اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-29

اسلام نے یہ حکم دے دیا کہ ہر شخص لازماً اپنے اموال کا ایک حصّہ زکوٰۃ کے طور پر ادا کرے تاکہ حکومت اُسے تمام بنی نوع انسان کی ضروریات کیلئے مشترکہ طور پر خرچ کرے

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃُ
المؤمنون آیت نمبر 5 وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّ کٰوۃِ فٰعِلُوْنَ کی تفسیر میں سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
پھر بتایا کہ مومن اس سے بھی ترقی کرکے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیںکہ اپنے اموال غرباء کی ترقی کے لئے ہمیشہ خرچ کرتے رہتے ہیں ۔درحقیقت اسلام اس نظریہ کا حامل ہے کہ دنیا میں جسقدر چیزیں پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب خداتعالیٰ نے بنی نوع انسان کے مشترکہ فائدہ کیلئے پیدا کی ہیں ۔ کسی ایک فرد کے لئے مخصوص نہیں کی گئیں اور چونکہ ہر قسم کی دولت جو دنیا میں حاصل کی جاتی ہے دوسرے لوگوں
کی مدد سے حاصل کی جاتی ہے اور مزدور کی مزدوری ادا کرنے کے بعد بھی دولت مند کے مال میں اُن کا حق باقی رہ جاتا ہے اس لئے اسلام نے زکوٰۃ کا حکم دیا ہے تاکہ انسانی اموال دوسروں کے حقوق کی ملونی سے پاک ہو جائیں ۔مثلاً ایک کان کا مالک اگر ان تمام مزدوروں کو جو کان میں کام کرتے ہیں اُن کی پوری مزدوری بھی ادا کر دے تب بھی وہ جو کچھ ادا کرے گا وہ اُن کی اُجرت ہوگی۔ حالانکہ قرآنی تعلیم کے مطابق وہ لوگ بھی اُس کان میں حصّہ دار تھے ۔پس مزدوری ادا کرنے کے بعد بھی وہ حق ملکیت جو مزدوروں کو حاصل تھا ادا نہیں ہوتا ۔ اُس کی ادائیگی کی ایک صورت یہ ہو سکتی تھی کہ اُن مزدوروں کو کچھ زائد رقم دے دی جاتی مگر اس طرح بھی اُن چند مزدوروں کا حق تو ادا
ہوجاتا جو وہاں کام کر رہے ہیں لیکن باقی دنیا جو اس میں انہی کی طرح حصّہ دار تھی اپنا حق حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی ۔ اس لئے اسلام نے یہ حکم دے دیا کہ ہر شخص لازماً اپنے اموال کا ایک حصّہ زکوٰۃ کے طور پر ادا کرے۔ تاکہ حکومت اُسے تمام بنی نوع انسان کی ضروریات کیلئے مشترکہ طور پر خرچ کرے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر کان جو دریافت کی جائے اس کا 1/5حصہ حکومت کو ملے گا تاکہ اسے غرباء پرخرچ کیا جائے۔اس طرح بھی اسلام نے تمام بنی نوع انسان کا زمین میں جوحصہ ہے اُس کو محفوظ کر دیا ہے ۔اسی طرح ایک زمیندار جو
زمین میں سے اپنی روزی پیدا کرتا ہے گو اپنی محنت کا پھل کھاتا ہے مگر درحقیقت وہ اُس زمین سے فائدہ اُٹھاتا ہے جو تمام بنی نوع انسان کیلئے مشترکہ طورپر بنائی گئی تھی۔پس اُسکی آمد میں سے بھی ایک حصہ لازمی طورپر حکومت کو دلوایا جاتا ہے تاکہ تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کیلئے اُسے خرچ کیا جائے۔یہی حال تجارت کا ہے۔تجارت کرنیوالا بظاہر اپنے مال سے تجارت کرتا ہے لیکن اُسکی تجارت ملکی امن کے بغیر کبھی نہیں چل سکتی اور امن کے قیام میں ملک کا ہر شخص حصہ دار ہوتا ہے پس اسکا حق دلانے کیلئے تجارتی اموال پر بھی اسلام نے زکوٰۃ مقرر کردی تاکہ ان اموال میں جو دوسرے لوگوں کے حق شامل ہیں وہ ادا ہو جائیں اور حکومت ایسے تمام روپیہ کو بنی نوع انسان سے تعلق رکھنے والے مشترکہ امور کی تکمیل اور اُنکی سرانجام دہی کیلئے خرچ کرے۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ127 تا 128 ، مطبوعہ قادیان 2010)