حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 22 کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’تَتَّقُوْنَ میں جہاں ایسے امور سے بچنے کے معنے نکلتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے تعلق کو بگاڑ دیتے ہیں وہاں اس سے ان امور سے بچنے کا بھی اشارہ پایا جاتا ہے جو بندوں کے باہمی تعلقات سے تعلق رکھتے ہیں۔عبادت الٰہی ایسے امور میں غلطی کرنے سے بھی انسان کو بچاتی ہے۔جو شخص خدا تعالیٰ کو اپنا ربّ سمجھنے لگے ضرور ہے کہ وہ اس کے بندوں سے بھی اچھا تعلق پیدا کرے گا اور پھر یہ بھی لازم ہے کہ وہ بندوں پر ظلم نہیں کرے گا کیونکہ جو شخص اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا بندہ بنا لے گا اس کی نظر اپنی سب ضرورتوں کے لئے خدا تعالیٰ پر ہی پڑے گی خصوصاً جبکہ وہ اس کے رب ہونے پر ایمان رکھتا ہو گا۔اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اپنی سب ضرورتوں کا کفیل سمجھے گا وہ بندوں کے اموال پر نظر نہیں رکھ سکتا اور نہ اپنی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے ان کے مالوں میں خیانت کر سکتا ہے نہ ان پر ظلم کر سکتاہے۔پس تَتَّقُوْنَ کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ اگر تم رب کی عبادت اخلاص اور یقین کے ساتھ کرو گے تو آپس کے ظلموں سے بھی بچ جائو گے اور دنیا میں بھی امن قائم ہو گا۔صحابہ کرام اپنے رب کے بندے بن گئے تھے۔دیکھو! ان کی حکومت میں دنیا کو کس قدر امن ملا حتّٰی کہ دشمن تک ان کے نیک سلوک کے معترف ہوئے اور آج تک ابوبکرؓ اور عمرؓ کی حکومت کی یاد لوگوں کے دلوں میں تازہ ہے حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کی حکومت بھی ایسی ہی تھی مگر چونکہ اُن کے بارہ میں اختلاف ہوا ہے میں نے ان کا ذکر نہیں کیا۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 302آن لائن ایڈیشن)