اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-05-01

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ کی آیت نے شیعوں کے ان دونوں خیالات کا ردّ کر دیا اس خیال کا بھی کہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لانے والوں کی اکثریت نعوذ باللّٰہ منافق تھی اور صرف اڑہائی آدمی پکے مومن تھے اور اس خیال کا بھی کہ خلافت کے اصل مستحق حضرت علیؓتھےحضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓنے انکا حق غصب کر لیا تھا

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
پھر شیعہ کہتے ہیں کہ خلافت کا اصل حق تو حضرت علیؓکا تھا اور انہی کے متعلق رسول کریم ﷺ نے وصیت بھی فرمائی تھی مگر ابو بکر ؓاور عمر ؓجن کو خلافت کی خواہش تھی انہوں نے حضرت علیؓکا حق غصب کر لیا اور خود خلیفہ بن گئے۔ یہ عقیدہ بھی اوّل تو اس لحاظ سے غلط ہے کہ حضرت علیؓجیسے بہادر اور شجاع انسان کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ ایک امر کو حق سمجھتے ہوئے اور رسول کریم ﷺ کی وصیت کا حامل ہوتے ہوئے اس کے خلاف عمل کرنے والوں کے مقابلہ میں خاموش رہے۔اور رسول کریم ﷺکی وصیت کو انہوں نے پسِ پشت ڈال دیا۔اور عالم ِ اسلام کو تباہی کے گڑھے میں گرتے دیکھ کر بھی کوئی قدم اٹھانا مناسب نہ سمجھا بالکل عقل کے خلاف ہے۔پھر تاریخی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ حضرت علیؓنے حضرت ابو بکرؓ کی بھی بیعت کی تھی اور
پھر حضرت عمرؓ کی بھی بیعت کی تھی اور ان دونوں خلفاء کے ساتھ مل کر وہ کام کرتے رہے بلکہ حضرت عمر ؓنے اپنے زمانۂ خلافت میں بعض سفروںکے پیش آنے پر حضرت علیؓکو اپنی جگہ مدینہ کا امیر بھی مقرر فرمایا۔چنانچہ طبریؔ میں لکھا ہے کہ واقعہ جسر کے موقعہ پر جبکہ مسلمانوں کا ایرانی فوجوں کے مقابلہ میں ایک قسم کی زک اُٹھانی پڑی تھی حضرت عمرؓ نے لوگوں کے مشورہ
سے ارادہ کیاکہ آپ خود اسلامی فوج کے ساتھ ایران کی سرحد پر تشریف لے جائیں اور آپ نے اپنے پیچھے حضرت علیؓکو مدینہ کا گورنر مقرر کیا۔اسی طرح جب مسلمانوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا اور وہاں کے لوگوں نے اُس وقت تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا جب تک کہ خود حضرت عمرؓ وہاں تشریف نہ لائیں، تو اُس وقت بھی حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓکو ہی اپنے بعد مدینہ کا گورنر مقرر کیا تھاحالانکہ آپ کو کئی ماہ کاسفردرپیش تھا۔ اس روایت سے ثابت ہے کہ حضرت علیؓاپنا عندیہ اتنا چھپاتے تھے کہ حضرت عمر ؓ اُن کو اپنے پیچھے گورنر مقرر کر دیتے تھے ۔اور اس بات سے ذرا بھی نہیں ڈرتے تھے کہ پیچھے یہ بغاوت کر دیں گے گویا حق چھپانے کی عادت حضرت علیؓمیں انتہا درجہ کی پائی جاتی تھی۔اگر یہی بات کسی شیعہ عالم کے متعلق کہی جائے تو غالبًا وہ گالیاں دینے لگ جائیگا۔لیکن ایسی گندی بات حضر ت علیؓکی طرف منسوب کرتے ہوئے اور ذرا نہیں شرماتے اور درحقیقت وہ اس طرح حضرت عمر ؓ اور حضرت ابو بکر ؓ کو گالیاں نہیں دیتے بلکہ خود حضرت علیؓکو گالیاں دیتے ہیں ۔بہرحال جو شخص ابوبکر ؓ اور عمرؓ کی غلامی کا جُؤا اپنی گردن پر رکھ لیتا ہے اور اُن کی بیعت میںشامل ہوجاتا ہے اور اُن کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے ۔اُس کی نسبت یہ کہنا کہ وہ دل میں خلافت کو اپنا حق سمجھتا تھا اور حق بھی لیاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ منشائے شریعت کے مطابق ۔ اس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنے بنتے ہیں کہ حضرت علیؓنعوذ باللّٰہ ظاہرکچھ کرتے تھے اور دل میں کچھ رکھتے تھے اور یہ بات حضرت علیؓکی نسبت امکانی طور پر بھی ذہن میں لانا گناہ ہے۔کجا یہ کہ اس کے وقوع پر یقین کیا
جائے۔ پس اوّل تو حضرت علیؓکا طریق عمل خود اس خیال کو باطل کر رہاہے ۔دوسرے قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ کی آیت بھی شیعوںکے اس خیال کی تردید کرتی ہے کیونکہ یہ آیت بتاتی ہے کہ جن مومنوں میں وہ صفات ہو نگی جن کا اللّٰہ تعالیٰ نے اگلی آیات میں ذکر فرمایا ہے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ کیونکہ اَفْلَحَ کے معنے اپنے مقصد اور مدعا کو حاصل کرلینے اور اس میں کامیاب ہو جانے کے ہوتے ہیں ۔ پس اگر حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓکو شیعوں کے نظریہ کے مطابق خلافت کی خواہش تھی اور وہ خلیفہ بن بھی گئے تو صاف طور پر معلوم ہو گیا کہ وہ کامل مومن تھے جن کو اللّٰہ تعالیٰ نے مذہبی اور سیاسی نظام کی باگ ڈور دے دی اور انہیں دُنیا کا راہنما بنا دیا اور یا پھر یہ ماننا پڑیگا کہ رسول کریم ﷺ کی وصیت کے باوجود حضرت علیؓیہی چاہتے تھے کہ ابوبکر ؓ خلیفہ ہو جائیں ۔ میں نہ بنوں سو خدا نے اُن کی اس خواہش کو پورا کر دیا اور حضرت ابوبکرؓ کامیاب ہو گئے ۔لیکن بعد میں حضرت علیؓکے اتباع نے ہی اُن کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔پس قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ کی آیت نے شیعوں کے ان دونوں خیالات کا ردّ کر دیا۔اس خیال کا بھی کہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لانے والوں کی اکثریت نعوذ باللّٰہ منافق تھی اور صرف اڑہائی آدمی پکے مومن تھے اور اس خیال کا بھی کہ خلافت کے اصل مستحق حضرت علیؓتھے ،حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓنے انکا حق غصب کر لیا تھا۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ122 تا 123 ، مطبوعہ قادیان 2010)