سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج کی آیات 6 اور 7 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
پھر مومن اس سے بھی آگے ترقی کرتے ہیں اور اُس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ اپنے سب سوراخوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی کانوں ، آنکھوں ، منہ اور اپنی شرمگاہوں کی بھی ۔نہ غیبت سنتے ہیں نہ دوسروں کے اموال کو لالچ سے دیکھتے ہیں اور نہ بدکاری کرتے ہیں ۔ہاں اپنی بیویوں سے تعلق رکھنا جائز ہے ۔اسی طرح ایسی عورتوں سے جن کے اُنکے داہنے ہاتھ مالک ہوئے ۔ایسے لوگوں پر مذہبی لحاظ سے کوئی ملامت نہیں ۔
’’داہنے ہاتھ مالک ہوئے‘‘ کی تشریح کے بارہ
میں یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ بعض لوگ تو اس میں نوکرانیوں کو بھی شامل کر لیتے ہیں اور بعض اُن لونڈیوں کو بھی جو چھاپہ مار کر کسی کمزور قوم کے اندر سے زبردستی اغوا کر لی جاتی ہیں اور پھر فروخت کر دی جاتی ہیں اور بعض لوگ ان الفاظ کے یہ معنے لیتے ہیں کہ جو عورتیں جہاد میں حاصل ہوں وہ بغیر نکاح کے گھروں میں رکھنی جائز ہیں لیکن یہ سب معنے غلط ہیں ۔قرآن کریم میں اور احادیث میں نوکروں اور غلاموں کا الگ الگ ذکر ہے ۔اس لئے نوکر اس میں شامل نہیں۔اور غلاموں کے متعلق قرآن کریم صاف طورپر فرماتا ہے کہ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ یعنی کسی نبی کیلئے جائز نہیں کہ وہ کسی پُر امن قوم میں سے مردجنگی قیدی یا عورت جنگی قیدی زبردستی پکڑ لائے جب تک کہ اُس کے اور اسکے دشمنوں کے درمیان خونریز جنگ نہ ہولے۔یعنی یونہی کسی قوم میں سے جو جنگ نہ کر رہی ہو قیدی پکڑنے جائز نہیں جیسا کہ سینکڑوں سال سے حجاز کے لوگ حبشہ سے غلام پکڑ لاتے ہیں یا جیسا کہ گذشتہ صدیوں میں عراق کے لوگ ایران سے یا روم سے یا یونان سے یا اٹلی کے جزیزوں سے غلام پکڑ کر لے آتے تھے۔ ایسی غلامی اسلام میں جائز نہیں ۔ صرف جنگی قیدی پکڑنے جائز ہیں اورجنگی قیدی پکڑنے بھی صرف اس وقت جائز ہیں جبکہ دشمن سے باقاعدہ جنگ ہو جائے اور
ایسے وقت میں بھی یہ حکم ہے کہ جنگی قیدی کا فدیہ لے کر اُسے چھوڑ دو۔ اور اگر اُس کے پاس فدیہ نہ ہو یا اُس کی قوم اس کا فدیہ دینے کو تیار نہ ہو تو پھر حکومتِ اسلامیہ اُسے احسان کے طور پر چھوڑ دے۔(سورۂ محمد رکوع 1) اور اگر احسان کے طور پر چھوڑنا اس کے لئے مشکل ہو تو زکوٰۃ کے روپیہ میں سے اُس کا فدیہ دے کر اُسے چھوڑ دے ( سورۂ توبہ رکوع 8) اور اگر اس میں بھی مشکل ہو تو قیدی کو مکاتبت کا اختیار دیا جائے۔ (سورۂ نُور رکوع 4) مکاتبت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ جنگی قیدی اپنے مالک سے یہ کہتا ہے کہ تم مجھے آزاد کر دو میں محنت اور کمائی کرکے اپنا فدیہ ادا کر دونگا۔اور اس وقت تک اپنی ذاتی تجارتوں وغیرہ میں آزاد سمجھا جاؤنگا۔صرف اسلامی ملک میں رہنے کا وہ پابند ہوتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عورت اوپر کے تمام طریقوں کے باوجود آزاد ہونا نہ چاہے گی تو وہ عورت ایسی ہی ہوگی جو اپنے ملک میں جانا اپنے لئے خطرناک سمجھتی ہوگی اور مسلمان مرد کے پاس رہنے کا جو خطرہ تھا اس کے راستے کھلے ہونے کے باوجود اُن کو استعمال کر نا پسند نہ کرے گی۔اور جو عورت باوجود ہر قسم کی سہولت کے مسلمان گھرانے سے نکلنا پسند نہ کرے گی اس عورت سے جبراً شادی کر لینے کے سوا مسلمان مرد کیلئے کوئی چارہ نہیں کیونکہ اگر وہ آزاد نہ ہوگی اور مسلمان مرد اس سے جبراً شادی نہ کرے گا تو وہ گھر میں اور علاقہ میں بدکاری پھیلائیگی اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔پس آزاد عورتوں اور جنگی عورتوں میں اتنا ہی فرق ہے کہ آزاد عورت کے لئے اپنی مرضی سے نکاح کرنا جائز ہوتا ہے اور وہ عورت جو جنگی قیدی ہو وہ یا تو ان طریقوں سے اپنے آپ کو آزاد کرا لیتی ہے جو اسلام نے اس کے لئے کھلے رکھے
ہیں یا پھرجس گھر میں وہ ہوتی ہے اُس کا کوئی مرد اُس سے شادی کر لیتا ہے تاکہ بدکاری نہ پھیلے اور اگر اس کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے تو پھر وہ آزاد ہو جاتی ہے ۔ پس داہنے ہاتھوں کی ملکیت کے الفاظ سے کوئی شخص دھوکہ نہ کھائے ۔ان الفاظ کے معنی غلامی کے نہیں کیونکہ غلامی اسلام میں جائز نہیں ۔قرآن کریم صاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ جبتک کسی قوم کے ساتھ بھاری جنگ نہ ہو اُس میں سے قیدی پکڑنے جائز نہیں اور پھر انہیں بھی مختلف طریقوں سے آزاد کرنے کا حکم ہے۔ جو زیادہ تر اسلامی حکومت یا کفر کی حکومت یا قیدی کے رشتہ داروں یا خود قیدی کے اختیار میں ہیں۔اور اگر کسی قیدی عورت کے چھڑانے کیلئے نہ تو اسلامی حکومت کوشش کرتی ہے جو کہ غیر جانبدار ہے نہ کافر حکومت کوشش کرتی ہے جو کہ قیدی کی جانبدار ہے ۔نہ اس کے رشتہ دار کوشش کرتے ہیں جن کو سب سے زیادہ اُس کا درد ہے۔اور نہ وہ عورت خود کوشش کرتی ہے جس کو اپنی عزت کا خیال سب سے زیادہ ہو سکتا ہے اور پھر کوئی مسلمان اس عورت سے شادی کرلے تو اس کیلئے یہ راستہ کھلا رکھا جاتا ہے کہ اولاد ہوتے ہی وہ آزاد ہو جائیگی … اب بتاؤ ایسی عورت آزاد ہوئی یا قید۔پہلے تو اس کا قید کرنا کئی طرح ناجائز قرار دیا گیا ۔
پھر اسکی آزادی کیلئے اس کی شادی سے پہلے کئی راستے کھولے گئے۔پھر شادی کے بعد اولاد ہونے پر اُس کو آزاد قرار دیا گیا اور ہمیشہ کیلئے یہ گارنٹی دی گئی کہ اُسے کسی صورت میں بھی فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ (محلَّی ابن حزم جلد9 صفحہ 217) اب بتاؤ کہ کیا دنیا میں کسی آزاد عورت کو اس سے زیادہ حق ہوتے ہیں۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ129 تا 131 ، مطبوعہ قادیان 2010)