سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر79کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ہر انسان کا پہلا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہوتا ہے ۔پس وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بن جاتا ہے وہ مسلم ہوتا ہے کیونکہ وہ خداتعالیٰ کے احکام کے آگے اپنے آپ کو کلیۃً ڈال دیتا ہے اور یہی اسلام کی توضیح او ر اس کی صحیح تشریح ہے۔ دوسرا تعلق انسان کا اپنی ذات اور بنی نوع انسان سے ہوتا ہے ۔ پس جو شخص اپنی ذات کو فتنوں میں پڑنے سے بچا لیتا ہے۔شرارتوں میںپڑنے سے بچا لیتا ہے ۔بد دیانتوں ،خیانتوں اور ظلموں میں پڑنے سے بچا لیتا ہے ،جھوٹ ،فریب،دغا ، بغض اور کینہ سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے، وہ بھی مسلم ہے کیونکہ اُس نے اپنی جان کو سلامتی عطا کی ۔اسی طرح جو شخص اپنی قوم کے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ بھی مسلم ہے ۔جو شخص اپنے ہمسائیوں اور رشتہ داروں کو امن دیتا اور فساد اور خونریزی اُن کیلئے پیدا نہیں کرتا وہ بھی مسلم ہے ۔مگر جو شخص اس کے خلاف عمل کرتا ہے وہ غیر مسلم ہے چاہے وہ رات دن اپنے آپ کو مسلم کہتا رہے کیونکہ نام کے ساتھ کوئی چیز بدل نہیں جاتی ۔ہم دیکھتے ہیں بچے بعض دفعہ ایسی حالت میں جبکہ اُن کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں ہوتی کھیلتے ہوئے دوسرے بچے کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں لو میں تمہیں آم دیتا ہوں، تم کھا لو یا پیسہ دیتا ہوں تم لے لو ۔حالانکہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتا ۔اب بچوں کا ایسا فعل ایک مذاق کے طور پر تو کام آسکتا ہے ۔یہ فائدہ تو ہو سکتا ہے کہ ماں با پ یا بھائی وغیرہ ہنس پڑیں ۔یا جس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ایسا کیا جاتا ہے وہ ہنس پڑے اور سمجھے کہ مجھ سے مذاق کیا گیا ہے لیکن اس سے کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ خیالی طور پر تم کسی کو دنیا کی بادشاہت بھی بخش دو تو اُس کے حالات میں کوئی تغّیر نہیں آئے گا ۔لیکن حقیقی طور پر اگر تم کسی کو ایک پیسہ بھی دے دو تو وہ اُس سے فائدہ اُٹھالے گا۔یہی حال ایمان کا ہے ۔اگر کوئی شخص صرف اسلام کے نام سے کام لے تو وہ دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا ۔لیکن اگر وہ اسلام کے مفہوم کے مطابق تھوڑا سا بھی عمل کر ے تو بہت کچھ فائدہ حاصل کر سکتا اور دوسروں کو بھی حقیقی فائدہ پہنچا سکتا ہے ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ109 تا 110 ، مطبوعہ قادیان 2010)