پہنچا دے گا۔چنانچہ اُس نے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعہ کے پاس چلی گئیں جہاں سے قلعہ والوں نے اُن کو اندر داخل کر لیا( سیرۃ الحلبیہ جلد 3 ص45) اس واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ امانت کی ادائیگی کا کتنا احساس رکھتے تھے اورکس طرح جنگ کے دوران میں بھی دشمن قوم کے اموال پر بے جا قبضہ کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔موجودہ زمانہ انتہائی ترقی یا فتہ دور کہلاتا ہے مگر آجکل بھی کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ جنگ کے دوران میں دشمن اقوام کے جانور ہاتھ آگئے ہوں تو اُن کو دشمن کی فوج کی طرف واپس کر دیا گیا ہو۔لڑنے والوں کے اموال آجکل جنگ میں حلال سمجھے جاتے ہیں اور لُوٹ کھسوٹ ایک روزمرہ کا کھیل سمجھا جاتا ہے مگر باوجود اس کے وہ بکریاں ایک ایسے شخص کی تھیں جو اسلامی افواج کے مقابلہ
میں بر سرِ پیکار تھا، اور باوجود اس کے کہ ان بکریوں کے قلعہ میں واپس چلے جانے کا یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ مہینوں تک انہیں اپنی غذا کا سامان مہیا ہو جاتا اور لڑائی لمبی ہو جاتی، پھر بھی رسول کریم ﷺ نے یہ برداشت نہ کیا کہ امانت میں خیانت ہو بلکہ آپ نے فرمایا بکریوں کا منہ قلعہ کی طرف کر دو اور انہیں اس طرف کو ہانک دو تا کہ امانت میں خیانت واقع نہ ہو۔اس طرح رسول کریم ﷺ نے اُسے مسلمان ہوتے ہی پہلا سبق یہ دیا کہ جب کوئی امانت تمہارے پاس رکھ دی جائے تو تمہارا فرض ہے کہ انتہائی مشکلات میں بھی اُس کی حفاظت کرو اور جس کی چیز ہے اُسے واپس پہنچاؤ۔صحابہؓ نے رسول کریم ﷺ سے یہ سبق سیکھا اور انہوں نے بھی اس پر ایسی سختی سے عمل کیا جس کی نظیر آج تہذیب و شائستگی کی دعویدار اقوام میں بھی کہیں نظر نہیں آسکتی۔یہ کتنا شاندار نمونہ ہے جو صحابہؓ نے دکھایا کہ حمص جو عیسائیوں کا ایک مرکزی شہر تھا اُس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا اور انہوں نے لاکھوں روپیہ عیسائیوں سے ٹیکس کے طور پر وصول کر لیالیکن جب انہیں جنگی مصلحتوں کے ماتحت اس شہر کو خالی کرنا پڑا تو انہوں نے وہاں کے ذمہ دار افراد کو بلایا اور اُن کا سارا روپیہ اُن کو واپس کردیا اور کہا ہم نے تم سے یہ ٹیکس اس لئے لیا تھا کہ ہم تمھارے جان و مال کی حفاظت کریں گے۔مگر اب چونکہ حالات مخدوش ہو رہے ہیں اور ہم اس شہر کو چھوڑ رہے ہیں اس لئے ہم دیانت و امانت کے اصول کے خلاف یہ بات سمجھتے ہیں کہ تمہارا روپیہ اپنے پاس رکھیں ۔چنانچہ لاکھوں روپیہ ان کو واپس کر دیا گیا۔تاریخ بتاتی ہے کہ اس واقعہ نے عیسائیوں کے قلوب پر ایسا گہرا اثر چھوڑا کہ جب مسلمانوں کا لشکر شہر سے نکلا تو وہ ساتھ ساتھ الوداع کہنے کیلئے چل پڑے۔ اُن کی آنکھوں سے آنسو بہتے جاتے تھے اور وہ کہتے جاتے تھے کہ خدا تمہیں پھر دوبارہ واپس لائے کہ ہم نے تمہارے جیسے نیک حاکم آج تک نہیں دیکھے۔اسی طرح اسلام نے حکومت کو بھی امانت قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ جب یہ امانت تمہارے سپرد ہو تو تم اس میں کبھی خیانت نہ کرو اور ہمیشہ حکومت کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دو جو حکومتی ذمہ داریوں کو پوری دیانت کے ساتھ ادا کرنے والے ہوں اور تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے اس حکم پر بھی انتہائی سختی کے ساتھ عمل کیا ہے۔
گبن یورپ کا ایک مشہور عیسائی مؤرخ ہے ، اُس نے روم کے حالات کے متعلق ایک تاریخی کتاب لکھی ہے ۔وہ اس کتاب میں ملک شاہ کے متعلق جو الپ ارسلان کا بیٹا تھا بیان کرتا ہے کہ ابھی چھوٹی عمر کا تھا کہ اُس کا والد فوت ہوگیا ۔ اُس کے مرنے کے بعد ملک شاہ کے ایک چچا ،ایک چچا زاد بھائی اور ایک سگے بھائی نے بالمقابل بادشاہت کا دعویٰ کر دیااور آپس میں خانہ جنگی شروع ہو گئی ۔نظام الدین طوسی ملک شاہ کے وزیر اعظم تھے اور چونکہ وہ شیعہ تھے انہوں نے ملک شاہ سے درخواست کی کہ آپ میرے ساتھ امام موسیٰ رضا کے مزار پر دُعا کیلئے تشریف لے چلیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس جنگ میں آپ کو کامیاب فرمائے۔ملک شاہ چل پڑا اور اُس نے وہاں دُعا کی جب دعا سے فارغ ہوئے تو ملک شاہ نے نظام الملک طوسیٰ سے پوچھا کہ بتائیے آپ نے کیا دعا کی ہے اُس نے کہا میں نے تو یہ دُعا کی ہے کہ خداتعالیٰ آپ کو فتح بخشے ۔ملک شاہ نے کہا لیکن میں نے تو یہ دُعا نہیں کی ۔میں نے تو یہ دعا کی ہے کہ اے میرے رب!اگر میرا بھائی مسلمانوں پر حکومت کرنے کا مجھ سے زیادہ اہل ہے تو تُو اُسے کامیابی بخش اور میری جان اور میرا تاج مجھ سے واپس لے لے۔اگر میں اس امانت کو زیادہ عمدگی سے ادا کرنے کے قابل ہوں تو پھر تُو مجھے کامیابی عطا فرما۔گبن ایک نہایت ہی متعصب عیسائی مؤرخ ہے مگر اس واقعہ کے سلسلہ میں وہ بے اختیار لکھتا ہے کہ اس مسلمان نوجوان شہزادہ کے اس قول سے زیادہ پاکیزہ اور وسیع نظر یہ تاریخ کے صفحات میں تلاش کرنا نا ممکن ہے اور عیسائیت کے بوڑھے بوڑھے بادشاہ بھی ایسے اخلاق کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ یہ رُوح جو مسلمانوں کے اندر پیدا ہوئی اسی بات کا نتیجہ تھی کہ اسلام نے ان کے دماغوں میں بڑی سختی کے ساتھ یہ بات مرکوز کر دی تھی کہ حکومت بھی ایک امانت ہے اور تمہارا کام یہ ہے کہ تم کبھی کسی امانت میں خیانت نہ کرو۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ131 تا 133 ، مطبوعہ قادیان 2010)