سورۃ المؤمنون آیت نمبر 4 ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ کی تفسیر میں سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اس ضمن میں رسول کریم ﷺ نے یہ حکم دیا ہے کہ مرد زیور نہ پہنیں ۔وہ ریشم استعمال نہ کریں ۔ اسی طرح سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرنے سے رسول کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔ عورتوں کیلئے زیور حرام نہیں ۔ مگر اُن کے لئے بھی عام حالات میں رسول کریم ﷺ نے زیورات کو ناپسند فرمایا ہے ۔گو اس وجہ سے کہ وہ مقامِ زینت ہیں زیورات کا استعمال اُن کیلئے جائز ہے مگر اسلام اس با ت کی اجازت نہیں دیتا کہ زیورات پر اس قدر خرچ کیا جائے کہ ملک کی اقتصادی حالت کو نقصان پہنچ جائے یا انہیں اس قدر زیورات بنواکر دئیے جائیں کہ اُن میں تفاخر کی رُوح پیدا ہو جائے یا اس کے نتیجہ میں لالچ اور حرص کا مادہ اُن میں بڑھ جائے۔اُن کیلئے زیورات کی اجازت ہے مگر ایک حد کے اندر۔لیکن مردوں کیلئے زیورات کا استعمال قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح وہ برتن جو سونے چاندی کے ہوں اُن کا استعمال بھی رسول کریم ﷺ نے ممنوع قرار دیا ہے۔
اس ضمن میں وہ اشیاء بھی آجاتی ہیں جو عام طورپر محض زینت یا تفاخر کیلئے امراء اپنے مکانوں میں رکھتے ہیں ۔ میں نے دیکھا ہے بعض لوگ اپنی کوٹھیوں کی زینت کیلئے ایسی ایسی چیزیں خرید لیتے ہیں جن کا کو ئی
بھی فائدہ نہیں ہوتا ۔ مثلاً بعض لوگ چینی کے پُرانے برتن خرید کر اپنے مکانوں میں رکھ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک بڑی قیمتی چیز خرید ی ہے۔یورپین لوگوں میں خصوصیت کے ساتھ یہ نقص ہے کہ وہ پانچ پانچ دس دس ہزار روپیہ اس قسم کے برتن خرید نے پر صرف کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ وہ برتن ہیں جو آج سے اتنے ہزار سال پہلے کے ہیں یا پُرانے قالین بڑی قیمت پر خرید کر اپنے مکانوں میں لٹکا لیتے ہیں ۔ حالانکہ ویسے ہی قالین پچاس ساٹھ روپیہ میں آسانی سے مل جاتے ہیں لیکن محض اس لئے کہ وہ لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ یہ قالین فلاں بادشاہ کا ہے،یافلاں زمانہ کا ہے وہ بہت کچھ روپیہ اُس کے خریدنے پر برباد کردیتے ہیں ۔ اسلام کے نزدیک یہ سب لغو چیزیں ہیں اور ان میں کوئی حقیقی فائدہ نہیں کیونکہ صرف دولت کے اظہار کیلئے لوگ ان چیزوں کو خریدتے اور اپنے روپیہ کو برباد کرتے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ یورپین لوگوں کو اگر آج پتہ لگے کہ کسریٰ کا قالین اُن کو مل رہا ہے تو شاید اس کیلئے وہ ایک کروڑ روپیہ بھی دیدیں لیکن مسلمانوں کے نزدیک اُس کی اتنی حیثیت تھی کہ ایک جنگ میں کسریٰ نے کہا کہ مسلمان افسر میرے پاس لائے جائیں میں اُن کے ساتھ خود بات چیت کرنا چاہتا ہوں۔ اس پر صحابہؓ کا ایک وفد اُس کے پاس گیا۔ اور ان کے سردار اپنے بھدے جوتوں کے ساتھ قالین پر اپنا نیزہ مارتے ہوئے اُس کے پاس پہنچے۔بادشاہ اُن کی اس حرکت کو دیکھ کر حیران ہو گیااور کہنے لگا آپ لوگوں میں کوئی تمیز ہی نہیں ۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ بادشاہ ہو کر بھی قالین کی عزت کرتا تھا اورمسلمان غریب ہو کر بھی صرف خدا کی عزت کرتا ہے ۔اور کسریٰ کے پاس ہو نے کی وجہ سے قالین اُس کی نظروں میں کوئی عزت نہیں رکھتا تھاوہ صرف اُس چیز کی عزت کرتا تھا جس کی خدا عزت کرتا تھا۔غرض رسول کریم ﷺ نے ان ساری باتوں کو عملاً ناجائز قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ مومن کا یہ کام نہیں کہ ان لغو کاموں میں اپنے وقت کو ضائع کرے اور اس قسم کی بیکار چیزوں پر اپنے روپیہ کو برباد کرے۔
آجکل کے لحاظ سے سینما اور تھیٹر وغیرہ بھی اس حکم کے نیچے آجائیں گے کیونکہ سینما اور تھیٹروں وغیرہ پر بھی ملک کی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ ضائع ہوتا ہے۔یورپ کی آزاد حکومتیں جو اپنی اقتصادی ترقی کیلئے ہمیشہ کوشش کرتی رہتی ہیں ،اُن کی تو یہ حالت ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سنیما اور تھیٹر بناتی ہیں تاکہ وہ لوگ جو سینمائوںکی کمی کی وجہ سے اس تعیش سے محروم ہیں وہ بھی اس میں حصہ لے سکیں اور ان کی دولت اور ان کا وقت
بھی اس پر صرف ہو لیکن اسلام قطعی طور پر اُن تمام چیزوں کو جو بنی نوع انسان کیلئے مفید نہیں بند کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم ان کی اجازت نہیں دے سکتے۔اگر اسلام کے ان احکام پر پوری طرح عمل کیا جائے تو امراء کی ظاہری حالت بھی ایک حد تک مساوات کی طرف لوٹ آئے کیونکہ ناجائز کمائی کا ایک بڑا محرک ناجائز اور بے فائدہ اخراجات ہی ہوتے ہیں۔اس طرح ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ میں اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ حقیقی مومن صرف لغو کاموں سے ہی نہیں بچتے بلکہ لغو خیالات سے بھی بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو لغو خیالات کی عادت ہوتی ہے اُنہی کے دلوں میں نماز پڑھتے وقت قسم قسم کے خیالات آتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے اُن کی توجہ میں انتشار پیدا ہو جاتا ہے ۔اگر وہ لغو خیالات اپنے دل و دماغ میں پیدا ہی نہ کریںاور اگر پیدا ہوں تو اُن کو روکنے کی کوشش کریں توکوئی وجہ نہیں کہ وہ اس میں کامیاب نہ ہوں ۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ کئی لوگ محض شیخ چلی جیسے خیالات کے چکر میں پھنسے رہتے ہیں حالانکہ ان کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا ۔ایسے خیالات جو محض ظنّی اور قیاسی ہوں اُن میں مشغول ہونے کیلئے اپنے نفس کو ہر گز اجازت نہیں دینی چاہئے اس سے ایک اور نقص بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص بیکار خیالات میں اپنے دماغ کو لگا دیتا ہے تو پھر وہ معقول باتوں کی طرف توجہ کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا ۔پس لغو خیالات اور لغو افکار سے اپنے دل و دماغ کو صاف کرکے انہیں اعلیٰ اور مفید خیالات کی طرف متوجہ رکھنا چاہئے تاکہ قوتِ فکر ترقی کرے اور دماغ جو اللّٰہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے وہ ماؤف نہ ہو۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ125 تا 127 ، مطبوعہ قادیان 2010)