سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ المؤمنون آیت نمبر 5 وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّ کٰوۃِ فٰعِلُوْنَ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
رسول کریم ﷺ کو غرباء کی تکالیف کا اتنا احساس رہتا تھا کہ احادیث میں آتا ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا تو رسول کریم ﷺ اتنی کثرت کے ساتھ غرباء میں صدقات تقسیم فرماتے کہ اُسے اگر ایک تیز ہوا سے مشابہت دی جائے تو یہ بھی ایک ناقص مشابہت ہوگی۔اسی طرح ایک دفعہ کچھ اموال آئے جن کو آپ نے غرباء میں تقسیم فرما دیا مگر ایک دینار کہیں غلطی سے رہ گیا اور وہ تقسیم نہ ہو سکارسول کریم ﷺ نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک آپ کو وہ دینار یاد آگیا ۔جب آپ نے نماز ختم کر لی تو بجائے اس کے کہ آپ بیٹھ کر صحابہؓ سے گفتگو فرماتے
آپ جلدی جلدی اندر تشریف لے گئے ۔صحابہؓ کہتے ہیں کہ اس وقت رسول کریم ﷺ میں ایسا اضطراب پایا جاتا تھا کہ آپ ہماری گردنوں پر سے کودتے ہوئے اندر تشریف لے گئے ۔جب واپس آئے تو آپ نے فرمایا کہ اموال تقسیم کرتے کرتے ایک دینار کہیں گر گیا تھا۔مجھے نما ز پڑھاتے ہوئے وہ یاد آیا تو
میرا دل اس خیال سے بے چین ہو گیا کہ اگر میری موت آگئی اور غرباء کا یہ مال میرے گھر میں ہی پڑا رہا تو میں خداتعالیٰ کو کیا جواب دونگا۔ اس لئے میں فوراً اندر گیا اور اسے بھی تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔
اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپ کے پاس صدقہ کی کچھ کھجوریں آئیں۔حضرت امام حسنؓ جو اسوقت چھوٹے بچے تھے اور اُن کی عمر اُس وقت دو اڑہائی سال کی تھی انہوں نے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔رسول کریم ﷺ نے دیکھا تو آپ نے فوراً اُن کے منہ میں انگلی ڈال کر وہ کھجور نکال کر باہر پھینک دی اور فرمایا یہ ہمارا حق نہیں ۔یہ خدا کے غریب بندوں کا حق ہے ۔
ایک دفعہ آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کے ایک صحابی حضرت سعدؓ جو مالدار تھے وہ بعض دوسرے لوگوں پر اپنی فضیلت ظاہر کر رہے ہیں ۔رسول کریم ﷺ نے یہ بات سُنی تو فرمایا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں یہ مال اپنے زور بازو سے ملا ہے؟تمہاری طاقت اور دولت کا اصل ذریعہ غرباء ہی ہیں۔ اس لئے فخر مت کرو اور غرباء کی تحقیر نہ کرو۔
غرض ھُمْ لِلزَّکوٰۃِ فَاعِلُوْنَ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہی لوگ کامیابی حاصل کیا کرتے ہیں جو غرباء کی ترقی کیلئے اپنے اموال خرچ کرتے رہتے ہیں اور اُن کے حقوق کو نظر انداز نہیں کرتے ۔یورپ میں تو مزدوروں نے کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں وہ اپنے حقوق کیلئے جدو جہد کرتے رہتے ہیں لیکن ہمارے ہاں اوّل تو لوگ مزدور کو اس کے حق سے کم دیتے ہیں ۔اور پھر جو کچھ دیتے ہیں وہ بھی وقت پر نہیں دیتے حالانکہ ہمارے مزدوروں کی کمیٹی آسمان پر بنی ہو ئی ہے اور وہ اُن کے حقوق کا تصفیہ کرتی ہے۔مگر اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رہا جس کی وجہ سے لوگ آسمانی کمیٹیوں کے فیصلہ کی تعمیل نہیں کرتے۔اگر خدا تعالیٰ چاہے تو احمدیت کے ذریعہ سے اس کی تعمیل ہونے لگ جائیگی مگر موجودہ زمانہ میں اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نہ صرف مزدور طبقہ کی حق تلفی ہو رہی ہے بلکہ مالکوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ مالکوں کو مزدوروں سے ہی کام لینا پڑتا ہے اور جب ان کے حقوق ادا نہیں ہوتے تو وہ خوش دلی سے کام نہیں کرتے جس کا اثر اس کام پر بھی پڑتا ہے جو ان کے سپرد کیا جاتا ہے۔اور
اس طرح مالک بھی مزدور کی حق تلفی کرکے اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔یورپ میں میں نے دیکھا ہے کہ کوئی شخص چلتا ہوا نظر نہیں آتا۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب لوگ دوڑ رہے ہیں۔ 1924ء میں جب میں
یورپ گیا تو ایک دفعہ میں نے حافظ روشن علی صاحبؓسے پوچھا کہ کیا آپ نے لنڈن میں کسی کو چلتے بھی دیکھا ہے۔انہوں نے کہا ہم نے تو کسی کو چلتے نہیں دیکھا جس کوبھی دیکھا ہے دوڑتے ہوئے دیکھا ہے۔وہاں ہم نے ایک عمارت بنتی دیکھی تو حیرت آگئی کہ کس پھُرتی کے ساتھ مزدور وہاں کام کر رہے ہیں۔ ہمارا مزدور جب اینٹ اُٹھا نے لگتا ہے تو ہاتھوں میں اٹھا کر اور ایک آہ بھر کر ٹوکری میں ڈالتا ہے پھر دوسری اینٹ اٹھاتا اور یہ دکھانے کیلئے کہ وہ کام کر رہا ہے اس طرح پھونک مار مار کر اُس پر سے گرد ہٹاتا ہے کہ گویا اطلس یا کمخواب کا کوئی تھان اس کے سامنے پڑا ہوا ہے ۔کبھی وہ اس کے ایک طرف پھُونک ماریگا اور کبھی دوسری طرف اور بہانہ صرف یہ ہوگاکہ کچھ نہ کچھ دیر لگ جائے ۔پھر آرام سے اٹھتا ہے اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اُسے معمار کے پاس لے جاتا ہے اور جب اس انداز میں وہ دو تین ٹوکریاں اُٹھا لیتا ہے تو اس کے بعد بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے ۔میں حقہ کے دو گھونٹ تو پی لوں مگر انگلینڈ میں یہ بات نہیں۔ وہاںہر شخص دوڑتا ہو انظر آتا ہے اور پھر جس عمارت کا میں نے ذکر کیا ہے وہ جس طرح منٹوں میںمَیں نے اُٹھتی دیکھی اُس طرح گھنٹوں میں بھی ہمارے ملک میں کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوتی۔مگر افسوس کہ اس دفعہ جو میں علاج کیلئے یورپ گیا اور انگلینڈ بھی گیا۔تو مجھے معلوم ہوا کہ انگلینڈ کے لوگوں میں سستی پیدا ہو چکی ہے اور وہ اُس چُستی سے کام نہیں کرتے جس چُستی سے وہ پہلے کیا کرتے تھے ہاں کہنے والے کہتے ہیں کہ امریکہ میں ابھی کچھ چستی موجود ہے ۔
پس غرباء کے حقوق نظر انداز کرنے کا نتیجہ دونوں کے حق میں بُرا نکل رہا ہے۔غرباء میں سستی اور نکمّے پن کی عادت پیدا ہو رہی ہے اور امراء اپنی تجارتوں اور صنعتوں اور کارخانوں اور زمینوں سے صحیح رنگ میں فائدہ اٹھانے سے محروم ہو رہے ہیں ۔پس قومی ترقی کا یہ ایک نہایت اہم اصل ہے کہ غرباء کے حقوق کا خیال رکھا جائے ۔اور امراء اُن کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے اپنے اموال کا ایک حصہ خرچ کرتے رہیں۔ اس طرح دنیوی طور پر بھی وہ ترقی کریں گے اور روحانی رنگ میں بھی اللہ تعالیٰ کی برکات اور اس کے انعامات حاصل کریں گے۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ128 تا 129 ، مطبوعہ قادیان 2010)