سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر79کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
خد اتعالیٰ نے اسلام کیلئے بھی ایسا ہی نام چُنا ہے جو اپنے اندر بڑی بھاری خوبیاں اور حکمتیں لئے ہوئے ہے۔چنانچہ جو اسلام کے اصلی حروف یا روٹ ہیں عربی زبان میں جہاں بھی اکٹھے ہونگے وہاں ان کے معنوں میں حفاظت کے معنے ضرور پائے جائیں گے ۔اور پھر یہ حروف جس شکل میں بھی بدلتے چلے جائیں اُن سب صورتوں میں حفاظت کے معنے بدستور پائے جائینگے ۔مثلاً اسلام ہے اس کے معنے فرمانبرداری کے ہیں اور ان معنوں میں حفاظت لازمی طور پر پائی جاتی ہے ۔کیونکہ جب کوئی شخص کسی بڑے آدمی کی فرمانبرداری کرتا ہے اور اس کی بات مان لیتا ہے تو طبعی طور پر وہ اُن تکالیف سے محفوظ ہو جاتا ہے جو اس بڑے آدمی کی طرف سے پہنچ سکتی ہیں ۔اور پھر اُسی کے مال و جان کی حفاظت کی جاتی ہے جو مطیع و منقاد ہو ۔چنانچہ جو لوگ باغی ہو تے ہیں وہ گورنمنٹ کی حفاظت میں نہیں ہوتے بلکہ گذشتہ زمانہ میں تو ایسے لوگ آئوٹ آف لاز کہلاتے تھے ۔اور اُن کو اگر کوئی قتل بھی کر دیتا تھا تب بھی گورنمنٹ کوئی گرفت نہیں کرتی تھی۔ پھر سَلْمٌ ہے ،جس کے معنے آفات اور مصائب سے بچنے کے ہیں ۔اسی طرح سَلَمَ الْجِلْدَ کے معنے ہیں سلم سے چمڑے کی دباغت کر دی۔اور دباغت بھی چمڑے کو گلنے سے بچانے کیلئے کرتے ہیں۔پس اس میں بھی حفاظت کے معنے شامل ہیں ۔ اسی طرح کہتے ہیں سَالَمَہٗ جس کے معنے ہوتے ہیں اس سے مصالحت کی اور صلح کرنے میں بھی حفاظت مدنظر ہوتی ہے ۔اسی طرح کہتے ہیں تَسَلَّمَ الشَّیْئَ فلاں چیز کو اُس نے پکڑ لیا اور اُس پر قبضہ کر لیا اور جب کوئی چیز قبضہ میں آجاتی ہے تو وہ بھی حفاظت میں ہو جاتی ہے۔اسی طرح اِسْتَلَمَ الزَّرْعُ کا محاورہ ہے جس کے معنے ہیں کھیتی نے استیلام کیا ۔یعنی کھیتی میں دانہ پڑ گیا۔اس میں بھی حفاظت کے معنے ہیں کیونکہ جب تک کھیتی میں دانہ نہ پڑے اُس وقت تک کسان اُس پر مطمئن نہیں ہوتا اور جب دانہ پڑ جائے تو پھر ایک حد تک وہ اُسے محفوظ خیال کرتا ہے ۔پھر سَلَامٌ خدا کا نام ہے جو ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک ہے۔پھر اشتقاق کے لحاظ سے آگے چلیں تو اشتقاق کبیر میں سَلْمکا لفظ سَمَلْ بن جائیگا جس کے معنے صلح کرانے اور حوض سے گند نکال کر صاف کرنے کے ہیں ۔ لَمْسٌ چُھونے کو کہتے ہیں ۔اس میں بھی حفاظت کے معنے شامل ہیں کیونکہ وہ تمام باتیں جن کو انسان محفوظ کرتا ہے اپنے حواس سے ہی کرتا ہے جن میں سے ایک لمس بھی ہے ۔ پھر مَسَلَ الْمَائُ کے معنے ہوتے ہیں پانی بہ پڑا ۔جب پانی بہ کر کھیتی میں پہنچتا ہے تو کھیتی کی حفاظت کرتا ہے اور اُسے خشک ہونے سے بچاتا ہے ۔اسی طرح لَسْمٌ ہے۔ اس کے معنے چُپ رہنے کے ہیں اور یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ ’’ نِکلی ہونٹوں چڑھی کوٹھوں ۔‘‘ حفاظت اور امن جو خاموشی میں نصیب ہوتا ہے اُس کو ہر ایک جانتا ہے ۔ مَلْسٌ مداہنت کو کہتے ہیں اور مداہنت کی غرض ہمیشہ یہی ہوتی ہے کہ کسی شخص کے شر سے چکنی چپڑی باتیں کرکے انسان محفوظ ہو جائے ۔ غرض یہ تینوں حروف آگے پیچھے ہو کر جس طرح بھی آئیں عربی زبان میں ان کے معنے حفاظت کے ہی ہوتے ہیں ۔پس اسلام کے معنے یہ ہوئے کہ ایسے افعال بجا لانا جن سے انسان ہلاکت سے محفوظ ہو جائے ۔گویا اس نام میں ہی اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی غرض بتا دی ہے جو یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب سے محفوظ ہوجائیں اور آپس کے لڑائی جھگڑوں سے نجات پا جائیں ۔یعنی ایک طرف تو ان کا اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم ہو جائے اور دوسری طرف وہ بنی نوع انسان سے ایسا اچھا سلوک رکھیں کہ اُن میں باہم محبت اور یگانگت پیدا ہو جائے اور فتنہ و فساد دنیا سے مٹ جائے ۔اور ایک سچا مذہب انہی دو اغراض کا حامل ہوتا ہے ۔یعنی ایک طرف تو وہ تعلق باللہ کے پہلو کو مضبوط کرتا ہے اور دوسری طرف وہ شفقت علیٰ خلق اللہ کی طرف بنی نوع انسان کو توجہ دلاتا ہے ۔اور جب اس کی تعلیم کے نتیجہ میں لوگوں کا خدا تعالیٰ سے بھی تعلق ہو جائے اور بنی نوع انسان سے بھی وہ شفقت کرنے لگیں تو نہ خداتعالیٰ کی طرف سے انہیں کسی ناراضگی کا ڈر ہو سکتا ہے اور نہ بنی نوع انسان کی طرف سے انہیں کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔اور اس طرح وہ روحانی اور جسمانی دونوں رنگ میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ غرض اس نام میں ہی اللہ تعالیٰ نے مذہب کی ساری حقیقت بیان کر دی ہے ۔اور بتا یا ہے کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس میں خداتعالیٰ کے حقوق بھی کامل طور پر ادا کئے گئے ہیں اور بنی نوع انسان کے حقوق کا بھی اس میں پورا لحاظ رکھا گیا ہے ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ108 تا 109 ، مطبوعہ قادیان 2010)